• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال:۔ دورِ حاضر انٹر نیٹ کا ہے ،اگر درج ذیل شرائط پوری کی جائیں ،تو کیا اس کی کمائی جائز ہے ؟

۱۔جداجدا کیبن بناکر مرد و زن کے اختلاط کو روک دیاجائے ۔۲۔ایسی فلمیں جو جنسی جذبات کو ابھارنے کا باعث بنیں، نیزاَخلاق سوز مواد بلاک کردیا جائے ۔۳۔مناسب معاوضہ رکھاجائے ۔دینی و دنیوی معاملات اور معاشی استحکام کے لیے انٹر نیٹ سے مفیدکام لیاجاسکتا ہے ،رہنمائی فرمائیں۔(ایم مبشر حسین اعوان ،گاؤں بلاوڑہ ،تحصیل کوٹلی )

جواب: شریعتِ مُطہرہ میں کسبِ حلال کی تاکید اور اہمیت بہت زیادہ بیان کی گئی ہے ۔حدیث پاک میں ہے :

(۱)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’ آدمی کی اِس سے بہتر کوئی کمائی نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرکے کھائے ،وہ جو کچھ اپنی ذات ،اپنے اہلِ خانہ ،اپنی اولاد اور اپنے خادم پر خرچ کرتا ہے ،وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘‘۔(سنن ابن ماجہ :2138)

(۲)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’کسی شخص نے کوئی کھانا اِس سے بہتر نہیں کھایا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کماکر کھائے ،اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کماکر کھایا کرتے تھے‘‘۔(صحیح بخاری :2072)

دورِ حاضر کی نئی ایجادات فی نفسہٖ بری نہیں ہیں بلکہ اُن کا استعمال اُنہیں اچھا یا برا بناتا ہے ۔انٹر نیٹ ،موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کے مزید وسائل بھی اپنے استعمال کی مناسبت سے اچھے یا برے شمار کیے جاسکتے ہیں ۔موبائل کا استعمال ضرورت، فوری اور بروقت رابطے میں آسانی اور وقت کی بچت کے لیے ہو تو اس کے فوائد ہیں اور استعمال جائز ہے ،لیکن اگر معصیت کے ارتکاب یا انسانی جانوں سے کھیلنے کے لیے ہو ،تو گناہ ہے اور حرام ہے۔

اِسی طرح انٹرنیٹ کا استعمال اپنے اندر اچھائی اور برائی دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ کیفے کو فحاشی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے والوں کو قرآنِ کریم کی اس وعید سے ڈرنا چاہیے :ترجمہ:’’ بےشک، جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی فروغ پائے ،ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ،اللہ (ہرمعاملے کی حقیقت) کو جانتاہے اورتم نہیں جانتے‘‘۔(سورۃالنور:19)

مفتی وقارالدین ؒ سے سوال کیا گیا :’’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ٹھیک کرکے جو روزی کمائی جاتی ہے ،حلال ہے یا حرام؟‘‘۔ آپ نے جواب لکھا: ’’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن مشینی آلات ہیں ،ان سے جائز کام بھی لیے جاتے ہیں اور ناجائز کام بھی ۔یہ صرف حرام کام کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور نہ محض غلط کاموں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

جس طرح چھری اور بندوق وغیرہ جیسے آلات سے جہاد بھی کیاجاتا ہے اور اپنے ذاتی کاموں اورشکار میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور انہی سے انسان کوقتل کرنے والا فعلِ قبیح بھی کیاجاتاہے ۔لہٰذا جو آلات صرف معصیت کے لیے مُتعین نہ ہو ں،ان کا بنانا اور مرمت کرنا جائز ہے ،تو ریڈیواور ٹیلی ویژن کی مرمت کرنابھی جائز ہے ۔اسی طرح اس کی مرمت کی اُجرت بھی حلال ہے ،(وقارالفتاویٰ ،جلداول ،ص : 219)‘‘۔

آپ نے سوال میں جو ضابطہ بیان کیاہے ،اگر اِس کے مطابق اپنا کاروبار کریں تو برائی کے احتمالات ختم ہوسکتے ہیں اور رزقِ حلال کا حصول بھی ممکن ہے۔ یہ دراصل اجارہ کا معاملہ ہے ،یعنی آپ ایک محدود مدت کے لیے اپنی جگہ (یعنی وہ کیبن) اور انٹر نیٹ کنکشن وکمپیوٹر کرائے پر دیتے ہیں ،کرائے پر دینے کایہ عمل جائز ہے اور اس کا کرایہ بھی آپ کے لیے جائز ہے ۔اَخلاق سوز مواد بلاک کرکے اور مردوزن کے اختلاط کا موقع ختم کرنے سے انٹر نیٹ کے غیر شرعی استعمال کا کافی حد تک سدِّ باب ہوسکتا ہے ۔

انٹر نیٹ کیفے چلانے والے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے، تاکہ ایسانہ ہوکہ وہ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے اپنی اور دوسروں کی عاقبت برباد کردیں ۔اس کے خطرناک نتائج آئے دن میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں ۔حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس کاروبار کو قاعدے ضابطے کا پابند بنائے۔