| |
Home Page
پیر2 ؍ جمادی الثانی 1439ھ 19؍ فروری 2018ء
February 13, 2018 | 12:00 am
ایل این جی کیس میں وزیراعظم کیخلاف شیخ رشید کی درخواست مسترد،کس قانون کے تحت نااہل کریں،سپریم کورٹ

Todays Print

ایل این جی کیس میں وزیراعظم کیخلاف شیخ رشید کی درخواست مسترد،کس قانون کے تحت نااہل کریں،سپریم کورٹ

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ،ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کو کالعدم قرار دینے اور معاہدے میں مبینہ کرپشن کی بنیاد پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دینے کے حوالے سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کس قانون کے تحت نااہل کریں، بدعنوانی کا ثبوت ہے تو نیب کے پاس جائیں، آزاد اداروں میں مداخلت نہیں کر سکتے، ریکوڈک، کارکے اور پاکستان اسٹیل کی طرح ان معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے، ان مقدمات کی وجہ سے ملک کو عالمی سطح پر نقصان ہوا۔جبکہ شیخ رشید وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ پاکستان میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں پھر بھی قطر کیساتھ 15سال کامعاہدہ کیا گیا، حکومت اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پیر کے روز درخواست کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نہیں سمجھتےکہ ایل این جی کامعاملہ 184 (3) کے ضمن میں آتا ہے، میرے خیال سے دو حکومتوں کے درمیان معاہدہ ہوا ہے اور اس میں ضروری چیزوں کا خیال رکھا گیا ہوگا، کس آرٹیکل کے تحت وزیراعظم کو نااہل کر یں؟، ایسا کیا ہوا کہ آپ وزیراعظم کی نااہلیت چاہتے ہیں؟ درخواست گزار کے وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیارکیا کہ عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، حکومت اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے، پاکستان میں قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں پھر بھی قطر کے ساتھ ، ایل این جی معاہدہ 15 سال کیلئے کیا گیا، حکومت نے ایل این جی معاہد ہ ایک شیل کمپنی کے ساتھ کیا ہے اور اسکی ہر چیز چھپائی جارہی ہے، معاہدے کے تحت یومیہ 2 لاکھ 72 ہزار ڈالرادا کئے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں آزاد ادارے موجود ہیں، اداروں کو قائم ہی اسی لئے کیا گیا ہے کہ قومی خزانے کو دیکھیں، ریکوڈک اور اسٹیل مل کی طرح ان معاملات میں دوبارہ مداخلت نہیں کریں گے، پہلے ہی ان مقدمات سے بین الاقوامی طور پر نقصان ہوا، ہم ان مقدمات میں اب مداخلت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید سے کہا کہ آپ نیب کے پاس جائیں، اگر 62ون ایف کے تحت نااہلی مانگ رہے ہیں تو وزیراعظم کیسے صادق اور امین نہیں؟ اگر اتھارٹی کا غلط استعمال ہوا ہے تو متعلقہ اداروں کے پاس جائیں۔ درخواست سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ، اس لئے خارج کی جاتی ہے۔