Advertisement

روشن کتاب …

November 09, 2019
 

تحریر: قاضی عبدالعزیز چشتی۔۔ لوٹن
ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ کائنات کے اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کرنے کیلئے آئی۔ اس بابرکت و باعظمت تاریخ کو آقائے کائنات سرور دو عالم رحمت اللعالمین اور اللہ رب العزت کے پیارے محبوب سب نبیوں کے امام و رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ ہوئی۔ رحمت خدا وندی نے کائنات کی ہر شے پر باران نور کردی۔ کائنات کے ذرے ذرے نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن منایا۔ امام الانبیا کی ولادت طیبہ کی ساعتیں اپنے اندر بے پناہ خیر و برکات اور انوار و تجلیات لا رہی تھیں۔ فضائیں معطر و معتبر تھیں۔ مولائے کائنات کی مدح و ثنا سارے عالم پر محیط ہوگئی۔ یہ مبارک ساعتیں اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لانے اور اس کے محبوب کی بارگاہ اقدس میں درودو سلام بھیجنے کی باعظمت ساعتیں تھیں، یہ ثناء کا عالمی دن تھا۔ اس مقدس موقع پر زمین و آسمان بلکہ سارے جہان نغمات مدح و ثناء سے گونج اٹھے، فرشتے پر باندھے حضورﷺ کی والدہ ماجدہ سیدہ کائنات حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ مقدسہ پر سلام دینے کیلئے اترے۔ فضا ملائکہ کی آمد سے اور مدح و ثناء سے معمور ہوگئی۔ انبیا کی آرزوئوں کا مرکز کائنات کی تمنائوں کا محور حضرت خلیل اللہ کی دعائوں کا اثر حضرت عیسیٰ کی بشارت و خوشخبری کا ثمر، غریبوں، یتیموں، مظلوموں کے والی کائنات کے سب سے بڑے کریم جلوہ فرمائے ہوئے تو ہرسو نور ہی نور بکھیر گیا۔ محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت دکھی انسانوں کیلئے دامن و راحت کا پیغام تھا۔ آپ کا وجود مقدس پوری انسانیت کیلئے مژدہ رحمت بن کر آیا۔ کائنات کے چہرے سے گردو ملال دھل گئی۔ چہرے پر نکھار اور نور آگیا۔ انسانی زندگی کا رخ نکھر آیا۔ مضطرب اور مضموم دلوں کو سکون نصیب ہوا۔ حضورﷺ ہی کا نام نامی مصائب و آلام میں گھرے ہوئے انسانوں کیلئے وجہ سکون بن گیا۔ بارہ ربیع الاول شریف وہ باعظمت دن ہے جس دن کو اللہ رب العزت نے مومنوں پر احسان فرمایا۔ انہیں اپنا محبوب عطا فرمایا۔ عظمت والے اور بڑی شان والے رسول کو معبوث فرمایا، یہ بڑے انعامات و عنایات اور فیوض و برکات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن اپنے پاک پروردگار کے حضورسپاس گزاری اور سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ اسی مبارک دن کو اللہ کریم نے اپنی مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کیلئے اپنے محبوب کریم کو اس دنیا میں بھیجا۔ بارہ ربیع الاول کو پورے عالم اسلام میںفرزندان اسلام عاشقان رسول اپنے کریم آقاﷺ سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ مناتے ہیں۔ کانفرنسوں، جلوسوں، محافل میلا کا انعقاد کرتے ہیں، جس میں قرآن خوانی، نعت خوانی وعظ و نصیحت کا اہتمام کرکے بارگاہ رسالت ﷺمیں درودو سلام کے نذرانے پیش کرکے اپنی بخشش و نجات کا ذریعہ بناتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ محبوب ہم نے آپﷺ کے لیے آپﷺ کے ذکر کو بلند کیا۔ آج اللہ کریم کا وعدہ پورا ہورہا ہے، ہر لمحہ، ہر ساعت پوری
دنیا میں اذان اور کلمہ طیبہ کی شکل میں اللہ کریم کے محبوب کا ذکر جاری و ساری ہے۔ خوش نصیب اوربلند بخت ہیں وہ لوگ جو عشق رسول اور محبت رسول میں اپنے کریم آقا ﷺکی محبت میں ذکر رسول کی محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اتباع سے ایک بندہ مومن اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی بن جاتا ہے اور اس کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔ خود قرآن گواہ ہے۔ ’’اے محبوب فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو آپﷺ کی اتباع کرو اللہ ان سے محبت بھی کرے گا اور ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ اللہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔‘‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باعث تخلیق کائنات ہے، آپﷺ کی محبت و اتباع سے دونوں جہانوں کی عزتیں اور سرفرازیاں حاصل ہوجاتی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرے، ایک اور روایت کے مطابق مراد رسول حضرت امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کرتے ہیں کہ یارسول اللہ آپ مجھے ہر شے سے زیادہ پیارے ہیں لیکن اپنے آپ سے نہیں۔ اس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے اپنے آپ سے زیادہ پیار نہ کرے۔ اسی وقت جناب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عرض کرتے ہیں کہ اس رب کی قسم جس نے آپ پر قرآن پاک نازل فرمایا، اب آپﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر اب بات بنی۔ مولائے کائنات علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے مال و دولت، اولاد، اپنے آبائو اجداد اور اپنی مائوں سے اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ آئیے ہم اپنے پیارے آقا علیہ السلام کے میلاد پاک کے مقدس موقع پر تجدید عہد کریں کہ ہماری زندگی اللہ کریم کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اتباع میں گزرے گی، اللہ کریم کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ اپنے قول و فعل کے ذریعے آپﷺ کے دین اور آپﷺ کی شریعت کا دفاع کیا جائے۔ سخاوت و ایثار، علم، جبر اور تواضع و انکساری و عاجزی میں اپنے اخلاق و کردار کو حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کے رنگ میں ڈھالا جائے۔ قرآن پاک کا بھی یہی پیغام ہے کہ تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ ٔحسنہ ایک کامل نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے دین قرآن آپ کی آل پاک، صحابہ کرام، آپ کے شہر اور ہر وہ شے جس کی نسبت اور تعلق آپ کے ساتھ ہے اس سے محبت کی جائے، محبت کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ محب اپنے محبوب کے اوصاف و کمالات کا ذکر کرے، آئیے ہم بھی ولادت طیبہ کے جشن میں اپنے کریم آقاﷺ کے اوصاف و کمالات، معجزات، اخلاق و کردار، صورت و سیرت آل و اصحاب کا ذکر کرکے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناکر اپنی محبت و عقیدت کا اظہار بھی کریں اور اپنی بخشش و نجات کا سبب بھی اور ذریعہ بھی بنائیں۔


مکمل خبر پڑھیں