• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنس داں متعدد کاموں کے لیے روبوٹس تیار کرچکے ہیں۔ اب جاپانی ماہرین نے انسانی دماغی خلیات پر مبنی ایسے چھوٹے چھوٹے روبوٹ بنائے ہیں جو ایک حد تک انسانوں کی طرح سوچتے اور فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے برقی سگنل کی بدولت بھول بھلیوں اور رکاوٹیں عبور کرتے ہیں۔ٹوکیو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان روبوٹ پر کئی تجربات کئے ہیں اور انہیں سکھایا گیا کہ وہ کیسے اور کس طرح رکاوٹوں سے بچ کر سفر کرتے ہیں۔

پہلے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں انسانی دماغ جیسے خلیات بنائے ،پھر انہیں باقاعدہ طور پر چھوٹے چھوٹے کمپیوٹروں سے جوڑا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کو’ ’فزیکل ریزوائرکمپیوٹنگ‘ ‘کا نام دیا گیا ہے۔نیورون ہمارے اعصابی خلیات میںہوتے ہیں جو دماغ سے پورے جسم کو ہدایات برقی سگنل کی صورت میں بھیجتے ہیں،بعد ازاں ماہرین نے ان روبوٹس کو بھول بھلیاں نما رکاوٹیں عبور کرنا سکھایا ،تا کہ وہ اپنے ہدف یا انعام تک پہنچ سکیں جو چھوٹی روشنیوں کا ایک سیاہ ڈبہ ہے ۔

اس کھیل میں جب جب روبوٹ غلط سمت میں گئے یا ادھر ادھر ٹکرانے لگے تو سائنسدانوں نے انہیں برقی سگنل بھیجا ،تاکہ وہ اپنی راہ پر آجائیں۔ روبوٹ نے عین انسانی دماغ کی طرح بدلتے ہوئے ماحول سے سیکھا اور دوبارہ صحیح راہ پر آگئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب حقیقی عصبیوں کی مدد سے روبوٹ کو سکھایا گیا ،جس سے انسانی سوچ کی طرح کام کرتے ہوئے اپنے مسائل خود حل کرنے والی مشینوں کی راہ ہموار ہوگی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید