وزیرِ اعظم نے کرتار پور راہداری کا افتتاح کر دیا

November 09, 2019
 


Your browser doesnt support HTML5 video.

وزیرِ اعظم نے کرتار پور راہدراری کا افتتاح کر دیا

پاکستان نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کے 550ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کے لیے آج سے کرتار پور راہداری کھول دی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

وزیرِاعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری کو گرونانک جی کی 550ویں سالگرہ مبارک ہو۔

انہوں نے کہا کہ 10 مہینے کے اندر کمپلیکس بنانے پر ایف ڈبلیو او سمیت تمام ادروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنا زبردست کام کر سکتی ہے، ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب کے لیے رحمت بن کر آئے۔

عمران خان نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا، جانوروں میں کمزوروں کے حقوق نہیں ہوتے، جتنے پیغمبر علیہ السلام آئے انہوں نے انسانیت اور انصاف کی بات کی، جو لوگ بھی اللّٰہ سے قریب تھے، ان سے لوگ پیار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برصغیر میں آج بھی لوگ اولیاء کے مزاروں پر جاتے ہیں، کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے، مجھے یہ خوشی ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ کر سکے، مجھے ایک سال پہلے پتہ چلا کہ سکھوں کے لیے بابا گرو نانک کی کیا حیثیت ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستانیوں کو کہنا ہے کہ کرتار پور سکھوں کے لیے مدینہ کی حیثیت رکھتا ہے، لیڈر نفرتیں پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا، افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، لیکن نیلسن منڈیلا نے قومیتوں کو لڑنے سے بچایا، ہمارے دین میں ایک انسان کا قتل پوری دنیا کا قتل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تو مودی سے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، میں نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ کشمیر ہے، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کشمیریوں سے بنیادی انسانی حقوق چھین لیے گئے، اس طرح امن نہیں ہوگا، کشمیر کا مسئلہ زمین کا مسئلہ نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آج بھی وزیرِاعظم مودی سے کہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں، اس مسئلے سے پورے برصغیر کو آزاد کر دیں، امید ہے کہ یہ ایک شروعات ہے، ایک دن ہمارے حالات بھارت سے ایسے ہوں گے جیسے ہونے چاہیے تھے۔

اس سے قبل وزیرِاعظم عمران خان نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ آج کا دن خطے کے امن کے لیے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیے:کرتارپور راہداری افتتاح، مودی نے عمران کا شکریہ ادا کیا

باباگرو نانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر بھارت سے سکھ یاتریوں کا وفد پاکستان پہنچا، بھارت کے سابق وزیرِاعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ ارمندر سنگھ، بھارتی سیاستدان، کانگریس رہنما اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، اداکار و سیاستداں سنی دیول اور ہزاروں سکھ یاتری کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں موجود ہیں جن میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

وزیرِاعظم عمران خان نے من موہن سنگھ سے مصافحہ کیا اور ان کی خیریت بھی دریافت کی، ان کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اور دیگر وزراء بھی موجود ہیں۔

سابق بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کرتارپور آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
وزیرِ اعظم عمران خان سابق بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے گفتگو کرتے ہوئے

سابق بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ آج سکھ برادری کے لیے بہت بڑا دن ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔

وزیرِاعظم عمران خان اپنے دوست سابق کرکٹر اور بھارتی سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے بڑی گرم جوشی سے گلے ملے۔

وزیرِاعظم نے گردوارہ کرتاپور صاحب کا دورہ کیا اور وہاں انتظامات کا جائزہ بھی لیا، انہوں نے اس موقع پر سر پر صافہ بھی باندھا ہوا ہے۔

عمران وہ سکندر ہیں جنہوں نے دل جیت لیے: سدھو

بھارتی سیاستدان و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا کرتارپور راہدری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان وہ سکندر ہیں جنہوں نے کروڑوں سکھوں کے دل جیت لیے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عمران خان جیسے لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بنایا کرتے ہیں، پارٹیشن کے بعد پہلی بار یہ تاریں آج گری ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ عمران خان آپ کو احساس نہیں کہ سکھ قوم آپ کو کہاں لے جائے گی، آپ نے سکھ قوم کے دلوں کو فتح کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کسی نفع کے لیے نہیں رب کے واسطے اس راہداری کا افتتاح کیا ہے، کچھ عمران خان جیسے لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بنایا کرتے ہیں۔

سدھو نے یہ بھی کہا کہ سکھوں کی 4 نسلیں اپنے والد کے گھر آنے کے لیے ترستی رہیں، سکھ قوم کی آواز بن کر بول رہا ہوں، آج جپھی رنگ لے آئی ہے، عمران خان نے جو احسان کیا وہ ناقابلِ فراموش ہے، ان کا دل سمندر ہے۔

آج محبت کی راہدرای کا افتتاح ہے: وزیرٍ خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کرتارپورکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج کا دن تاریخی ہے، جب تاریخ رقم ہو رہی ہے، محبت کی راہدرای کا افتتاح ہو رہا ہے، اس کا سہرا وزیرِاعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہزاروں کی تعداد میں سکھ کمیونٹی کے لوگ یہاں آئے، دنیا بھر کے سکھوں کے لیے کرتار پور کھول دیا گیا ہے، بابا گرو نانک نے اپنی عملی زندگی سے خدمت کو فوقیت دی، ہمیں اپنے گریبانوں میں دیکھنا ہے کہ امن کو کہاں سے خطرہ لاحق ہے، پاکستان کی حکومت دو راہداریوں پرکام کررہی ہے، یہ راہداری خیرسگالی کی راہداری ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتار پور صاحب آج دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بن چکا ہے، موجودہ صدی کو ایشیاء کی صدی کہا جاتا ہے، کاش آج یہ محبت کا پیغام کشمیر کی وادی میں بھی پھیل جائے، ایک معاشی راہداری سی پیک ہے اور دوسری یہ محبت کی راہداری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے اور کرتار پور اس کا عملی ثبوت ہے، آج پاکستان میں گردوارے آباد ہیں، 400 مندروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے، ان کی تزئین نو کی جائے گی، بابا گرونانک کے محبت کے بوئے بیج آپ کو آج یہاں گلدستے کی صورت دکھائی دے رہے ہیں، کرتار پور راہداری تبدیلی کا عملی ثبوت ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے یہ بھی کہا کہ کرتار پور راہداری تبدیلی کا عملی ثبوت ہے، مودی سری نگر کی جامع مسجد کھول دیں تا کہ وہاں کشمیری نمازِ جمعہ پڑھ سکیں، اگر کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو ایل او سی کی عارضی بندش بھی کھل سکتی ہے۔

وزیرِ مذہبی امور کا تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کرتارپور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قلیل مدت میں کرتار پور راہداری مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک کی تعلیمات انسانیت کی خیر کے لیے ہیں، بابا گرو نانک نے اپنی زندگی لوگوں میں محبت بانٹنے میں گزاری۔

نورالحق قادری نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو کو بھی مبارک ہو، انہوں نے وزیرِاعظم کے کان میں یہ بات کہی تھی، عمران خان نے جو سکھ کمیونٹی کے ساتھ وعدہ کیا وہ انہوں نے پورا کیا، بھارت اور دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

کرتار پور راہداری کیا ہے؟

حکومتِ پاکستان نے 11 ماہ میں کرتار پور راہداری کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کرلی اور گردوارہ دربار صاحب کو دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیے: افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل، تصویری جھلکیاں

سکھ یاتری اسے بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے تحفہ قرار دے رہے ہیں، بھارتی سکھ یاتریوں کی طرف سے لائی گئی سونے کی پالکی یہاں نصب کر دی گئی ہے۔

حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ گردوارہ دربار صاحب پہلے 4 ایکڑ پر محیط تھا، اب اسے 42 ایکڑ پر وسعت دے کر دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بنا دیا گیا ہے۔

ارد گرد کی 8 سو ایکڑ اراضی بھی گردوارے کے لیے مختص کر دی گئی ہے، جبکہ گردوارے سے ملحقہ 26 ایکڑ اراضی پر باغات اور 36 ایکڑ پر فصلیں اگائی گئی ہیں، تزئین و آرائش کے علاوہ یہاں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

کرتار پور راہداری ویزہ فری ہے، بھارتی سکھ یاتری پاسپورٹ اسکین اور بائیو میٹرک تصدیق کروا کر صرف 20 ڈالر فی کس سروس چارجز ادا کر کے آسکیں گے تاہم جذبۂ خیر سگالی کے تحت 9 نومبر یعنی آج افتتاح کے موقع پر اور 12 نومبر بابا گرونانگ کے جنم دن کے موقع پر انٹری فری ہے۔

بھارت سے آنے والے یاتری صبح آ کر شام کو واپس چلے جایا کریں گے، کرتار پور راہداری کے راستے یومیہ 5 ہزار یاتری آ سکیں گے، گوردوارے کی سیکیورٹی کے لیے 215 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، مرد اور خواتین سکھ یاتریوں کے لیے الگ الگ تالاب بھی بنائے گئے ہیں۔

گوردوارہ صاحب کرتار پور اور بابا گرونانک

پاکستان میں سکھوں کے 2 مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب ہے، جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گردوارہ دربار صاحب کرتار پور ہے، جہاں بابا گرونانک نے اپنی عمر کے آخری 18 سال گزارے اور یہیں وفات پائی۔

یہ بھی پڑھیے:ہم نے نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کی، شاہ محمود

گردوارہ دربار صاحب کرتار پور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے جو لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اور پاک بھارت سرحد سے صرف 4 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

یہ گردوارہ دریائے راوی کے کنارے چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں آباد ہے، یہ گاؤں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتا ہے، سفید رنگ کا یہ خوبصورت گردوارہ دور سے دیکھنے میں ایک پرندے کی مانند لگتا ہے۔

گردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی نے اپنی عمر کے آخری 18 سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارے اور 22 ستمبر 1539ء کو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔

گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی، موجودہ عمارت 1920ء سے 1929ء کے درمیان پٹیالہ کے مہاراجا سردار بھوپندر سنگھ نے تعمیر کروائی، 1995ء میں حکومتِ پاکستان نے اس کی دوبارہ مرمت کی، جولائی 2004ء میں یہ گردوارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا، گردوارے کے باغیچے میں بابا گورو نانک کے زیرِ استعمال رہنے والا کنواں بھی ہے، جسے سکھ عقیدت میں ’سری کُھوہ صاحب‘ کہتے ہیں۔

تقسیمِ ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آ گیا تھا، تقریباً 56 سال تک سکھ زائرین اس کی زیارت کے منتظر رہے، انہوں نے بھارتی سرحد پر دور درشن استھان بنا رکھے تھے، جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے اس کا دیدار کیا کرتے تھے۔

سکھ برادری کئی دہائیوں تک راہداری کی تعمیر کا مطالبہ کرتی رہی، دونوں ممالک کی پچھلی حکومتوں نے 1998ء، 2004ء اور 2008ء میں راہداری کی تعمیر کے لیے ابتدائی بات چیت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھارتی کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی، جس میں اس منصوبے کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔

2018ء میں حکومتِ پاکستان نے کرتار پور راہداری اور گردوارہ دربار صاحب کی تعمیر و توسیع کا کام شروع کیا، صرف 11 ماہ کی قلیل مدت میں دریائے روای پر پل سمیت راہداری کی تعمیر اور گردوارے کی تعمیر و توسیع کا کام مکمل کر لیا گیا، 24 اکتوبر 2019ء کو دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔

گردوارہ دربار صاحب پہلے صرف 4 ایکڑ پر محیط تھا، اب اسے 42 ایکڑ پر وسعت دے کر دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بنا دیا گیا ہے، جس کے ارد گرد کی 8 سو ایکڑ اراضی بھی گردوارے کے لیے مختص کر دی گئی، جبکہ گردوارے سے ملحقہ 26 ایکڑ اراضی پر باغات اور 36 ایکڑ پر فصلیں اگائی گئی ہیں، تزئین و آرائش کے علاوہ یہاں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔