• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعد رضوی کی رہائی، سپریم کورٹ نے کیس دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیج دیا

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)سپریم کورٹ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی کا معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھجواتے ہوئے کیس کی از سر نوسماعت کے لئے خصوصی ڈویژن بنچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم جاری کیا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ یہ کیس خود دیکھے، اس معاملہ کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منگل کے روز سعد رضوی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل کی سماعت کی تو حکومت پنجاب کے لاء افسر نے ہائی کورٹ کے سعد حسین رضوی کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ سعد رضوی کی کال پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے واقعہ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد موت کے منہ میں پہنچ گئے ہیں ،انکا کہنا تھا کہ سعد رضوی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا تھا اور ان کی نظر بندی میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ سے رجوع کیا گیا تھا لیکن فاضل بورڈ نے نظر بندی میں مزید توسیع کی درخواست مسترد کردی تھی ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے فاضل لاء افسر سے استفسار کیا کہ کیا انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت نظر بندی کا کوئی گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا؟جس پر انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نظر بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ،دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل نے صوبائی حکومت کی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ حکومت کے پاس 90 دن کے بعد نظر بندی کی توسیع کا اختیار ہی نہیں ہے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ فریق مخالف کو پر تشدد واقعات سے انکار نہیں ہے،جو ماضی میں ہوا اسے مانتے ہیں کہ ایسا ہواہے۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ اس کیس کو خود یکھے، اس معاملہ کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا ہے ،دونوں فریقین کی جانب سے کیس کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا، ماضی میں جو واقعات ہوئے ہیں کیا آپ انہیں مانتے ہیں تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہنگامہ آرائی سے سعد رضوی کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے کیونکہ جب ہنگامہ ہواتووہ پولیس کی حراست میں تھے۔انہوں نے کہاکہ سعد رضوی بغیر کسی وجہ کے چھ ماہ سے جیل میں بند ہیں۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے اپیل نمٹا دی۔

تازہ ترین