ADHD : توجہ کا ارتکاز نہ ہونے کا مرض

November 03, 2022

کچھ بچوں میں اکثر یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ کام ، پڑھائی یا کسی بھی دوسری چیز پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتے۔ کچھ نوجوانوں کو بھی یہ مسئلہ درپیش آتا ہے۔ دراصل، توجہ کا ارتکاز نہ ہونے کی ایک وجہ اے ڈی ایچ ڈی(Attention-Deficit/ Hyperactivity Disorder) کا مرض ہوسکتا ہے۔ یہ ایک عام ذہنی خرابی ہے جو بچپن میں شروع ہوتی ہے اور نوجوانی تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس مرض میں مبتلا بچے اپنی عمر کے دیگر بچوں کی نسبت بہت زیادہ متحرک اور دھیان نہ دینے والے ہوتے ہیں، ان میں ایک اضطراری کیفیت پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے بچوں کو بالخصوص اسکول میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ گھر اور معاشرے میں بھی انھیں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول جانے والی عمر کے 3 تا 5 فیصد بچوں میں یہ مرض ہوسکتا ہے۔ اے ڈی ایچ ڈی کا شکار بچہ خود بھی چاہتا ہے کہ وہ دوسرے طلبہ کی طرحایک اچھا طالب علم بن جائے مگر توجہ مرکوز نہ کرپانا اور طبیعت کا یکدم تبدیل ہوجانا اس کےلیے مسائل پیدا کرتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق دنیا میںکم سےکم ایک کروڑ افراد توجہ میں کمی کے مرض میںمبتلا ہیں۔ ADHD کے حامل بچے ہائپرایکٹیو ہوسکتے ہیں اور وہ اس کے اثرات کو کنٹرول نہیں کرسکتے یا انہیں توجہ مرکوز کرنے میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں یہ مرض لڑکیوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی عموماً اسکول کے ابتدائی برسوں میں سامنے آتا ہے کیونکہ اس مرض کا شکار بچے کو اس عرصے میں تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ امریکا میں تقریباً ہر میڈیکل، نفسیاتی اور تعلیمی تنظیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ توجہ میں کمی یا ہائپرایکٹیوٹی ڈس آرڈر دماغی خرابی کی ایک حقیقی بیماری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس مرض سے نجات پانے کے لیے ادویات سے زیادہ نفسیاتی طریقہ علاج زیادہ مؤثر ثابت ہو تا ہے۔

اس مرض سے متاثرہ بالغ افراد کو منظم ہونے، وقت پر کام کرنے، اہداف کا تعین کرنے اور ملازمت کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہوسکتاہے۔ اگر آپ کام پر ہمیشہ دیر سے پہنچتے ہیں یا کسی بھی خرابی کی صورت میںخود کو بھلا برا کہتے رہتے ہیں، ایک جگہ ٹک کر ملازمت نہیں کرتے یا کوئی بھی کام مقررہ وقت میں نمٹانے میں دقت پیش آتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ بھی ADHDکے مرض میںمبتلا ہوں۔

علامات

توجہ میں کمی یا ہائپرایکٹیوٹی ڈس آرڈر کا شکار بچوں میں عموماً جو علامات موجود ہوتی ہیں ان میں توجہ برقرار رکھنے میں دشواری، بہت زیادہ متحرک ہونا، تفصیل اور مکمل بات سمجھنے میں دشواری اور ایسی غلطی کرنا جو بے احتیا طی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، آسانی سے بے توجہی کا شکار ہوجانا، اکثر گھر کا کام بھول جانا، اسکول اور گھر کاکام کرنے میں مشکلات، بڑوں کا کہنا اور بیک وقت کئی باتوں کو ماننے میں دشواری، لاپروائی برتنا، بے صبری کا مظاہرہ کرنا، بے چین رہنا، ایک ہی بات بار بار کرنا، بہت زیادہ بھاگنا اور دیواروں پر چڑھنا، ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتا ہوا نظر آنا، بغیر سوچے سمجھے بولنا، بہت زیادہ باتیں کرنا اور خا موش بیٹھنے میں مشکل پیش آنا، دوسروں کی بات کاٹنا اور انھیں پریشان کرنا شامل ہیں۔ یہ علامات عموماً سات سال کی عمر سے پہلے سامنے آجاتی ہیں، جو کہ لڑکیوں اور لڑکوںمیںمختلف ہو سکتی ہیں۔ مرض کی شدت یا کمی بیشی بلوغت میں بھی جاری رہ سکتی ہے، لیکن اگر اس کے سدباب کیلئے بچپن سے ہی توجہ دی جائے تو بچے ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

وجوہات

اے ڈی ایچ ڈی ہونے کی وجہ موروثی، ماحولیاتی یا جینیاتی عوامل میںسے کوئی ایک یا سب کا مجموعہ ہو سکتی ہے۔ تقریباً 25 فیصد والدین میں بھی اس مرض کی علامات ہوتی ہیں۔ تاہم کچھ خطرنا ک عوامل جیسے مادرشکم میں زہریلے اثرات پھیلنے یا وقت سے پہلے بچہ کی پیدائش یا زچگی کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاج اور سدباب

اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا بچوں کو انفرادی علاج کے پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس مرض کی علامات کو کم کرنے اور کام کو بہتر بنانے پر مرکوز ہوں۔ اس میں انھیں ادویات، سائیکوتھراپی، طرز عمل اور رویوں کو بدلنے کا طریقہ اور زندگی کے دوسرے معاملات سے نمٹنے کی مشقیں اور ہدایات دی جاتی ہیں۔ ماہر نفسیات (نیورولوجسٹ)، بچے کی نفسیات اور رویوں کے تجزیے کے مطابق مرض کی تشخیص کرسکتےہیں۔ علاج کے ضمن میںنفسیاتی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ کگنیٹیوبیہیوریل تھراپی(CBT)اور مشاورت کو اپنا یا جاسکتاہے۔ اس کے علاوہ ذہنی بالیدگی یا تندرستی کی ادویات بھی تجویز کی جاسکتی ہیں۔

علاج کے طور پر دماغ میں تحریک پیدا کرنے والی ادویات مفید ہو سکتی ہیں۔ یہ ادویات بچوں کو توجہ مرکوز کرنے، سیکھنے اور پر سکون رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دوائیں سب کچھ نہیں کرتیں، وہ بس علامات کو کم کرسکتی ہیں۔ تاہم لوگوںکو اپنی عادات پر قابو پانے کا طریقہ سکھانے کے لیے مختصر مدت کی سائیکو تھراپی یا نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

طرز عمل یا رویے کے علاج سے بچوں کو اپنے رویہ کو قابو کرنا آتا ہے اور وہ اسکول اور گھر میں بہتر انداز اپنا سکتے ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا بچوں کو سماجی مہارت کی تربیت، مسائل کو حل کرنے کی مہارت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تدریس کی حکمت عملی میں تبدیلی اور ہوم ورک کرانے کے طرزعمل میں تبدیلی بھی اس مرض میں مبتلا بچوں کو اسکول میں موثر طریقے سے سیکھنے میں مدد کر سکتی ہے ۔