• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی پائلٹ لائسنس کیلئے 7 سے 8 لاکھ لئے جاتے تھے، شہری ہوا بازی

اسلام آباد (وقائع نگار ،جنگ نیوز) پاکستان سول ایوی ایشن حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کو بتایا ہے کہ پائلٹس کے جعلی لائسنس بنانے کیلئے سات سے آٹھ لاکھ روپے وصول کیے جاتے تھے۔ سینیٹر ہدایت اللہ کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں ہوا جس میں سول ایوی ایشن کے حکام نے پائلٹس کے جعلی لائسنسز کے حوالے سے بریفنگ دی ، حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’2010 کے بعد پائلٹس کے لائسنسنگ کا ٹیسٹ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا جس میں کچھ تکنیکی خامیاں موجود تھیں، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھٹی والے دن گھر بیٹھ کر یا کسی اور کی جگہ ٹیسٹ دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اجلاس میں پی آئی اے کی کارکردگی اور اس کے ذمہ ورثہ میں ملے ہوئے قرضوں ،کور ونا کی وجہ سے مختلف ممالک میں پروازوں پر پابندی ، پی آئی اے کی آمدنی اور نقصانات کے بارے میں پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی ، یورپی یونین کی طرف سے پابندی ہٹانے میں تاخیر آڈٹ میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی ہے ، یورپی یونین کے لیے پروازوں کی بحالی کا عمل تصدیق کے آڈٹ کے بعد ہوگا،خاتون کو حراسمنٹ کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے کمیٹی کے ہدایت پر عمل نہ ہونے کا نوٹس لیا ، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے احکامات پر کوئی سٹے آرڈر جاری نہیں کیا جا سکتا ، مجھے اس کے خلاف 6 شکایات ہیں اور وہ اب بھی ہر سہولت کے ساتھ اپنے عہدے پر بیٹھا ہے ، پی آئی اے حکام نے وضاحت کی کہ وہ اس اہلکار کا دفاع نہیں کر رہے ہیں تاہم وہ خود اپنے دفاع میں عدالتوں میں گیا ہے اور حکم امتناعی حاصل کیا ہے ، وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا اور عہدیدار کو اگلے اجلاس سے پہلے واپس بھیج دیا جائے ۔

اہم خبریں سے مزید