جدید صنعتی دور میں عالمی معیشت کو کس طرح ٹھیک کیا جائے؟

کامرس
December 25, 2019

عالمگیریت (گلوبلائزیشن) اور چوتھا صنعتی انقلاب (انڈسٹری 4.0) کی صورت میں، عالمی آبادی کا ایک بڑا حصہ دُہری مایوسی کا شکار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ، اس سے قبل عالمی معیشت سے مستفید ہونے اور پیچھے رہ جانے والوں کے درمیان اس قدر بڑے فرق کی کوئی نظیر نہیںملتی۔ ایسے میں عالمی معیشت پر لوگوں کی مایوسی حیران کن نہیں ہے۔

ہرچندکہ کئی ترقی یافتہ معیشتوں نے عالمگیریت اور حالیہ عشروں کے دوران ٹیکنالوجی میں جدت سے بے پناہ فوائد اُٹھائے ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں مڈل کلا س سکڑ گئی ہے، منڈیاں چند ایک شعبہ جات میں مرتکز ہوچکی ہیں (جس کا مطلب ہے روزگار کے کم مواقع اور مزدوروں کو کم اختیار) جبکہ وہاں پیداواری نمو اور اُجرت کے مابین تعلق کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

خوش قسمتی سے کئی اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں صورتحال مختلف ہے، جہاں لوگ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باعث زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ معلومات، منڈیوں، خدمات اور روزگار تک بہتر رسائی کے لیے مساوی میدان فراہم کرتی ہے، جس کے باعث اپنا کاروبار کرنے کا ارادہ رکھنے والے نئے افراد کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

تاہم، ایک بات ابھی واضح نہیں ہے کہ جب پیداوار کی بنیاد پر ترقی کا سابقہ ماڈل دھندلا جائے گا تو اس کی جگہ کون لے گا؟ مڈل کلاس میں شامل ہونے والے نئے لوگ اس بات سے پریشان ہیںکہ ان کے بچوںکو کامیابی کی طرف جاتا راستہ کھُلا ملے گا یا نہیں!

ایک سوسائٹی میںلوگوںکے اعتماد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انکی زندگی بہتری کی جانب گامزن ہے یا پہلے سے بدتر ہوگئی ہے۔ اس لحاظ سے کئی معیشتوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ ان کی آنے والی نسل کے لیے مواقع بڑھنے کے بجائے کم ہوتے جارہے ہیں۔

مشترکہ مقصد کی تلاش

عالمگیریت اور چوتھے صنعتی انقلاب کو منظم انداز میںآگے لے جانے کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوںمعیشتوں میں، مرکزی ترجیح ایک ایسے عمرانی معاہدے (سوشل کنٹریکٹ) کی تیاری کو دی جانی چاہیے، جو اجتماعی مفاد اور بنیادی معاشی تحفظ کے نظریہ کو بحال کرسکے۔ بہ الفاظِ دیگر، ہم اس بات کو کس طرح یقینی بناسکتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی، لوگوں اور معیشتوں میں تفریق اور بے چینی پیدا کرنے کے بجائے انھیں جوڑنے اور آگے لے جانے کا باعث بنے۔

اس سلسلے میں’چوتھے صنعتی انقلاب میں نئی معیشت کو ترتیب دینا‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تحقیق شائع ہوئی ہے، جس میں عالمی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے 4سوالات پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔

کیا ہمیں اس بات کا از سرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ’اکنامک ویلیو‘ کیا ہوتی ہے اور اس کیلئے کون سے عملی وسائل دستیاب ہیں؟

ڈیجیٹل معیشت نےپیداواری تخلیق میں اضافےکے لیے کئی ایسے رُخ متعارف کروائے ہیں، جنھیں روایتی تصور اور پیمائش کے معیارات میں مکمل طور پر شامل نہیں کیا جاسکا۔ خاص طور پر، نئی اقسام کے اثاثہ جات اور معاشی سرگرمیوںکو اچھی طرح نہیں سمجھا جاسکا اور صارفین کی بہبود (اور نقصان) کے نئے ذرائع کی مناسب پیمائش نہیں کی جاسکی۔

مثلاً وِکی پیڈیا پر معلومات کی دستیابی کی کیا قیمت ہے؟ یا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ہماری ذاتی زندگیوں میں داخل ہونے کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ مزید برآں، فوائد کو جس طرح تقسیم کیا جارہا ہے، اس کی بھی ادھوری تصویر پیش کی جارہی ہے اور یہ سوال بھی بہرحال اپنی جگہ موجود کہ معیشت میں ’ویلیو‘ درحقیقت کون پیدا کررہا ہے۔

اس سلسلے میں، معاشی افادیت پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کے لیے پانچ لائحہ عمل پیش کیے گئے ہیں۔ 1) نئے غیرمادی اثاثہ جات کی نشاندہی کرنااور حساب کتاب کرنا، 2) ڈیجیٹل سے حاصل ہونے والی ’ویلیو‘ کو اختیار کرنا اور اسے عالمی جی ڈی پی کا حصہ بنانا، 3) صارف کی فلاح و بہبود، بہتری اور سماجی ویلیو کے لیے اقدامات اُٹھانا، 4) تقسیم کی پیمائش کے نئے معیارات پر توجہ مرکوز کرنا اور اعداوشمار (ڈیٹا)کو الگ الگ کرنا، اور 5) ’ویلیو‘ کی بنیادی تعریف پر دوبارہ سوچ بچار کرنا، اشیا اور خدمات کی قدر بڑھانے اور صرف منافع بڑھانے کی جستجو میں فرق کرنا اور سرکاری و نجی شعبے کی طرف سے پیدا کردہ منڈیوں پر نظرثانی کرنا۔

کیا ہمیں آن لائن پلیٹ فارمز کے نتیجے میں ایک جگہ مرتکز ہوتی مارکیٹ پر نظرثانی کرنی چاہیے؟ فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے کس طرح متوازن بنایا جاسکتا ہے؟

نئی خدمات، بہتر چوائسز، اپنی پسند کی چیز کی جلد تلاش اور کم لاگت جیسے فوائد کے حامل ڈیجیٹل پلیٹ فارمزصارفین کی اولین پسند بنتے جارہے ہیں۔ اس کے ذریعے مارکیٹنگ کے ذرائع، قرضے، آمد و رفت اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی کی وجہ سے نئے کاروبار کرنے کیلئے بہتر مواقع دستیاب ہورہے ہیں۔

کیا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہمیں فعال اقدامات لینے پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور آج کی معیشت میں اس سے کیا مراد ہے؟

ٹیکنالوجی میں جدت کے باعث انسانوں اور مشینوں کے درمیان کام کی تقسیم میں بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے جب کہ عالمی لیبر مارکیٹس بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ اگرتبدیلی کے اس عمل کو ذہانت سے آگے بڑھایا جائے تو اچھے کام، اچھی ملازمت اور بہتر زندگی کے مقاصد کا حصول ممکن ہے، بصورتِدیگر زیادہ عدم مساوات اور یکطرفہ صورتحال کے خطرات بڑھ جائیںگے۔

کیا ہمیں ’سوشل سیفٹی نیٹس‘ کو نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے کے لیے کیا آپشنز ہیں؟

ترقی یافتہ معیشتوں میں رسمی کام اور مستحکم ملازمت کے معاہدوںکے ساتھ نتھی سوشل انشورنس پالیسیوں کی افادیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تعداد میں لوگ بے گھر ہورہے ہیں یا عدم تحفظ کے شکار ماحول میں کام کررہے ہیں، انھیں کم معاوضہ دیا جارہا ہے اور اچھی ملازمتوںتک رسائی کے مساوی مواقع میسر نہیںکیے جارہے۔ ترقی پذیر معیشتوں میں، جہاں کام زیادہ متنوع اور غیر رسمی ہوتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو کام کے اضافی مواقع فراہم کرنے کا رجحان جاری رہے گا، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان معیشتوںمیں مستقبل کا ’سوشل پروٹیکشن ماڈل‘ کس شکل کا ہوگا۔

یہ درست ہے کہ ملازمت کی نئی دنیا میں داخل ہونے کے لیے محنت کش کو معاونت کی ضرورت ہوگی، تاہم یہ بات ابھی زیرِ بحث ہے کہ اس معاونت کا دائرہ کار کتنا وسیع ہونا چاہیے اور سروس ڈیلیوری کے ذمہ دار کون ہونگے۔