پاک بھارت وزرائے اعظم کے امریکی دورے

September 26, 2019
 

اس ہفتے عالمی منظر میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے دو اہم واقعات ہوئے یعنی پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بیک وقت امریکا میں موجود تھے۔ گو کہ دونوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان اور نریندر مودی دونوں نے اپنے اپنے وقت کا بھرپور استعمال کیا۔

دونوں اپنی بھرپور فارم میں نظر آئے اورسامعین کو اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق متاثر کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کا سب سے اہم بیان یہ تھا جس میں انہوں نے بھارت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں پاکستان سے زیادہ بھارت کی فکر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی حکم ران جماعت بی جے پی اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی دونوں نفرت کی سوچ کے علم بردار ہیں اور اس بات کی عمران خان نے خوب وضاحت کی۔ بی جے پی گو کہ صرف چالیس سال پرانی ہے مگر اس کی نظریاتی اساس 1970 کے عشرے کی جنتا پارٹی اور اس سے بھی پہل کی راشٹریہ سیوک سنگھ اور جن سنگھ سے ملتی ہیں ،جنہیں مجموعی طور پر سنگھ پریوار دیا جن سنگھ کا خاندان کہا جاتا ہے۔

عمران خان نے اپنے امریکی دورے کے دوران اپنے سامعین کو یاد دلایا کہ یہی نفرت کی سوچ اور نظریہ تھا جس نے گاندھی کو قتل کیا اور اب پورا بھارت اس نفرت کی زد میں ہے۔

عمران خان کا متاثر کن خطاب امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز یا مجلس بیرونی تعلقات میں دولت مشترکہ کے جنرل سیکریٹری کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوا۔ اس خطاب کی اچھی بات یہ تھی کہ اس میں کشمیر کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی گفت و گو ہوئی، ورنہ خدشہ یہ تھاکہ کہیں یہ صرف اور صرف کشمیر تک محدود ہوکر نہ رہ جائے۔

خاص طور پر افغانستان کے بارے میں عمران خان نے اس بات کی وضاحت کی کہ امریکا کی افغانستان میں ناکامی کا الزام صرف پاکستان پر دھرنا درست نہیں، کیوں کہ پاکستان کے لیے بھی یہ امر پریشانی کاباعث ہے کہ افغان امن مذاکرات کے بعد جب امریکا اور طالبان معاہدے پر دست خط کرنے والے تھے اس وقت مذاکرات معطل یا ختم ہوگئے۔

وزیراعظم عمران خان نے سامعین کو یاد دلایا کہ افغانستان گزشتہ چار عشروں سے تباہی کا شکار ہے اور اس جنگ کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آرہا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ اب پاکستان کے حکم ران برملا اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا گیا جس میں پاکستان امریکا کے ساتھ کھڑا تھا لیکن جب دس سال کی جنگ کے بعد افغانستان سے روسی فوجیں نکل گئیں تو امریکا نے پاکستان کو ان لڑاکا مجاہدین یا چھاپہ ماروں کے ساتھ چھوڑ دیا۔

یہی وہ باتیں ہیں جو 1980 کے عشرے میں افغان جنگ کے مخالف جیسے عبدالولی خان اور غوث بخش بزنجو وغیرہ کیا کرتے تھے۔لیکن اس وقت جنرل ضیاالحق اور ان کے ساتھی جنرل کسی کی بات سننے پر تیار نہیں تھے کیوں کہ جنرل ضیاالحق کو خود اپنے اقتدار کو طول دینے سے غرض تھی اور اس کے لیے جہادی نعرے سب سے کارآمد تھے جن کے ذریعے اس پورے خطے کو ایک طویل جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا تھا جو اب تک بھڑک رہی ہے۔

عمران خان نے وضاحت کی کہ گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد ایک بار پھر یہی غلطی دہرائی گئی اور امریکا افغانستان میں داخل تو ہوگیا مگر جنرل مشرف نے پاکستان کو ایک بار پھر ان ہی گروہوں کے خلاف لڑائی شروع کی جن کو یہ کہہ کر تربیت دی گئی تھی کہ غیرملکی افواج کے خلاف لڑنا ’’جہاد‘‘ ہے۔

عمران خان کے یہ الفاظ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں کہ ’’گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ پاکستان اپنی جانیں گنواچکے ہیں اس کے علاوہ دو سو ارب ڈالر تک کا نقصان الگ ہوا ہے۔عمران خان نے اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان سے مشورہ کیے بغیر ہی افغان طالبان سے اپنے مذاکرات ختم کردیئے۔

عمران خان نے اسامہ بن لادن کے بارے میں تحقیقات سے بالکل لاعلمی کا اظہار کیا کہ وہ ایبٹ آباد کمیشن کے نتیجے سے واقف نہیں ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے ساتھ مل کر کہا کہ دہشت گردی اور اس کی ترویج کرنے والوں کے خلاف مل کر لڑائی لڑی جائے گی اور پھر یہ بھی کہا کہ جن سے اپنا ملک نہیں سنبھل رہا وہ بھی بھارتی معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں۔

نریندر مودی نے بھارتیوں کے جس بڑے اجتماع سے خطاب کیا اس میں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مودی کے بڑے گن گائے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ امریکا میں کسی بھی غیرملکی رہنما کا سب سے بڑا جلسہ تھا جس میں پچاس ہزار کے قریب بھارتی امریکیوں نے شرکت کی۔نریندر مودی نے کشمیر میں اپنی افواج کی بربریت سے توجہ ہٹانے کے لیے الزام لگایا کہ بھارت کے مخالف نفرت کی سیاست کررہے ہیں دہشت گردی کے حامی ہیں اور دہشت گردی کرنے والوں کو پالتے ہیں۔

پاکستان کا نام لیے بغیر مودی نے الزام لگایا کہ گیارہ ستمبر کے حملے اور بمبئی میں چھبیس نومبر کے حملے ایک ہی سازش کا نتیجہ تھے مگر مودی نے یہ نہیں بتایا کہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کی سازش کس نے اور کہاں تیار کی۔ اس طرح مودی نے اپنی کشمیر کی جنگ کو بالکل نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔

بھارت کی طرف سے کشمیر میں آئین کی دفعہ تین سو ستر کو ختم کئے جانے کے بعد کشمیری عوام کے محاصرے کو پچاس روز سے زیادہ گذر چکے ہیں مگر مودی اب بھی اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ آئین کی وہ شق بڑی رکاوٹ تھی جس کو ختم کردیا گیا ہے۔ مودی نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ اب اس ستر سالہ پرانی رکاوٹ کو ختم کردیا گیا ہے۔

دراصل مودی اور ٹرمپ کا یہ یارانہ اس خطے کے لیے ایک بڑی خطرے کی گھنٹی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اب مودی اور ٹرمپ اس خطے کو ایک اور بڑی جنگ میں جھونکنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور اس سازش میں اسرائیل بھی ملوث نظر آتا ہے۔

اس نازک صورت حال میں پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا اور عمران خان نے کچھ دن پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ اگر کسی نے بھی پاکستان کی طرف سے کشمیر لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی کوشش کی تو یہ پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے بڑی خطرناک بات ہوگی۔اب وقت آگیا ہے کہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھایاجائے جس سے جنگ کا خطرہ بھڑک اٹھے۔دنیا اب پاکستان کی بات سن تو رہی ہے مگر بھارت کے خلاف کچھ کرنے پر تیار نہیں ہے۔