• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ پولیس میں سب لوگ آپس میں ملے ہوئے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ نے چوری اور اسٹریٹ کرائمز میں ملوث پنجاب پولیس کے اہلکار شاہد نذیرکی سروس پر بحالی کی اپیل مسترد کردی ہے جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں سے ان کے دوسرے پیٹی بھائی بھی ملے ہوئے ہیں۔

پولیس کا ادارہ کس حال کو پہنچ چکا ہے،کیا ریاست کا کام صرف مقدمات درج کر کے اپنا اور دوسروں کا مذاق بنانارہ گیا ہے؟ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس مظہر پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز ایس ایس پی (آپریشن ) لاہور کی سروس ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل کی سماعت کی تو فاضل چیف جسٹس نے استغاثہ اور پنجاب پولیس کی جانب سے ملزم کیخلاف فوجداری مقدمات کی پیروی نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ پنجاب پولیس اور استغاثہ نے پولیس اہلکار کیخلاف درج مقدمات میں اسے سزا دلوانے کیلئے مقدمات کے مدعیوں سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کا کام تھا کہ مدعیوں کو تحفظ فراہم کرکے مقدمات بحال کراتی لیکن پولیس والوں کی اپنے پیٹی بھائی کو سزا دلوانے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی، انہوں نے مزید کہاکہ محکمہ پولیس میں سب لوگ ہی آپس میں ملے ہوئے ہیں،کیا ریاست کا کام صرف مقدمات درج کر کے اپنا اور دوسروں کا مذاق بنانارہ گیا ہے؟ 

پولیس اہلکار کے وکیل نے سروس معطلی کی سزا کالعدم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ان کے مو کل کیخلاف درج مقدمات ختم ہوچکے ہیں،تاہم عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ ان مقدمات میں مدعیوں کے پیش نہ ہونے کی بناء پر مقدمات داخل دفتر ہوچکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم شاہد نذیر سے موبائل، نقدی اور زیورات برآمد ہو ئے تھے جبکہ یہ چوری اور پرس چھیننے کی وارداتوں میں بھی ملوث رہاہے ۔

انہوں نے بتایا کہ شاہد نذیرکیخلاف مجموعی طور پر 14 مقدمات درج ہوئے تھے تاہم اس کیخلاف چارج شیٹ میں کل 8 مقدمات کا ذکر ہے۔

تازہ ترین