| |
Home Page
منگل 26 محرم الحرام 1439ھ 17 اکتوبر 2017ء
الطاف حسن قریشی
February 17, 2017 | 12:00 am
عوام پر اثر انداز ہونے والے فیصلے

Awam Par Assar Andaaz Honay Walay Faislay

13فروری کی شام لاہور پر ٹوٹ جانے والی قیامتِ صغریٰ ہماری قومی زندگی کے ان گنت پہلو بے نقاب کر گئی۔ ہمارے حکمرانوں کا مزاج کیا ہے، وہ اپنے عوام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں، ان میں صحیح وقت پر فیصلے کرنے کی کسی قدر صلاحیت ہے اور وہ مستقبل میں کتنی دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف عوام اپنے مسائل اور حقوق کا کس قدر ادراک رکھتے ہیں، ان کے اندر برے بھلے کے مابین امتیاز کرنے کا وصف کتنا مستحکم ہے، اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور ہیجان انگیز پروپیگنڈے سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے اداروں کی بھی ترجیحات سامنے آئی ہیں اور یہ راز بھی کھلا ہے کہ وہ بحرانوں کی آہٹ اس وقت سنتے ہیں جب وہ بہت قریب آ جاتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ ہوا کہ بلا کی اہلیت و صلاحیت کے باوجود فیصلوں پر عمل درآمد میں بڑی سست روی کا مظاہرہ کرتے اور ایک دوسرے پر الزام دھرتے رہتے ہیں۔ ہمارے میڈیا کے کچھ حصے کا عجیب و غریب کردار بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ان واقعات اور مناظر کی تشہیر میں دانستہ یا نادانستہ بہت دلچسپی لیتا ہے جن سے ملک میں انتشار پھیلتا ہے اور پورے میڈیا کاامیج داغ دار ہوتا ہے، حالانکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اس حصے کے کرتا دھرتا یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ وہ پاکستان کو مستحکم اور خوش حال بنانے میں شب و روز کام کر رہے اور عوام کے اندر آگاہی پیدا کر رہے ہیں۔
13فروری کو شاہراۂ قائداعظم کی چیئرنگ کراس پر کیا حادثہ پیش آیا۔ 5فروری 2017ء کو پنجاب اسمبلی نے 1976ء کے ڈرگ ایکٹ میں ترامیم منظور کی تھیں جن کا بنیادی مقصد جعلی اور غیر معیاری دواؤں کی روک تھام اور شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ نئی ترامیم کے مطابق جعلی اور غیر معیاری دوائیں تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھاری جرمانے بھی کیے جا سکتے تھے اور زیادہ سے زیادہ پانچ اور دس سال کی سزا بھی دی جا سکتی تھی۔ اسی طرح میڈیکل اسٹورز کے لیے لائسنس حاصل کرنا، دواؤں کو ٹھیک حالت میں رکھنا اور کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان شرائط کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں اور کڑی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ ڈرگ ایکٹ میں ترامیم کی ضرورت فوری طور پر اس لیے محسوس کی گئی کہ بعض اسپتالوں میں دل کے مریضوں میں جعلی اسٹنٹ ڈالے جا رہے تھے اور آٹھ دس ہزار روپوں کی قیمت کے اسٹنٹ دو دو اور تین تین لاکھ میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔اس پر چاروں طرف ہاہاکار مچ گئی۔ تب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ موت کے سوداگروں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے اور قانون کے ذریعے جعلی اور غیر معیاری ادویات کا کاروبار ختم کر کے دم لیں گے۔ عوام کے مفاد میں پنجاب اسمبلی میں بل پیش کیا گیا جو بھاری اکثریت سے منظور ہوا اور لوگوں نے محسوس کیا کہ انہیں جان لیوا دواؤں سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔
ڈرگ ایکٹ میں ترامیم کے خلاف دواساز کمپنیاں اپنے ساتھ تیرہ تنظیموں کو شامل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ انہوں نے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیے جن میں کہا گیا تھا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑیں گے۔ اخبارات کے منتظمین کو ذرا خیال نہ آیا کہ وہ کیا شائع کر رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں اور تنظیمیں جعلی اور غیر معیاری دوائیں بنانے اور بیچنے کا ’حق‘ مانگ رہی ہیں۔ ان اشتہارات کے خلاف عوام کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا اور حکومت کو بھی اُمڈتے ہوئے خطرے کا بروقت احساس نہیں ہوا۔ ان تنظیموں نے پورے ملک میں احتجاج کرنے کی کال دی اور اُن کے عہدے دار اپنے ہم نواؤں کے ساتھ لاہور پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے۔ وہاں الیکٹرانک میڈیا نے بڑی کوریج دی۔ وہ فاتحانہ انداز میں شاہراۂ قائداعظم پر چیئرنگ کراس پر جا پہنچے، وہاں پہلے سے اسٹیج بنا ہوا تھا۔ اُن کے احتجاج کی میڈیا کوریج کے لیے گاڑیاں اور کیمرے پہنچنا شروع ہو گئے۔ آفتاب غروب ہو رہا تھا اور احتجاج کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، حالانکہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں شاہراۂ قائداعظم پر جلسے، جلوس اور ہر طرح کی ریلیوں کی ممانعت کر دی تھی، مگر پنجاب حکومت اس فیصلے پر عمل درآمد کا اہتمام نہ کر سکی۔ اس کی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈرگ ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعتوں نے اسی شاہراہ پر ڈیرے ڈال دئیے۔ دواعلیٰ پولیس افسر جو بہادری اور معاملہ فہمی کی بڑی شہرت رکھتے تھے یعنی ڈی آئی جی کیپٹن (ر) احمد مبین اور قائم مقام ڈی آئی جی آپریشنز لاہور جناب زاہد گوندل انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرتے رہے حالانکہ یہ کام وزیروں اور سیاست دانوں کا تھا۔ دوسری طرف سیکورٹی کے ناقص انتظامات نے خودکش حملہ آور کو پولیس افسروں اور جوانوں کے قریب پہنچنے اور اپنے آپ کو بم سے اُڑانے کا موقع فراہم کر دیا اور تقریباً ایک سال بعد لاہور ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ پولیس فورس نے کمال جواں مردی اور ایثار کیشی کا مظاہرہ کیا۔ دسمبر 2014ء میں قومی قیادت نے جس میں سیاسی اور عسکری زعما بھی شامل تھے، بیس نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور ضربِ عضب آپریشن پوری طاقت سے شروع ہوا۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردی میں 80فی صد کمی آئی ہے، مگر حکومت اپنے فیصلے کے مطابق انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے نظریے کو شکست دینے میں ناکام رہی ہے جس کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی مراکز قائم کرنا ہوں گے اور سیکورٹی اداروں کے مابین رابطے بڑھانا ہوں گے۔
لاہور میں خونیں سانحے کے ایک روز بعد لاہور ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے کہ آئندہ سال سے سی ایس ایس کے امتحانات اُردو زبان میں لیے جائیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اتنا عظیم اور تاریخ ساز فیصلہ میری زندگی میں ہوا ہے جو میرے جیسے کروڑوں شہریوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ہماری حکومتیں اور ہمارے ادارے یہ فیصلہ دل سے قبول کریں گے اور اس پر عمل درآمد میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔ سی ایس ایس کے امتحانات میں اُمیدوار صرف انگریزی زبان کی وجہ سے بمشکل 4فی صد کامیاب ہوتے تھے۔ اب اُمید اور یقین کا ایک نیا عہد طلوع ہو گا۔ اُمیدوار اپنی دانش اور ذہانت کا مظاہرہ کریں گے اور وہ عوام دوست منتظم ثابت ہوں گے، یہ ایک بہت بڑے سماجی انقلاب کی نوید ہے۔ لسانیات کے جید علما اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ ایک قوم اپنی زبان ہی میں تخلیقی کارنامے سرانجام دے سکتی ہے۔ ایجادات اور نئے نئے علمی انکشافات کے لیے سائنسی نظریات اور تصورات کو گرفت میں لانا اور اُن پر سوچ بچار اپنی قومی زبان ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے عوام پر اثرانداز ہونے والے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو فوری عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں خودکش دہشت گردی کے چار بڑے سانحات ہوئے ہیں اور ان کے جواب میں قومی قیادت نے ایک نئے عزم، ایک نئی قوت اور ایک نئے وژن کا ایقان افروز اظہار کیا ہے۔

.