رمضان المبارک کا روح پرور مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ ایک طرف مسلمان اس مہینے کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں تو دوسری جانب پورے رمضان سحروافظار کی رونقیں بھی اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ تاہم روزے داروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو تمباکونوشی کے عادی ہیں۔ جیسے جیسے افطار کا وقت قریب آتا ہے انھیں سگریٹ پینے کی طلب ستانے لگتی ہے۔
ان کا بس نہیں چلتا کہ کیسے روزہ کھلے اور وہ فوراً سگریٹ کے کش لگائیں۔ مگر کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو سگریٹ نوشی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور رمضان میں انھوں نے کافی حد تک اپنے آپ پر کنڑول کیا ہے۔
سگریٹ نوشی دل کی بیماریوں کے علاوہ جسمانی جھٹکوں اور ہاتھ پاؤں میں رعشے کا باعث بھی بن سکتی ہے اور اس سے فوری موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
کلوٹنگ کا عمل
سگریٹ نوشی کی وجہ سے بلڈ پریشر اچانک بڑھ جائے تو دل کے دورے کا بھی احتمال رہتا ہے۔ رمضان میں کم سگریٹ نوشی کی عادت کو رمضان کے بعد بھی اپنائیں اور کوشش کریں کہ اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرلیں، کیونکہ تمباکو نوشی سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور خون میں آکسیجن بھی مناسب مقدار میں جذب نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور ’’کلوٹنگ‘‘ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ کلوٹنگ سے خون کی شریانوں کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور رگیں پھٹ سکتی ہیں جو فالج کا باعث بن سکتا ہے۔
سگریٹ کے نقصانات
یوں تو سگریٹ نوشی کے خطرات کو دیکھتے ہوئے اس کا استعمال کم کردینے بلکہ سرے سے چھوڑ دینے میں ہی عافیت ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتا ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے انسان کو دل، پھیپھڑے، سانس، نظام ہضم، پیشاب، معدہ، جگر اور منہ کی بہت سی مہلک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ میں 700 سے زائد زہریلے جراثیم پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ چہرے کی جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ چہرے کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔
سگریٹ میں نیکوٹین پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے جلد میں سوزش بڑھ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے چہرے پرکیل مہاسے نکل آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیکوٹین کا زہریلا اثر ایچ پی وائرس کو بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں کینسر اور مسے کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔
سگریٹ نوشی ترک کرنےکی تجاویز
رمضان المبارک میں آپ کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اچھا موقع ملاکیونکہ روزے دار15 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں اور اس دوران سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ اس طرح روزے دار کی طبیعت میں نظم و ضبط بھی پیدا ہوجاتا ہے اور برداشت بھی۔
اگر سگریٹ نوشی کے شوقین افراد تھوڑی محنت کر یں تو اس عادت سے کلی طور پر چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل چند باتوں کا دھیان رکھنا بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
1۔ مراقبے کی مشق سے تمباکونوشی کی عادت ترک کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
2۔ ورزش کے دوران نکوٹین کی طلب میں کمی آجاتی ہے۔
3۔ تمباکونوشی کی کشش اس وقت دم توڑ جاتی ہے جب ہمارا دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔
4۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال تمباکونوشی سے پاک زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
5۔ پرجوش سرگرمیوں کا حصہ بنیں اور نئے مشاغل اپنائیں۔
6۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سگریٹ کے بارے میں سوچنے سے گریز کریں۔
سگریٹ نوشی کا ماحولیاتی اثر
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد کی موت کا سبب بن رہی ہے۔ ادارے کے مطابق تمباکو کی پیداوار، اسے بنانے کا عمل اور اس کا استعمال ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ تمباکو نوشی ہر شعبہ زندگی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے اور یہ غربت میں اضافے، جسمانی و دماغی کارکردگی میں کمی، صحت میں خرابی اور فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
سگریٹ نوشی ترک کرنے کے فوائد
ہمارے جسم کی ساخت ایسی ہے کہ اس میں قدرتی طور پر زخم مندمل ہوجاتے ہیں۔ خاص کر ہمارے دل، جگر اور خون کی رگوں میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ موقع پاتے ہی خود کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرلیتی ہیں۔ جب آپ سگریٹ نوشی ترک کردیتے ہیں توجسم فوراً ہی پہلے کی طرح کام کرنا شروع کردیتا ہے۔
خاص کر جب آپ متواتر صبح غذائیت سے بھرپور خوراک لیں گے اور جسم کو چست و متحرک رکھیں گے تو جگر اور دل اپنا کام صحیح طرح کرنا شروع کردیں گے جیسا ایک عام اور صحت مند جسم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہارٹ اٹیک، اسٹروک اور سرطان ہونے کا خدشہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس لیے موذی اثرات سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی کو ترک کر دینا چاہیے۔