Advertisement

وادی کشمیر

September 19, 2018
 

ڈاکٹر وقار احمد رضوی

نوٹ :۔ یہ مضمون میں نے بھارت کے اس دعوے کی تردید میں لکھا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ بتایا ہے کہ جغرافیائی اور فطری لحاظ سے کشمیر کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔

………………

بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بتاتا ہے لیکن تاریخ کے باب کا وہ موڑ جہاں ادراک کی سرحدیں ذہنی افلاس کی خاکنائے سے اپنا رشتہ جوڑتی ہیں، شاید وہیں زندگی کا کفن سلا کرتا ہے۔ آکاش کی وسعتوں نے جانے کتنی تہذیبوں کو تاریخ کے ایسے ہی خونیں موڑ کی نذر ہوتے دیکھا ہے۔ ظلم کے دیوتا نے منصور سے نعرہ اناالحق اور فرہاد سے تیشہ کوہکنی کو چھینا تھا۔ لیکن آج خودساختہ تہذیب کا دیوتا۔ پھولوں سے نکہت و نم ، کہکشاں سے رنگ و نور ، ساز سے نغمہ ، نغمہ سے درد، اور درد سے سوز کو جدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ وادی کشمیر جس کی رگوں میں اسلام کا خمیر رقصاں ہے۔ جس کے معبد کہن کو توحید نے آبرو بخشی۔ امرنا تھ اور کیلاش کی چوٹیوں کی جس زمین کو مسلمانوں نے پاک و تقدس بخشا۔ جہاں نہ افرنگی کا مکروفن تھا اور نہ شاطروں کی چالباز یاں۔ افسوس کہ اب وہ زمین ہندوشاطروں کی سازشوں کا شکار ہوا چاہتی ہے۔

سر وسمن اور پھولوں کے اس دیس میں چراغ لالہ نے کوہ دمن کو اس لئے روشن کیا تھا کہ اس کی روشنی سےنور ایمان کا ایک نیا سنگم بنے گا۔ آبشاروں نے نغمہ ریزی اس لئے سیکھی تھی کہ وہ اپنے میٹھے نغموں سے کفر کے پردے اٹھا کر ،توحید کا ایک محل بنائیں گی۔ زغفران و بنفشہ کے کھیت اس لئے مسکرائے تھے کہ شاید ان کی مسکراہٹ سے مسلک تہذیب کا ایک جہاںآباد ہوسکے گا۔ لیکن دولت و سرمایہ کے علمبرداروں سےیہ نہ دیکھا گیا کہ مسلمان ایک مرکز پر مل سکیں۔ اور اب جب موت کا خونخوار درندہ انسانی خون کا پیاسا ہے۔ ایٹم کی دنیا نے پرچم توحید بلند کرنے والی قوم کو اجاڑنے کی ٹھانی ہے۔ اور تاریخ ایک باز پھر کشمیر کی وادیوں میں ہیروشیما اور ناگاساکی، کی داستانیں دہرانا چاہتی ہے۔کشمیر ہمیشہ سے مسلمانوں کا حصہ رہا ہے۔ کشمیر کا جغرافیائی اور تاریخی الحاق ہمیشہ سے سرزمین پاکستان سے رہا ہے۔ پاکستان کے تمام دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ یہ ایک جغرافیائی حقیقت ہے کہ پٹھان کوٹ اور جموں کی قدرتی سرحدوں کا فاصلہ کم نہیں تو اس سے زیادہ بھی نہیں جو بارہ مولہ اور راولپنڈی کے درمیان قرار پاتا ہے۔ شاہان مغلیہ سے پہل اور خود ان کےعہد میں کشمیر کا مسلمانوں سے قدرتی رشتہ ، علاقائی ، قانونی ، تہذیبی اور رسمی حیثیت سے اور مضبوط ہوگیا تھا جو اب تک چلا آرہا ہے۔ مسلمانوں کا اور کشمیر کا تعلق محض قانونی اور علاقائی ہی نہیں بلکہ روحانی اور تاریخی بھی رہا ہے۔ اگر آج ہم کشمیر کو مسلمانوں سے الگ کرتے ہیں تو سب سے پہلےہمیں تاریخ کے ان صفحوں کو بھی بدلنا ہوگا، جن میں مسلمانوں اور کشمیر کے گیت گائے گئے ہیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ کشمیر کی مسلمانوں سے علیحدگی اگر واقعی کوئی دلچسپ حقیقت ہے تو میں کہوں گا کہ اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں ہوائوں اور دریائوں کے رخ کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ پامیر اورقراقرم کے کوہساروں کو بھی ہمالیہ کی چٹانوںسے الگ کرنا ہوگا۔ چاند کی چاندنی ، سورج کی کرنوں اور ستاروں کی روشنی کو بھی بدلنا ہوگا۔ ستارء سحری نے آج تک کوئی صبح ایسی نہیں دیکھی جس میں نسیم زعفران بار ، کیسر کے دیس سے مسلمانوں کے لئے پیار و محبت کا سندیسہ نہ لائی ہو۔ شام کے سورج کی ڈھلتی ہوئی سنہری کرنوں نے آج تک کوئی شام ایسی نہیں دیکھی، جس نے لالہ کوہسار کے شبستانوں میں نغمہ توحید کی یاد تازہ نہ کی ہو۔ نسیم سحری آج بھی آتی ہے اور اپنے ساتھ توحید کا پیام لاتی ہے۔ لالہ کوہسار آج بھی اپنی محفل سجاتا ہے۔ تو پھر یہ کیا ہے کہ زندگی سے زندگی کا ساز چھینا جارہا ہے۔ دراصل کشمیر اور مسلمانوں کا تعلق روح اور جسم کا تعلق ہے۔ اور اگر واقعی یہ درست ہے کہ ساز کے پردوں سے نغمہ و لے کو الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ جسم کو روح سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ تو پھر یہ بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ نسیم سحری کو سحر سے، لالہ کوہسار کو کوہسار سے اور کشمیر کو مسلمانوں سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہ آگ کو پانی سے الگ رکھتے ہوئے تو دیکھا ہے۔ اور سنا ہے لیکن پانی سے چمک، غنچے سے تازگی اور سیماب سے تڑپ کو جدا کرتے ہوئے نہ سنا ہے اور نہ ان آنکھوں نے دیکھا ہے۔

کشمیر اور مسلمانوں کا سیاسی اور علاقائی رشتہ بہت پرانا ہے۔ مسلمان اور کشمیر ہمیشہ سے سماجی اور مجلسی زندگی میں ایک دوسرے کے برابر شریک رہے ہیں۔ وادی گل برگ، پہلگام اور سون مرگ کے بتاں لالائی، نگاراں خوبرو اور طائراں خوش الحان نے قلعہ معلی سے زبان کی نغمگی سیکھی ہے۔ اور مسلمانوں کی ثقافتی ، مذہبی اور فنی مرکزیت سے کشمیر کی جھیلوں ، چشموں اور مرغزاروں نے زیست کا مزا پایا ہے۔ حسن کی کائنات یہیں سے سنوری۔ ؎

اگر فروس برروئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

اکبر کا خروی جاہ و جلال ، جہاں گیر و تورجہاں کی محبت اور شاہ جہاں کا احساس جمال، آج بھی نشاط و شالامار باغ اور سرور شمشاد کی گھنی چھائوں میں آرام کررہا ہے۔ نسیم باغ کے گھنے سایہ دار چنار کے درخت مسلمانوں کے ذوق جمال اور ان کی تہذیب کو آج بھی یاد کیا کرتے ہیں۔ کشمیر کی شال بافی اور پیپر ماشی کی صنعتوں کو مسلمانوں ہی کی تائید سے فروغ ہوا۔ اس لحاظ سے مسلمانوں سے کشمیر کا اقتصادی رشتہ بھی بہت گہرا اور متوازن ہے۔ اقبال نے شاید اسی زمین کو دیکھ کر کہا تھا ؎

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو

کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرقناک

لیکن وہ زمین جہاں سے نغمہ توحید بلند ہوتا ہے ۔ آج اس کی جبیں خود عرق آلود ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے کوئی جرم و قصور کیا ہے بلکہ اس لئے کہ آج اس کی زمین دشت و یراں بنی ہوئی ہے۔ چشموں اور آبشاروں کی گود میں حسن یہاں اس لئے بے نقاب ہوا تھا کہ شاید پہنئے فلک کی رفعتوں میں گم ہو کر سراغ زندگی پا جائے۔ لیلئی شب نے یہاں گیسو و رخسار کو غازہ و عطر مشک بو سے اس لئے سنوارا تھا کہ شاید اس کا نالہ بے باک بیداری کا پیغام سنائے گا ۔ آنکھوں کو حرارت ایمانی سے روشن کرے گا۔ اور دلوں کو گرمی حرارے گرما دے گا۔ یعنی اس میں حریت احرار کا صور پھونک دے گا۔ تاکہ وہ ہندو قوم کی غلامی سے نجات حاصل کریں۔ لیکن فطرت کے سب قانون آج بے اثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ مرغ چمن کا ساز توحید ، بے آواز ہوتا جارہا ہے۔ تاہم عقل و خرد کے نام نہاد پاسبانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیر ابتدا سے مسلمانوں کا جز رہا ہے۔کشمیر کا سیاسی، ملکی ، ثقافتی رجحان ہمیشہ مسلمانوں سے وابستہ رہا ہے۔ اس سبب سے نہیں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے بلکہ اس لئے بھی کہ وادی کشمیر کے پہاڑوں اور جھیلوں میں اسلامی تہذیب کا عکس ہے۔ اور وہاں کی فضائوں میں تاج محل ، اقبال اور توحید کے ترانوں کی گونج پائی جاتی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ صرف چالیس لاکھ انسانوں کی زندگی کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہاں کے مسلمانوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں جہلم کی موجیں آج بھی ایک بار پھر آواز اذان دے رہی ہیں۔ ہمیں اس آواز پر لبیک کہنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور سامراجی طاقتوں نے کشمیر کو چھیننے کی کوشش کی تو پھر جہلم کے کنارے خون کی ندیاں بہیں گی۔ پھولوں کا دیس تباہ ہو جائے گا۔ جھیلوں کی دنیا سنسان ہوجائے گی۔ حسن کی کائنات لٹ جائے گی۔ اور انسانیت یتیم ہو جائے گی۔

دراصل کشمیر میں جواہر لال نہرو کی پالیسی چل رہی ہے۔ جواہر لال ، کشمیری پنڈت تھے۔ اس لئے ان کی یہ آرزو تھی کہ کشمیر بھارت سے نہ چھن جائے کیونکہ وہ ان کے آبائو اجداد کا وطن ہے اسی لئے انہوں نے اپنے دوست شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ کیونکہ شیخ عبداللہ کشمیر کو بھارت سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ نہرو خاندان کی یہ پالیسی اب تک چل رہی ہے۔ ورنہ کشمیر کو آزادی ملنے میں اور کوئی رکاوٹ نہیں۔

اگر یہ بات ہے تو علامہ اقبال بھی کشمیری برہمن تھے۔ اقبال نے خود کہا ہے ؎

مرابنگر کہ در ہندوستان دیگر نمی بینی

برہمن زادہ از آشنائے روم و تبریز است

لیکن وہ اسلامی تعلیمات سےبہرہ ور ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ اسلام کا پرچم سر بلند کیا۔مجھے امید ہے کشمیر آزاد ہوگا۔ رات کی تاریکی چھٹ جائے گی۔ ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔ اور کشمیر میں توحید کا نعرہ بلند ہوگا۔ حکومت جادوگری کا نام ہے۔ جس پر حکومت کی جاتی ہے۔ اگر وہ جاگ جائیں تو پھر سلطنت باقی نہیں رہتی۔ جب کوئی اسرائیل پیدا ہوتا ہے تو اس کی سرکوبی کے لئے موسیٰ پیدا ہوتا ہے۔ جمہوریت کے لباس میں ظلم و جور کا نظام نہیں چل سکتا ۔ بھارت کا پالیمانی نظام ، جنگ زرگری ہے۔ چشم فلک ، قوموں کے عروج و زوال کو دیکھتی آئی ہے۔ کوئی چیز ایک پہلو پر قائم نہیں رہتی۔ دنیا کا رواج یہ ہے کہ وہ بدلتی رہتی ہے۔ کبھی عروج ہے۔ کبھی زوال ۔ زندگی تغیر پذیر ہے۔ وہ نئے روپ دھارتی ہے۔ ایک قوم مرتی ہے۔ دوسری قوم ابھرتی ہے۔ یہی زمانے کا دستور ہے۔ اس لئے کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ ایک زمانہ تھا جب بابل و نینوا و عراق کی تہذیب کا بڑا نام تھا۔ وہ ایسی زوال پذیری ہوئی کہ اب اس کوکوئی جانتا بھی نہیں۔ ایران کے تخت شاہی کو بھی موت نے نگل لیا۔ اور یونان و روم بھی برباد ہوگئے۔ کشمیر میں آسمان صبح سے آزادی کا نیا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ اور اس کی ایک ہی صورت ہے کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے عامہ کرایا جائے۔ بھارت کو کشمیریوں کے اس حق کو تسلیم کرنا چاہئے۔ ایک لاکھ کشمیریوں کا خون ناحق رنگ لائے گا۔

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

نائو کاغذ کی کبھی چلتی نہیں


مکمل خبر پڑھیں