• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کیخلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ میں 200 بچے شہید ہوئے: یونیسیف

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔

یونیسیف نے جاری کیے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ایران امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایران میں بچوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش ہے، ایران پر امریکا اسرائیل جنگ میں کم از کم 181 بچے ایران، 7 بچے لبنان اور ایک کویت میں شہید جبکہ 3 اسرائیل میں مارے گئے۔

یونیسف نے کہا ہے کہ بچے جنگیں شروع نہیں کرتے لیکن وہ ناقابلِ قبول حد سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جنگ اور تشدد کے اثرات بچوں، خاندانوں اور معاشروں کو نسلوں تک متاثر کرتے ہیں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بچوں اور اسکولوں کو تحفظ حاصل ہے، مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی نے پہلے ہی بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہوئے ہیں۔

یونیسیف نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان پہنچنے سے بچوں کی تعلیم اور صحت کی سہولتیں متاثر ہو رہی ہیں، تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، یونیسف متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی امدادی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایران کے دیگر اسکولوں پر حملوں میں مزید 12 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، ایران میں کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال حملوں میں متاثر ہوئے ہیں، مناب میں شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر حملے میں 168 طالبات جاں بحق ہوئیں۔

حملے کے وقت اسکول میں کلاسز جاری تھیں، جاں بحق ہونے والی طالبات کی عمر 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید