• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے باوجود سڑک بند کرنے پر مزید گرفتاریاں

لندن (پی اے) ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے باوجود Insulate Britain کے ارکان کی جانب سے 13 ویں مرتبہ سڑک بند کرنے پر مزید افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح اسیکس کے ایک مصروف صنعتی علاقے میں مظاہرین اور غصے میں بھرے کار سواروں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں، کم وبیش 20 مظاہرین نے سینٹ کلیمنٹس وے اور لندن روڈ کے چوراہے کو بند کردیا تھا، جس کی متعدد گاڑیوں اور بھاری مال بردار ٹرکس کو رکنے اور راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ گاڑیاں ہان بجاتی رہیں اور لوگ مظاہرین سے، جو سڑکوں پر لیٹے ہوئے تھے، نمٹنے کیلئے گاڑیوں سے باہر نکل آئے، ان میں سے بعض کو گھسیٹ کر سڑک سے ہٹایا گیا لیکن وہ فوراً ہی واپس آگئے، جس کی وجہ سے پریشان ڈرائیوروں کو انھیں دوبارہ وہاں سے ہٹانا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تھرراک میں ایم 25 کی سڑک بند کئے جانے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لوگوں کو گرفتار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹریفک میں پھنسے لوگوں کیلئے یہ بہت ہی پریشان کن بات ہے لیکن ہم لوگوں کے صبر اور معاملات کو سمجھنے کی تعریف کرتے ہیں۔ Insulate Britain ماحولیات کے حوالے سے مہم چلانے والے گروپ Extinction Rebellion کی ایک شاخ ہے اور وہ 13 مرتبہ اس طرح کے مظاہرے کرچکی ہے۔ ہائیکورٹ اس گروپ کو ٹریفک میں خلل میں ڈالنے سے روکنے کیلئے ٹرانسپورٹ فار لندن کو حکم امتناع دے چکا ہے، جس کا اطلاق لندن کے 14 مقامات پر ہوتا ہے۔ منگل کو اس حکم امتناع میں اگلے مہینے کے آخر تک کی توسیع کردی گئی، جس کے بعد گروپ کے ارکان نے عدالت کے باہر اس فیصلے کی کاپیاں نذر آتش کردی تھیں۔ گرفتاریوں اور مسافروں کے شدید ردعمل کے باوجود گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے ان کی کارروائی کی تعریف کی ہے۔ گروپ کی ایک حامی ڈاکٹر ڈیانا وارنر نے دعویٰ کیا کہ بہت سے لوگوں نے راستے میں انھیں مبارکباد دی۔ بعض لوگوں نے کار میں آکر مبارکباد دی۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کیلئے ہم امید کی کرن ہیں، ہم نے ابھی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور ہم زندگی بچانے والی تبدیلیوں کیلئے دبائو ڈالتے رہیں گے۔

یورپ سے سے مزید