ڈنگر، فضول، بے ہودہ شخص!

November 09, 2019
 

انور مسعود کی مشہورِ زمانہ نظم ’’اج کیہہ پکائیے‘‘ کی طرح ہم کالم نگاروں کو بھی روزانہ یہ مسئلہ درپیش آتا ہے کہ ’’اج کیہہ لکھئے‘‘۔ کسی منجھے ہوئے کالم نگار بلکہ کسی ’’پیشہ ور‘‘ کالم نگار کے لئے لکھنا لکھانا تو کوئی مسئلہ نہیں، واضح رہے کہ پیشہ ور سے مراد وہ ’’پیشہ‘‘ نہیں جو آپ کے ذہن میں آ رہا ہے، کیونکہ کسی ’’پیشہ ور‘‘ کے لئے تو یہ کسی کے ’’دائیں‘‘ اور کسی کے ’’بائیں‘‘ ہاتھ کا کام ہے، چنانچہ جب وہ لکھنے بیٹھتا ہے تو وہ فرفر لکھتا چلا جاتا ہے، بس اس کے لئے اسے ’’دائیں‘‘ اور ’’بائیں‘‘ دیکھنا پڑتا ہے، ایک ’’پیشہ ور‘‘ کالم نگار کے لئے موضوع کی تلاش اس لئے مشکل ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں لکھنا چاہتا جس سے وہ مشکل میں پڑ سکتا ہو، ہر دور کی اپنی کچھ مشکلات اور اپنی کچھ سہولتیں ہوتی ہیں اور ’’پیشہ ور‘‘ کالم نگار سہولتوں کی تلاش میں رہتا ہے، ایک ’’حافژ جی‘‘ سے کسی نے پوچھا، حافژ جی حلوہ کھاؤ گے؟ انہوں نے جواب دیا ’’اگر حلوہ بھی نہیں کھانا تو حافژ بننے کا کیا فائدہ؟‘‘ واضح رہے پنجاب میں حافظ قرآن کو حافظ اور نابینا شخص کو ’’حافژ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سو ’’پیشہ ور‘‘ کالم نگار بھی حلوہ کھانے ہی کے لئے ’’حافژ‘‘ بنے ہوتے ہیں۔ ان ’’حافژوں‘‘ کی تعداد میں بھی اس وقت اضافہ ہو جاتا ہے جب ملک میں کسی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا کر کوئی آمر برسر اقتدار آتا ہے۔ یہ دن ’’حافژوں‘‘ کے لئے روزِ سعید ہوتا ہے کہ اس کے بعد انہیں موضوع کی تلاش نہیں رہتی، وہ روزانہ سابقہ حکومت کے لتے لینے میں لگ جاتے ہیں اور ان کے حوالے سے ایسے ایسے انکشافات کرتے ہیں کہ انسان کو سارے سیاسی عمل سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ آمر کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگتا ہے۔ میں بھی ایک ’’حافژ‘‘ کالم نگار ہوں، میں نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء دیکھے ہیں۔ الحمدللہ ان ادوار میں کالموں کے لئے وافر مقدار میں ’’رزق‘‘ ملتا رہا ہے اور کبھی ’’اج کیہہ لکھیے‘‘ والی مشکل پیش نہیں آتی۔ میں روزانہ سابقہ جمہوری حکومت کی ایسی کی تیسی پھیرتا تھا اور اپنے قارئین کو تلقین کرتا تھا کہ وہ مسجدوں میں جاکر شکرانے کے نوافل ادا کریں کہ اللہ نے ان کی سن لی ہے، ورنہ یہ سیاستدان تو ملک کو کھا گئے تھے!

اور ہاں! ایک احتیاط البتہ اس ضمن میں ضرور کرنا پڑتی تھی، وہ یہ کہ آمریت کمزور ہوتے ہی جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ضروری ہو جاتا تھا کیونکہ وہ اس وقت ’’صابر سلطان‘‘ بن چکا ہوتا تھا اور یوں میری اس سے بلے بلے ہو جاتی تھی اور لوگ مجھے نڈر اور بے باک کالم نگار سمجھنے لگتے تھے بلکہ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی تھا کہ آنے والی جمہوری حکومت مجھے جمہوری سوچ کا حامل کالم نگار سمجھتے ہوئے اپنے دروازے میرے لئے کھول دیتی تھی۔

میں نے یہ کالم ابھی یہیں تک لکھا تھا کہ بدبخت بھولا ڈنگر آن ٹپکا، اس نے کالم پر ایک سرسری سی نظر ڈالی اور کہا، ’’حافژ جی‘‘ تمہارے فائدے کے لئے ایک بات کہہ رہا ہوں، مانو گے؟ میں نے کہا ’’بولو‘‘ اس نے مجھے سمجھایا اپنے آئندہ کسی کالم میں یہ ضرور لکھ دو کہ ہمارے کچھ سیاستدان واقعی بہت کرپٹ ہیں اور اتنے ہی کرپٹ ہیں جتنے ہماری زندگی کے تمام شعبوں کے افراد کرپٹ ہیں لیکن ان سیاستدانوں نے 47کے بعد تباہ حالی میں ملنے والے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، ایک بے سرو سامان زمین پر کروڑوں مہاجرین کو خوش آمدید کہا اور ان کی بحالی کا مشکل ترین کام سر انجام دیا۔ ترقیاتی منصوبے بنائے اور ان کو مکمل کیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے پر بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے جنگی قیدیوں کو واپس پاکستان لائے، پاکستان کو آئین دیا، موٹر وے بنائی، ان کے دور میں پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا، گوادر کا علاقہ خرید کر اسے پاکستان میں شامل کیا اور اس پر اہم ترین بندرگاہ تعمیر کی۔ اس کے برعکس آمروں کی حکومت کے دوران سیاچن ہمارے ہاتھ سے گیا، آدھا پاکستان ہم سے الگ ہو گیا، دہشت گردی، منشیات اور امریکہ کی غلامی ہمارا مقدر بنی، سیاسی عدم تسلسل کی وجہ سے ہمارے ہاں ست ماہی سیاستدان پیدا ہوئے اور یوں ملک آج تمام قسم کے جن بحرانوں سے دوچار ہے وہ سب کے سب آمروں کے ادوار کی پیداوار ہیں‘‘۔ بھولا ڈنگر مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگا، ان لمحوں میں تو اس کا وجود بھی میرے لئے ناقابلِ برداشت سا ہوگیا، تاہم میں نے اپنے اندر موجود منافقت کے لامحدود ذخیرے میں سے تھوڑی سی منافقت استعمال میں لاتے ہوئے ملائمت سے پوچھا ’’تم نے تو کہا تھا کہ یہ سب کچھ لکھنے سے مجھے فائدہ ہوگا مگر مجھے تو اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا‘‘، اس پر اس نے اپنے میلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا ’’فائدہ یہ ہے کہ کبھی کبھار سچی بات لکھنے سے تم جیسے ’’حافژوں‘‘ کی بھی کریڈیبیلٹی بہتر ہو جاتی ہے اور اس کے بعد لوگ تمہارے جھوٹ پر بھی اعتماد کرنے لگتے ہیں چنانچہ بسم اللہ کرو اور آج کوڑا گُھٹ بھر کے یہ سب کچھ لکھ ہی دو!‘‘ اور پھر وہ ہنستا ہوا باہر نکل گیا۔ فضول آدمی، ڈنگر، بے ہودہ شخص!