• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی افریقی نوجوانوں کو دھوکے سے روس یوکرین جنگ پر بھیجے جانے کا انکشاف

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

جنوبی افریقا کے شہر ڈربن واپس آنے والے متعدد نوجوانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی ٹریننگ اور ملازمت کے نام پر روس بلایا گیا اور بعد ازاں یوکرین جنگ کے محاذ پر بھیج دیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ سپھو دلامینی کے مطابق روس پہنچنے کے بعد ان سے کپڑے، دستاویزات اور ذاتی سامان تک جلوا دیا گیا، اُنہوں نے بتایا کہ شروع سے ہی حالات انتہائی سخت تھے اور ہمیں جنگ کے لیے تیار کیے بغیر اگلی صفوں میں بھیج دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا کے 20 سے 39 سال کے درمیان درجنوں نوجوانوں کو گزشتہ سال روس بھیجا گیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ انہیں وی آئی پی باڈی گارڈ کی تربیت کا وعدہ کیا گیا تھا مگر بعد میں انہیں ایک نیم فوجی گروپ کے تحت یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس میں لڑنے پر مجبور کیا گیا۔

اس معاملے میں جنوبی افریقا کے سابق صدر جیکب زوما کی بیٹی دودوزیلے زوما سمبودلا کا نام بھی سامنے آیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کی بھرتی میں کردار ادا کیا۔

اس اسکینڈل کے بعد وہ پارلیمنٹ کی نشست سے مستعفی ہو گئی ہیں جبکہ پولیس نے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے افریقی جنگجوؤں کو سب سے خطرناک مشنز پر بھیجا اور ان کے ساتھ نسلی امتیاز بھی برتا گیا، بعض افراد کو ڈرون حملوں کے دوران زخمیوں اور لاشوں کو اٹھانے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔

جنوبی افریقی حکومت کے مطابق 15 شہریوں کو روس سے واپس لایا گیا ہے جبکہ 2 افراد جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں، 1 زخمی شخص وہیل چیئر پر وطن لوٹا ہے جبکہ 1 کا پیر ڈرون حملے میں ضائع ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطہ کر کے شہریوں کی واپسی ممکن بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس کی نجی فوجی کمپنی Wagner Group پر الزام ہے کہ اس نے افریقی ممالک میں بھرتی مہم چلائی اور نوجوانوں کو نوکری، تربیت یا یورپ پہنچنے کے وعدوں کے ذریعے جنگ میں شامل کیا۔

رپورٹس کے مطابق 36 افریقی ممالک کے کم از کم  1400 سے زائد افراد روسی افواج کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے جن میں گھانا، کینیا، زمبابوے اور جنوبی افریقا کے شہری بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا میں اس معاملے پر تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر بھرتی کرنے والے افراد کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور غیر ملکی جنگ میں شرکت کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید