• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابطیس ٹائپ ٹو، 90فیصد افراد متاثرہ ہوتے ہیں

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والی ایسی طبی حالت ہے، جو ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے لیتی ہے، اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا۔

ذیابطیس عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑسے زائد افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

ذیابطیس کی وجہ کیا ہے؟

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون، انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔

ذیابطیس تب لاحق ہوتا ہے، جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس کی اقسام

ذیابطیس کی کئی اقسام ہیں، تاہم دو طرح کی ذیابطیس زیادہ عام ہے۔ ٹائپ ون ذیابطیس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں میں سے 10فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ 2 اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور90 فیصد افراد کو اسی کا سامنا ہوتا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابطیس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

ذیابیطس ٹائپ 2 لاحق ہونے کی صورت میں کچھ عرصے بعد انسولین بنانے والے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور خلیات تباہ ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کی انسولین بنانے کی صلاحیت مزید کم ہوجاتی ہے۔

ٹائپ ٹو کا مرض عام طور پر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتا ہے جس کے علاج کے لیے غذا اور ورزش وغیرہ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، تاہم موجودہ عہد کے ناقص طرز زندگی کے نتیجے میں یہ نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابطیس ہو جاتا ہے، جب ان کا جسم، ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔

مختلف مطالعوں کے اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابطیس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو ذیابطیس میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کیوں ہوتا ہے؟

ذیابطیس کی تمام اقسام دو طرح کے عوامل یکجا ہونے سے پید اہوتی ہیں؛

1) وراثت، 2) ماحولیاتی اثرات

اگر آپ کے والدین بہن بھائیوں یا خون کے رشتوں میں ذیابطیس کا سلسلہ موجودہے تو آپ کے لیے ذیابطیس کا خطرہ زیادہ ہے۔ تاہم یاد رکھنا چاہئے کہ جنوبی ایشیا کے افراد میں (جن میں پاکستان بھی شامل ہے)ذیابطیس قسم دوم کا خطرہ ویسے ہی زیادہ ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اگر ہمارے خون کے رشتوں میں ذیابطیس کا سلسلہ پہلے سے موجود نہ ہو، تب بھی ہمارے لیے ذیابطیس ٹائپ ٹو ہونے کا خطرہ دوسری اقوام کی نسبت زیادہ ہے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی وجوہات کو سمجھانے کی غرض سے، ہم اسے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

ایک- وہ وجوہات جن پر آپ کا اختیار نہیں ہے، مثال کے طور پر؛

وراثت، عمر 45 برس سے زیادہ ہونا، بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا، خون میں چربی کے تناسب کی بعض خرابیاں وغیرہ۔

دوسری- ایسی وجوہات جو آپ کے اختیار میں ہیں، مثال کے طور پر؛

وزن کی زیادتی، خاص طور سے پیٹ کا بڑھنا، ورزش اور جسمانی مشقت کی کمی وغیرہ۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی علامات

ذیابطیس ٹائپ ٹو کا شکار افراد میں اس کی علامات کی نشاندہی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جب کسی میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو درحقیقت خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے کئی برس پہلے وہ شخص اس کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابیطس کو پنپنے سے روکنے کا عمل زندگی میں بہت پہلے شروع کر دیا جانا چاہیے۔ 

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی ابتدائی علامات میں بہت زیادہ پیاس کا محسوس ہونا، منہ کی خشکی، زیادہ بھوک لگنا اور بار بار پیشاب کی حاجت ہونا (اکثر ہر گھنٹے) اور وزن میں غیرمعمولی اضافہ یا کمی شامل ہے۔ بعدازاں، جب متاثرہ شخص کا بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے تو اسے سردرد، نظر میں دھندلے پن اور تھکاوٹ کی اضافی علامات کی شکایت ہوسکتی ہے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی تشخیص

بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے گزشتہ 2سے 3ماہ کا اوسط بلڈ شوگر لیول جان کر ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر متاثرہ شخص کو رینڈم بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کی بھی ہدایت کرسکتا ہے، جس سے اس کے موجودہ شوگر لیول کا پتہ چلتا ہے۔

علاج

ڈاکٹر متاثرہ شخص کی طبیعت اور بلڈ شوگر لیول اور ہسٹری کا جائزہ لینے کے بعد ابتدا میں ہی گولیوں اور دیگر ادویات کے ساتھ انسولین تجویز کرسکتا ہے۔ اس طرح کا علاج ان افراد کے لیے مؤثر رہتا ہے، جن میں Beta-cell failureکی تشخیص ہوتی ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہائی بلڈ شوگر کی صورت میں لبلبے انسولین بنانا ترک کردیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں انسولین کا روزانہ استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے۔

احتیاط

ذیابطیس ٹائپ ٹو سے متعلق حیران کن بات یہ ہے کہ آپ اس سے بچ سکتے ہیں اور درج ذیل مشوروں پر عمل کرکے آپ اس کے خطرات کم کرسکتے ہیں:

صحت مند غذا ئیں لیں، روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے تک ورزش کریں، وزن کی صحت مند حد کو برقرار رکھیں وغیرہ۔

صحت سے مزید