• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے علاقے کلفٹن میں دوتلوار سے آگے حاتم علوی روڈ پر قصر فاطمہ کلفٹن واقع ہے ،جسے موہٹہ پیلس بھی کہا جاتا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے 9 اکتوبر کو اپنے ایک فیصلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی ملکیت قصرفاطمہ کو موہٹہ پیلس کے نام سے پکارنے سے روک دیا، عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ موہٹہ پیلس کو’’ قصر فاطمہ‘‘ لکھا اور کہا جائے ۔یہ عمارت کراچی میں کہاں واقع ہے اور کب تعمیر کی گئی؟ آیئے آپ کو بتاتے ہیں۔

’’موہٹہ پیلس‘‘ جسے اب’’ قصر فاطمہ‘‘نام دیا گیا ہے ، اپنی خوبصورتی ‘ پائیداری‘ دلکشی‘ جمالیاتی حُسن اور تہذیب و ثقافت میں اپنی مثال آپ ہے۔ راجستھان کے معروف تاجر شیورتن موہٹہ نے 1927ء میں کراچی کے ساحلی علاقے میں اپنا ایک گھر بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے انہوں نے ہندوستان کے پہلے مسلم آرکیٹکٹ، آغا احمد حسین کو اپنی رہائش گاہ ڈیزائن کرنے کے لیے مقرر کیا ،جو جے پور سے کراچی آئے تھے اور میونسپل کارپوریشن میں چیف سرویئر تھے۔یہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آرٹس کونسل کے مقابل ہندو جیم خانہ کی عمارات کے آرکیٹکٹ بھی ہیں۔

آغاحسین نے یہ عمارت جے پور کے فنِ تعمیر کے زیر اثر اینگلو مغل انداز میں پیلے اور گلابی جودھ پوری پتھر کے امتزاج سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمارت کا نقشہ بنا کر جب انہوں نے شورتن موہٹہ کو پیش کیا تو انہیں یہ بے حد پسند آیا فوری اس کی تعمیر کا آغاز کردیا۔ یہ عمارت پلاٹ نمبر7‘ حاتم علوی روڈ پر تقریباً بارہ ہزار مربع گز پر مشتمل ہے، اسے لال ا ور پیلے پتھروں کے حسین امتزاج سے تعمیر کیا گیا ہے۔اس عمارت کے برابر میں کراچی کا تاریخی امیر خسرو پارک ہے، جبکہ چند قدم کے فاصلے پر سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والی رہائش گاہ 70کلفٹن ہے۔

شیورتن موہٹہ جو ’شوجی‘ کے نام سے بھی مشہور تھے ، اس عمارت کو بڑی لگن ‘ توجہ اور محبت کے ساتھ تعمیر کرایا۔ اسے تعمیر کرانے کا مقصد کچھ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ موہٹہ کی بیوی ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اس کے مرض کا علاج یہ تجویز کیا تھا کہ اگر مریضہ کو مسلسل سمندر کی تازہ ہوا میں رکھا جائے تو وہ بالکل صحت یاب ہوسکتی ہے،چنانچہ مسٹر موہٹہ نے یہ پیلس بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شیورتن موہٹہ نے کراچی میں اتنی دولت کمائی کہ وہ کراچی کا امیر ترین شخص بن گیا تھا۔ 

اس کے برٹش گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام سے قریبی تعلقات تھے۔ موہٹہ نے اس وقت کے گورنر سندھ کو سمندر میں سیر و تفریح کے لیے ایک شاندار کشتی بھی تحفتاً پیش کی تھی۔ شیورتن موہٹہ کے والد گوبردھن داس بھی کراچی کے ایک امیر ترین شخص تھے ،جنہوں نے میری ویدر ٹاور کے قریب واقع شہر کی معروف قدیم مارکیٹ گوبر دھن داس کپڑا مارکیٹ تعمیر کرائی تھی۔ وہ ہرمین اینڈ موہٹہ کمپنی میں شریک کار تھے۔ اس کمپنی نے کراچی میں سیکڑوں گھر تعمیر کیے ۔ ان کی تعمیرات میں ہندو جیم خانہ کی عمارت بھی شامل ہے۔ رائے بہادر شیورتن موہٹہ ایک بااعتماد ماہر تعمیرات شمار کیے جاتے تھے۔ عمارت کی تعمیر میں دو قسم کے پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ 

پیلا پتھر سندھ سے اور گلابی پتھر جودھ پور سے برآمد کیا گیا تھا۔ عمارت میں تین مرکزی دروازے مشرقی سمت میں ہیں ۔ مرکزی ہال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جسے پوری عمارت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چھت پر ابھرا ہوا کاشی کاری کا کام انتہائی نفاست سے کیا گیا ہے ۔ مرکزی ہال سے بائیں جانب ایک لمبا ہال موجود ہے جو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے فرش پر سرخ اور سبز ٹائل بچھائے گئے ہیں۔ بالائی منزل پر جانے کے لیے دو راستے ہیں جن کی 32, 32سیڑھیاں ہیں۔ سولہ سیڑھیوں کے بعد رنگین شیشے لگائے گئے ہیں اور چار ہوادار گنبد ہیں۔

’’قصرِ فاطمہ ‘‘ایک وسیع و عریض قلعہ نما گلابی رنگ کی دو منزلہ عمارت ہے،جس کے چاروں کونوں پر گنبد اور چھت کے بیچ و بیچ پانچ گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی گنبد دراصل اس عمارت کی خوبصورتی کا اصل راز بھی ہیں۔ یہ کراچی کی انتہائی خوبصورت اور پرُکشش عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا فن تعمیر آگرہ کے لال قلعہ ‘ لاہور کی بادشاہی مسجد ‘ دہلی کے مغل حکمرانوں کی عمارات کی یاد تازہ کرتا ہے۔عمارت میں تہہ خانہ کے علاوہ کئی بڑے بڑے دالان یا ہال ‘ کمرے ‘ کشادہ بارہ دری‘ نو گول اور دو لمبوترے گنبد ہیں۔ اس عمارت کی بارہ دری سے سمندر کا منظر بے حد دل آویز اور سحر آفریں ہوتا ہے۔

عمارت کے نیچے پہلے ایک وسیع تہہ خانہ اور زمین دوز راستہ تھا جو اب ناقابل استعمال ہوچکا ہے۔ زمین دوز راستہ مسٹر موہٹہ نے اگرچہ کسی ہنگامی صورت حال میں استعمال کرنے کے لیے تعمیر کرایا تھا، مگر بتایا جاتا ہے کہ اس خفیہ راستے کو شیورتن موہٹہ کی بیٹی نے اس طرح استعمال کیا کہ وہ اس راستے سے گزر کر اپنے محبوب سے چوری چھپے ملنے جایا کرتی تھی۔ ایک روز یہ راز ان کے گھر والوں پر فاش ہوگیا اور پھر اسی دن سے مسٹر شیورتن موہٹہ نے اس زمین دوز راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کرادیاتھا۔

مسٹر موہٹہ اکثر یہاں حکام بالا اور شہر کے معزز افراد کے اعزاز میں پارٹیاں منعقد کرتےتھےاور غریبوں میں کھانا بھی تقسیم ہوتا تھا۔ ہندو برادری کے تہواروں ہولی‘ دیوالی‘ دسہرہ ا ور دیگر موقعوں پر یہاں رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوتی تھیں، جن میں برصغیر کے نامور فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے تشریف لایا کرتے تھے۔ 

ان تقریبات میں مسٹر موہٹہ جب اپنے روایتی مارواڑی لباس کو زیب تن کر کے اور اپنے کانوں میں ہیرے کے بُندے پہن کر اسٹیج پر پرشکوہ انداز میں بیٹھتے تو وہ کسی ہندو راجہ مہاراجہ سے کم نہ لگتے ۔ اس عمارت میں مسٹر موہٹہ نے آغا خان سوئم سرسلطان محمد شاہ کے اعزاز میں بھی ایک پُروقار ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔جس میں تحریک پاکستان کی ممتاز رہنما لیڈی غلام حسین ہدایت اللہ نے بھی شرکت کی تھی۔

1947ء میں شیورتن موہٹہ کے بھارت چلے جانے کے بعد اس عمارت کو خالی قرار دے دیا گیا اور وزارت خارجہ کے حوالے کر دیا گیا۔ فروری 1963ء میں یہ عمارت مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے نام کر دی گئی اور اس عمارت کا نام’’ قصرِ فاطمہ ‘‘رکھ دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے9جون 1966ء کو اسی عمارت میں رحلت فرمائی۔ وہ یہاں 1964ء سے لے کر اپنی وفات 1967ء تک قیام پذیر رہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کو یہ عمارت بے انتہا پسند تھی ۔ان کے بعد یہ عمارت ان کی بہن شیریں بائی کے زیر استعمال رہی۔

1980ء میں محترمہ شیریں بائی کے انتقال کے بعد یہ عمارت متنازع ہوگئی اور لاوارث عمارتوں کے زمرے میں آگئی۔ 1995ء میں حکومت پاکستان سے سندھ حکومت نے اسے خریدنے کی درخواست کی اور باقاعدہ خرید کر ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹیز کے حوالے کیا گیا، تاکہ وہ اس عمارت کی تزئین و آرائش کر کے اسے قابل استعمال بنائیں۔ 15ستمبر 1999ء کو سندھ کے تالپور حکمران کی نوادرات کی نمائش کا افتتاح اسی عمارت میں کیا گیا۔ 2000ء سے یکے بعد دیگرے فن خطاطی ‘ فنون گندھارا‘ روایتی پوشاک ‘ نو آبادیاتی دور کی تصویریں‘ پاکستان کے معروف مصور ‘ خطاط اور شاعر صادقین اور جمیل نقش کے شہ پاروں کی نمائش ‘ کراچی کی تاریخ‘ کاشی گری کی کہانی‘ فوٹوگرافی ا ور تحریک پاکستان پر نمائشیں ہوتی رہیں۔ 

بورڈ آف ٹرسٹیز کا کہنا ہے کہ جب تک مستقل طور پر نوادرات نہیں مل جاتیں اس وقت تک یہاں عارضی نمائشیں منعقد کی جاتی رہیں گی ،جسے میوزیم کا نام دیا گیا ۔،اس میوزیم میں سابق صد رجنرل پرویز مشرف‘ جناب آصف علی زرداری‘ بھارت کے معروف سیاستدان ایل کے ایڈوانی‘ معروف اداکار نصیر الدین شاہ‘ گلوکار جگجیت سنگھ ‘مختلف ممالک کے سفارتکار اور وفاقی او رصوبائی وزراء تشریف لا چکے ہیں۔ جناب ایل کے ایڈوانی کے دورے کے موقع پر اُن کی کتاب کی رونمائی بھی یہاں کی گئی۔

یہ منگل سے اتوار صبح گیارہ بجے سے شام چھ بجے تک شہریوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ موہٹہ پیلس میوزیم دیکھنے کے لیے 20روپے کا داخلہ ٹکٹ حاصل کرنا ہوتا ہے جو میوزیم کے مرکزی دروازے پر موجود دفتر میں دستیاب ہے۔ پیر کے روز میوزیم ہفتہ وار تعطیل کے سلسلے میں بند رکھا جاتا ہے۔

2013ء میں سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد میں یہاں سفید سنگ مرمر سے ایک ٹاور تعمیر کیا گیا ہے، جس کے اوپر امن کی علامت کے طور پر ایک اُڑتا ہوا کبوتر نصب ہے۔ دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی کا ایک طویل وقت یہاں گزارا لیکن فاطمہ جناح کے زیر استعمال کوئی بھی چیز یا نوادرات اس میوزیم میں موجود نہیں ہیں۔ البتہ قائد اعظم کے زیر استعمال ایک شیروانی ضرور موجود ہے جو پاکستان کے پہلے آڈیٹر جنرل سید یعقوب شاہ نے 1947ء میں ایک نیلامی میں خریدی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے یہ شیروانی موہٹہ پیلس کو دے دی۔

یہاں نمائشوں کے علاوہ موسیقی اور تہذیب و ثقافت کے پروگراموں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جبکہ پہلے تواتر کے ساتھ شادی اور ولیمے کی دعوتیں بھی ہوتی تھیں لیکن اب ان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مشیر وزیر اعلیٰ سندھ شرمیلا فاروقی نے بھی اپنی شادی کے سلسلے میں یہاں ایک پُرتعیش دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ 

کوویڈ۔19 کی وباء کے بعد سے پورے شہر کی طرح یہاں بھی تقریبات کا اہتمام نہ ہونے کے برابر ہے۔ قصرِ فاطمہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا کہنا ہے کہ انہیں اس عمارت کی دیکھ بھال ‘تزئین و آرائش اور سرگرمیوں کو جاری رکھنے کےلئے انفرادی اور اجتماعی مالی امداد کی ضرورت ہے۔