اقبال سیالکوٹی؟

June 14, 2024

اقبال کے اطمینان کیلئے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اور میرے چند دوسرے دوست اقبال صاحب سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں رکھتے بلکہ ان سے ہمارا اختلاف صرف نظریاتی نوعیت کا ہے بلکہ دوسروں کا تو پتہ نہیں جہاں تک میرا معاملہ ہے تو میں ان کی شاعرانہ عظمت کا اس حد تک معترف ہوں کہ اگر وہ تھوڑی سی محنت اور کرتے تو پورے ضلع سیالکوٹ میں ان کے برابر کا کوئی شاعر نہ تھا بلکہ میں نے تو ایک بار یہ بھی لکھا تھا کہ ان کے چند اشعار تو ایسے ہیں کہ میرے قد کاٹھ کا شاعر بھی انہیں شاعر ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک زمانے میں مجھے ان کے یہ دو اشعار بہت پسند تھے۔

تندیٴ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

یا

اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے

اک ضربِ ید اللّٰہی، اک سجدہ شبیری

مگر بعد میں مجھے انور مسعود صاحب نے بتایا کہ عقاب والا شیر اقبال صاحب کا نہیں کیونکہ ان کا عقاب کبھی گھبرایا ہوا نہیں پھرتا بلکہ یہ شعر شکر گڑھ کے ایک وکیل صاحب کا ہے جو فوت ہو چکے ہیں اور دوسرا شعر وقار انبالوی مرحوم کا ہے جو انہوں نے ہفت روزہ ”شیعہ“ کے اجرا پر اس کی پیشانی پر درج کرنے کے لئے ایڈیٹر کی فرمائش پر لکھا تھا۔ اگرچہ ان کے پورے کلام میں سے میرے یہ دونوں پسندیدہ شعر ان کے نہیں نکلے مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ اس کے باوجود وہ کئی شاعروں سے بہتر ہیں۔

اور جہاں تک اقبال صاحب سے میرے اور میرے دوسرے دوستوں کے نظریاتی اختلاف کا تعلق ہے تو دوسروں کا نقطہ نظر بیان کرنے سے پہلے میں اپنی بات کرونگا۔ بات یہ ہے کہ میں ترقی پسندی کے سخت خلاف ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اپنی ترقی پسند نہیں بلکہ اس سے وہ ترقی پسندی مراد ہے جس سے بغاوت کی بو آتی ہے اور اقبال صاحب کا تمام تر احترام ملحوظ رکھتے ہوئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان کی اس نوع کی ترقی پسندی مجھے ہضم نہیں ہوتی۔ خدا کا شکر ہے کہ ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر ان کے اس نوع کے باغیانہ کلام پر پابندی ہے جو ہمارے مثالی معاشرے میں انتشار کا باعث بن سکتا تھا۔ میں نقل کفر، کفر نہ باشد کے مصداق ان کے اس قماش کے چند اشعار ذیل میں درج کر رہا ہوں :

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے

کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دو

اقبال صاحب کا کلام صرف معاشرے میں فساد پھیلانے والے کلام ہی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ خدا کے حضور انسان کا کیس پیش کرتے ہوئے بھی وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو مجھ ایسا اسلام پسند ہضم نہیں کر سکتا۔ میں ان کی نظم ”شکوہ“ کی بات نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے ”جوابِ شکوہ“ لکھ کر مفتی صاحبان کو مطمئن کر دیا تھا مگر ان کے ان اشعار کا کیا کیا جائے۔

باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا

یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

اسی طرح مذہبی پیشواؤں کے بارے میں

دین ملا فی سبیل اللہ فساد

یا

تیری نماز بے سرور، تیرا امام بے حضور

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر

ایسے گستاخانہ اشعار کی موجودگی میں میرے جیسا اسلام پسند شاعر انہیں شاعر اسلام کیسے مان سکتا ہے؟

کچھ اتنے ہی ٹھوس نوعیت کے نظریاتی اختلافات میرے دوسرے دوستوں کو بھی ہیں مثلاً علامہ شکم پرور لدھیانوی کے دل میں تو اسی دن اقبال صاحب کے لئے تحفظات پیدا ہو گئے تھے جس دن انہوں نے اقبال صاحب کا یہ مصرعہ پڑھا تھا۔

فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دِل یا شکم ؟

ولیمے اور چہلم کی دعوت کو یکساں اہمیت دینے والے علامہ شکم پرور لدھیانوی کو یقین ہے کہ اقبال صاحب نے یہ طنزیہ شعر ان کے لئے کہا تھا۔ اسی طرح جناب بے غیرت انصاری، اقبال صاحب سے ان کے اس نوع کے خیالات کی وجہ سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں جو ان کے مصرعے:

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔ میرے ایک شاعر دوست جناب شباب پرور دہلوی کو اگرچہ اقبال صاحب کا؎

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

والا مصرعہ پسند ہے مگر ان کے شعر

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس

آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ حس جمالیات سے عاری تھے۔ اقبال صاحب کے ایک حامی نے انہیں عطیہ فیضی اور اپنی ایک جرمن استاد کے نام ان کے لکھے خطوط پڑھنے کا مشورہ دیا جنہیں پڑھ کر شباب پرور دہلوی نے کہا”یہ خطوط نظری قسم کی جمالیات کے حامل ہیں، عملی نوعیت کے نہیں۔ اقبال اپنی شاعری میں عمل کے حامی نظر آتے ہیں مگر ایسے معاملات میں اللہ جانے انہیں کیا ہو جاتا ہے“۔اسی طرح میرے ایک پنجابی دوست ہیں وہ تو اقبال صاحب کی مخالفت میں آخری حد تک جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس شخص کو لفظوں کے ہجے تک نہیں آتے اس نے شاعری کیا کرنی ہے ، ثبوت میں وہ اقبال صاحب کا یہ مصرعہ پیش کرتے ہیں۔

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز

میرے اس دوست کا کہنا ہے کہ ل سے لڑائی ہوتا ہے ، عین سے لڑائی نہیں ہوتا۔

ان سب اعتراضات کے باوجود میں بہرحال اقبال صاحب کو شاعر مانتا ہوں بلکہ آخر میں ایک دفعہ پھر میں اپنا یہ اعتراف دہرانا پسند کروں گا کہ اگر اقبال ذرا سی محنت اور کرتے تو پورے ضلع سیالکوٹ میں ان سے بڑا شاعر اور کوئی نہیں تھا!

اور اب آخر میں ممتاز نقاد، افسانہ نگار اور شاعر عباس رضوی کی ایک خوبصورت غزل:

سبز خوابوں سے بھری نیند سے خالی آنکھیں

رات کو دیر تلک جاگنے والی آنکھیں

جانے کس موڑ پہ بچھڑا وہ ستارہ ہم سے

جانے کس سمت گئیں دیکھنے والی آنکھیں

شوق نظارہ ہے اور کوچہ و بازار کی سیر

چین لینے کسے دیتی ہیں یہ سالی آنکھیں

بھولے بھٹکے وہ کبھی دیکھ تو لیتی ہیں ادھر

پھر جو بھرتی ہیں قلانچیں وہ غزالی آنکھیں

انکے کاسے میں کوئی ڈال دے اک ساعتِ دید

ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں جو سوالی آنکھیں

کون ایسا ہے جو احوال ہمارا پوچھے

کس کو فرصت ہے کہ دیکھے یہ گلابی آنکھیں