Advertisement

مجھے کراچی پسند ہے

September 05, 2019
 

سلیم اللہ

میں کہیں بھی چلا جاؤں مجھے سکون کراچی ہی میں ملتا ہے۔ رہزن راج کے باوجود لفٹ دینا اس شہر کا کلچر ہے۔ بسوں میں کوئی بزرگ چڑھ جائے تو لوگ اپنی سیٹ دینے کے لئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ راستے میں گاڑی یا بائیک خراب ہوجائے تو مدد کرنیوالے اتنے آجاتے ہیں کہ اچھا بھلا بندہ شرمندہ ہوجاتا ہے۔ رمضان میں افطار کے وقت سڑک سے گزر جائیں تو روزہ کھلوانے والوں سے جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے، یہاں کے لوگ سخی ہیں ملک کی تمام بڑی سماجی تنظیموں ایدھی ، چھیپا، سیلانی، عالمگیر ویلفیئر، جے ایم ڈی سی، انصار برنی، فاطمید بلڈ، حسینی بلڈ بینک سمیت سینکڑوں سماجی تنظیموں کی جنم بھومی یہی شہر ہے، انھیں چندہ بھی یہی شہر دیتا ہے۔ امن پسند صوفی ہوں یا انتہا پسند مولوی، دینی جماعتیں ہوں یا مدارس، فرقہ پرست ہوں یا بھائی چارے کے داعی یہاں سب کے لئے وافر چندہ موجود ہے، چندہ اس شہر کی خو میں اتنارچا بسا ہوا ہے کہ یہاں کےلڑکوں کا گروپ بھی پکنک پر بھی چندہ جمع کرکے جاتا ہے۔ آج کل محرم ہے محلے، محلے میں چندے جمع ہوں گے، سبیلیں لگیں گی، رت جگوں کے شور میں حلیم کی دیگیں کھڑکیں گی ۔

اس شہر کے باسی اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزار رہے ہیں

یہاں بھیک اتنی ملتی ہے کہ سڑکوں پر بھانت بھانت دیس دیس کے بھکاریوں کا راج ہے، بلکہ بھیک کی جگہیں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ ریستورانوں کے باہر مفت کھانے والوں کی لمبی قطاریں جابجا نظر آتی ہیں۔ آج کل خیراتی دستر خوان کا رواج چل پڑا ہے، جہاں صدقے کا مٹن غیر مستحق لوگوں کا دل بھی لبھاتا ہے۔ کراچی میں خیراتی دسترخوانوں پر روزانہ کم سے کم چار سے پانچ لاکھ لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ اس شہر میں غربت تو ہے، مگر بھوک نہیں ہے۔سب کے لئے روزگار ہے، پناہ ہے۔ہر دوگام بدلتی ہوئی زبان، کلچر اس شہر کا حسن ہے۔زاہد اور جاوید کی نہاری سٹی کورٹ کے مرغ چھولے، سٹوڈنٹ اور فوڈ سینٹر کی بریانی، جمشید روڈ کی مچھلی کراچی اور مزےدار کا حلیم لالو کھیت ڈاکخانہ کی مچھلی کٹا کٹ میں میری جان بند ہے۔

یہاں کے لوگ چھٹیاں منانے کے بہت شوقین ہیں، چھٹی کا کوئی بہانہ مل جائے چھٹی کرنے سے نہیں چوکتےابھی بقرعید پر آٹھ چھٹیاں منا کر بیٹھے ہیں تو اب محرم کی چار چھٹیوں کے پلان بن رہے ہیں۔ بیشتر کو ایم کیو ایم کے جانے سے یہی غم لاحق ہے کہ اب ہڑتال کی چھٹی ماری گئی۔اس شہر کی اپنی مدد آپ کے تحت جینے کی خو مجھے بہت پسند ہے۔ اس کا کوئی والی وارث نہیں، مگر یہ سب کا والی وارث ہے۔ مجھے یہ احساس بھی بے حد سکون دیتا ہے کہ اتنے بڑے شہر کے تمام راستوں سے علاقوں سے واقف ہوں۔ تما م شارٹ کٹس مجھے معلوم ہیں۔ اس شہر میں مجھے یہ بات بھی بہت پسند ہے کہ یہاں ہر دوگام کوئی نہ کوئی جان پہچان والا مل جاتا ہے سلام دعا کرلیتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں