• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دماغ کو طویل عمر تک صحت مند رکھیں... مگر کیسے؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کی محض عمر بڑھ رہی ہے یا آپ بوڑھے ہورہے ہیں؟ اگر آپ روزانہ سبز چائے کے چند ایک کپ پیتے ہیں، پھل اور سبزیوں کے پانچ ٹکڑے(Five Servings) لیتے ہیں، 30منٹ تک ایکسرسائز کرتے ہیں، اپنی طبعی عمر اور صحت کی مناسبت سے غذائی سپلیمنٹ لیتے ہیں، اپنے پیاروں اور دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گزارتے ہیں اورآٹھ گھنٹے کے لگ بھگ باقاعدگی سے نیند لیتے ہیں تو سمجھیں آپ کی عمر تو ضرور بڑھ رہی ہے مگر آپ بوڑھے غالباً اپنی عمر کے مقابلے میں بہت کم رفتاری سے ہورہے ہیں۔

اس کے برعکس اگر روزانہ آپ کے ناشتے میں میٹھی پوری اور ڈونٹس کھانا شامل ہے، دوپہر کا کھانا اکثر چھوڑ دیتے ہیں، بہت زیادہ سگریٹ اور چائے پیتے ہیں اور اپنے دفتر کے ساتھیوں، پیاروں اور گھر والوں کے ساتھ ہر وقت غیرضروری تکرار میں اُلجھے رہتے ہیں تو آپ غالباً تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

کچھ لوگ اپنے 30کے عشرے میں بوڑھے، جبکہ کچھ لوگ 60کے عشرے میں بھی جوان نظر آتے ہیں، اور اس کا دارومدار اس طریقہ زندگی(لائف اسٹائل) پر ہے جو آپ نے روزانہ کی بنیاد پر اختیار کیے ہوتا ہے۔

سائنسی لحاظ سے انسان بوڑھا اس وقت ہونا شروع ہوتا ہے جب ہمارے خلیوں کی جھلیوں(Cell membran) میں شامل ایک اہم کیمیائی جزو Phosphatidylcholine ختم ہونے لگتا ہے۔

دماغ کیا ہے؟

مجموعی جسمانی وزن میں دماغ کا حصہ 2فی صد ہوتا ہے، تاہم جسم 20فی صد خون دماغ سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح جسم کی 20فی صد آکسیجن اور گلوکوز کو دماغ استعمال کرتا ہے۔اس کے علاوہ جینیاتی پیچیدگی (Genetic Complexity) میں 50فی صد نمائندگی دماغ کی ہے، دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے آدھے جینز اس کے دماغ کے ڈیزائن کو بیان کرنے میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ باقی 50فی صد جینز آپ کے بقیہ 98فی صد جسم کی بناوٹ کو بیان کرتے ہیں۔ مزید برآں، دماغ آپ کے جسم کا کنٹرولر ہوتا ہے۔

یہ آپ کے دل کی ہر دھڑکن، آنکھ کی ہر جھپک، ہارمونز کے ریلیز ہونے اور آپ کی ہر جسمانی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسانی جسم میں دماغ کی اس قدر اہمیت اور مرکزیت کے باعث یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے دماغ کو متحرک، صحت منداور خوش رکھنےکے ساتھ ساتھ اس کے بوڑھے ہونے کے عمل کو سست کرنے (یعنی جواں رکھنے) کے لیے بنیادی ضروری تدابیر اختیار کرے۔

100ارب نیوران اور 1ٹریلین سیل

ہم جانتے ہیں کہ انسانی دماغ 100ارب نیورانز اور 1ٹریلین سریش خلیوں (Glial cells)سے بنا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ سریش خلیے نیورانز کو صرف طبعی معاونت (Physical Support) فراہم کرتے ہیں، تاہم نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ خلیے مُعانقہ (Synapses) پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ 

معانقہ دماغ کی ان جگہوں کو کہا جاتا ہے جہاں نیورانز اور Glialخلیوں کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے۔دماغ میں باہمی ملاپ (کنکشن) کی ایسی جگہوں کی تعداد 100ٹریلین ہے اور یہی وہ جگہیں ہیں، جہاں دماغ اپنے زیادہ تر کام انجام دیتا ہے۔

آپ اپنے دماغ کو خود تشکیل دیتے ہیں

19ویں صدی کے وسط تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ دماغ مخصوص ساخت کا ہوتا ہے، اور اس کے نیورانز کو تبدیل یا دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم سائنس کے میدان میں حالیہ عرصے میں ہونے والی پیشرفت(Brain Imaging Research) سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ نہ صرف اپنی ساخت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ درحقیقت یہ انسانی جسم کا سب سے متحرک اور خود بخود منظم ہونے والا حصہ ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دماغ کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کے باعث جب کسی شخص کے دماغ کا ایک حصہ فالج سے متاثر ہوکر غیرمتحرک ہوجاتا ہے تو دماغ اپنے خودکار نظام کے تحت متاثرہ حصے کی معلومات، علم اور ہنر کو دماغ کے صحت مند حصے کی طرف منتقل کردیتا ہے۔ 

دماغ کے حالیہ اسکین سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہماری سوچ کے نتیجے میں دماغ میں نئے معانقہ (آسان الفاظ میں کنکشنز) اور یہاں تک کہ غیر متشکل خلیوں (Stem cells)سے نئے نیوران بھی پیدا ہوتے ہیں، جو دماغ کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان اپنے دماغ کو دراصل خود اپنی سوچ سے تشکیل دیتا ہے۔

استعمال کریں یا ضایع کریں

دماغ، انسان کے کسی بھی دیگر گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہے، جسے آپ استعمال کریں یا ضایع کردیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ جب انسان ایک عرصہ تک بستر پر پڑا رہتا ہے،( کسی بیماری کے باعث یا مسرت کے لیے) تو اس کے پٹھے کسی کام کے نہیں رہتے۔

دماغ کی صحت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب انسان اپنے دماغ کو عقلی طور پر چیلنج کرنے والی سرگرمیوں میں مشغول نہیں رکھتا، پھر چاہے وہ دماغ کو فائدہ پہنچانے والے وٹامنز یا غذائیں ہی کیوں نہ کھاتا ہو، آپ کا صحت مند دماغ بھی نئے کنکشنز بناناختم کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بدنظمی کا شکار اور بالآخر غیرفعال ہوجاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح جسمانی طور پر کمزور شخص ریگولر ایکسرسائز یا جسمانی تھراپی کے ذریعےاپنے پٹھوں کو دوبارہ فعال بناسکتا ہے، دماغ کو بھی اسی طرح پھر سے متحرک بنایا جاسکتا ہے۔

کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ عمر رسیدہ افراد جو اپنے دماغ کو روز مرہ کی چیلنجنگ سرگرمیوں جیسےکتب بینی میں مصروف رکھتے ہیں، دماغی طور پر متحرک رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، اپنے دماغ کو سکونت کی حالت میں رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کی ذہنی صلاحیت میں قابلِ ذکر کمی دیکھی گئی۔

ہر چیز جُڑی ہوئی ہے

’کچھ دماغی سرگرمیاں بائیں حصے اور کچھ سرگرمیاں دماغ کے دائیں حصے میں وقوع پذیر ہوتی ہیں‘، آپ نے اکثر لوگوں سے یہ کہتے سُنا ہوگا۔ تاہم یہ بات صرف جزوی طور پر دُرست ہے، یہ پورا سچ نہیں ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ، انتہائی جذبات لمحات میں ایک نیوران جسے Spindle cellکہا جاتا ہے، روشن ہوکر دماغ کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف سفر کرتا ہے۔ 

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص کو اس کے کسی پیارے کی تصویر دِکھائی جائے یا جب اس کا بچہ رونے لگے۔ اِسپنڈل سیل، اس لحاظ سے غیرمعمولی ہیں کہ وہ اتنے طویل ہوتے ہیں کہ پورے دماغ میں پھیل جاتے ہیں اور دیگر نیورانز کے ساتھ دماغ میں لاکھوں مقامات پر جُڑ جاتے ہیں۔ ایک صحت مند دماغ میں اِسپنڈل سیل کے دیگر خلیوں کے ساتھ لاکھوں کنکشنز ہوتے ہیں۔

صحت سے مزید