• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروٹیک... تعمیراتی صنعت کے فروغ میں ٹیکنالوجی کا کردار

چوتھے صنعتی انقلاب کی آمد کے ساتھ، صنعتی ٹیکنالوجیز میں مسلسل بہتری آرہی ہے اور خوش قسمتی سے تعمیراتی صنعت بھی اس سے مستفید ہورہی ہے۔ تاہم، تعمیراتی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی حالیہ بہتری صرف تعمیراتی آلات تک محدود نہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز روابط، تجزیات اور اس سے بھی آگے کئی ذیلی شعبہ جات میں تیزی سے بہتری لارہی ہیں، جس کے بعد اس تصور کی بھی نفی ہورہی ہے کہ اس شعبے میں ٹیکنالوجی میں بہتری صرف بھاری آلات تک محدود ہے۔ دراصل، تعمیراتی شعبے میں متعارف ہونے والی نئی ٹیکنالوجیز، اس شعبے میں روابط میں بہتری لارہی ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز، سائٹ سے لے کر ہوم آفس اور یہاں تک کہ بورڈ روم کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہیں۔

درج ذیل ٹیکنالوجیز 2021ء اور آنے والے برسوں میںتعمیراتی صنعت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لاسکتی ہیں۔

بلڈنگ انفارمیشن ماڈل (BIM)

بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ سوفٹ ویئر پروگرامز، تعمیراتی منصوبے کو 2-ڈی (ٹو ڈائمینشنل) ڈرائنگ اور کمپیوٹر ڈیزائن سے بڑھ کر ڈیجیٹل فارمیٹ میں ڈیزائن کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ یہ سوفٹ  ویئر، آرکیٹیکٹ سے لے کر انجینئر اور بلڈنگ منیجر تک، تمام پروفیشنلز کو تعمیراتی منصوبے پر اشتراک میں کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

پری فیبریکیشن

یہ 2021ء کی نئی ٹیکنالوجی تو نہیں ہے، تاہم اس میں لائی جانے والی بہتری اس کے فوائد کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔ پری فیبریکیشن ٹیکنالوجی شمالی امریکا اور یورپ میں زبردست پذیرائی حاصل کررہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پانچ مزدور محض چند روز میں ہسپتال کے سیکڑوں باتھ روم نصب کرسکتے ہیں۔

3D پرنٹنگ

تعمیرت میں تھری ڈی پرنٹنگ متعارف کرانے کا مقصد کسی بھی پروجیکٹ کے تصوراتی مرحلے میں لاگت کو کم کرکے بہترین نتائج حاصل کرنا تھا۔ پہلے مرحلے میں تھری ڈی کی مدد سے پروجیکٹ ڈیزائن کی تیاری کی جاتی تھی، جب کہ اب اس ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیراتی منصوبوں کی باقاعدہ پرنٹنگ بھی کی جارہی ہے۔ تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے یورپ اور امریکا سے لے کر خلیج کی ریاست متحدہ عرب امارات تک کئی عمارتیں اور رہائشی منصوبے پرنٹ یعنی تعمیر کیے جاچکے ہیں۔ 

اب کئی تعمیراتی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل رہائشی منصوبے شروع کررہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تعمیراتی شعبے میں تھری ڈی پرنٹنگ کے لیے اَن گنت مواقع موجود ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا کے ان خطوں میں بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جہاں تعمیراتی لاگت بہت زیادہ ہے اور گھرکا حصول آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے خواب ہی رہتا ہے۔ موبائل اور کلاؤڈ بیس رکھنے والی تعمیراتی کمپنیوں کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ ایک شاندار موقع ہے۔

گرین اور جدید تعمیراتی سازوسامان 

پرانے سازوسامان کو پھر سے قابلِ استعمال بناکر تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال کرنے کا آغاز 1960ء کے عشرے سے ہوچکا تھا۔ اور آج کئی دہائیوں بعد تعمیراتی اداروں کے لیے گرین کنسٹرکشن ایک پرکشش اور منافع بخش سرمایہ کاری بن چکی ہے۔ گرین اور جدید تعمیراتی سازوسامان کو روایتی اسفالٹ اور کنکریٹ مٹیریل کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے، جس سے اس تعمیراتی منصوبے کی افادیت، اور پائیداری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سولر اور وِنڈ ٹیکنالوجی بھی اب تیزی سے تعمیراتی صنعت میں شامل ہورہی ہے۔

ویئرایبل اور موبلیٹی

ماہرین کے مطابق، دیگر صنعتوں کی طرح تعمیرات کی صنعت میں بھی ’کنیکٹویٹی‘ سب سے بڑا ’ایفیشنسی ڈرائیور‘ ہے۔ موبائل اور کلاؤڈ بیسڈ سسٹم، مختلف مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں، سپروائزرز، پروجیکٹ انجینئرز اور آرکیٹیکٹس، فائنانسرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ریئل ٹائم میں تعمیراتی منصوبے کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان سسٹمز کے ذریعے اب ممکن ہوگیا ہے کہ دفتر اور سائٹ پر کام کرنے والے ماہرین اور ہنر مندوں کے درمیان بے خلل رابطہ قائم ہوسکتا ہے۔ 

اس کا ایک اور مطلب پروجیکٹ کے اہم اعدادوشمار کا بروقت حصول اور اس کی روشنی میں تجزیہ اور ضروری جوابی کارروائی عمل میں لانا بھی ہے۔ ویئرایبلز کے باعث پروجیکٹ پر کام کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین ریئل ٹائم میں رابطہ ممکن ہوگیا ہے اور ہر چیز کی بروقت اور مؤثر جواب دہی کی جاسکتی ہے۔

آگمینٹڈ ریالٹی

تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے تمام افراد کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے آگمینٹڈ ریالٹی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کی مدد سے ورکرز کسی بھی مسئلے کا بروقت اور درست تجزیہ کرتے ہوئے مؤثر حل نکال سکتے ہیں۔ آگمینٹڈ ریالٹی کی درجنوں ایپلی کیشنز دستیاب ہیں۔ تعمیراتی کمپنیاں ان ایپس کو فیلڈ سروس اور دیگر اُفقی کاموں کے لیے استعمال میں لارہی ہیں۔

ورچوئل ریالٹی

اگر آپ نئے منصوبوں کو سائٹ پر شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیسے نظر آئیں گے تو اس کے لیے ورچوئل ریالٹی آپ کی خدمت میں حاضرہے۔ منصوبے کا تعمیری عمل شروع ہونے سے پہلے کے مرحلے میں اب ورچوئل ریالٹی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کی مدد سے آپ کم سرمایہ کاری میں منصوبے کو اس کی اصل شکل میں دیکھ اور اس میں تبدیلیاں تجویز کرسکتے ہیں۔ 

اس طرح ڈیزائن کے مرحلے میں ہی منصوبے کے تمام نقائص کو ختم کیا جاسکتا ہے، جن کی نشاندہی اگر تعمیر اتی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کی جائے تو لاگت میں قابلِ ذکر اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے علاوہ، روبوٹکس، کلاؤڈ بیسڈ ٹولز، پرِیڈیکٹیو اینالیٹکس اور بزنس انٹیلی جنس جیسی ٹیکنالوجیز کا کردار بھی تعمیراتی صنعت میں بڑھ رہا ہے۔

بلاک چین

بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال اب تعمیراتی صنعت میں بھی بڑھ رہا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں بلاک چین استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ایک منصوبے کے تصور کو ڈیزائن کی صورت میں لانے سے لے کر اس کی ڈیلیوری تک، ہر مرحلے پر کنٹریکٹ اور مڈل مین کی کئی تہوں کو ختم کیا جاسکتاہے۔ کنٹریکٹنگ اور پروکیورمنٹ کے موجودہ روایتی پراسیس، انفرااسٹرکچر منصوبے کی تکمیل کے عمل کو سست کرنے کا باعث ہیں۔ 

بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے، مڈل مین کے کردار کو ختم کرتے ہوئے سپلائرز، شپنگ کمپنی یا انسٹالر کو براہِ راست ادائیگیاں کی جاسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہر کام کے لیے علیحدہ علیحدہ کنٹریکٹس اور درمیانی پارٹیوں کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔