ڈینگی کو پھیلنے سے روکنے کی دوا انسانی جسم میں موجود

دلچسپ و عجیب
January 19, 2020

Your browser doesnt support HTML5 video.

ڈینگی کو پھیلنے سے روکنے کی دوا انسانی جسم میں موجود

مچھروں کو جینیاتی طور پر تبدیل کرکے انسانوں میں ڈینگی بخار جیسی مہلک بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان لیب میں مچھروں کے اندر ایسا مدافعتی مادہ داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ بیماری مچھروں کی مزید نسلوں تک نہیں پھیلے گی۔

اس کام کے لیے سائنسدانوں نے انسانوں میں موجود قوت مدافعت والے پروٹین کو ان مچھروں میں داخل کیا جو اس ڈینگی وائرس سے لڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اس تجربے سے سائنسدانوں نے اخذ کیا کہ ایسا کرنے سے مچھروں میں موجود اس بیماری کے اثرات کو نہ صرف کم کیا جاسکتا ہے بلکہ اس وائرس کو کم بھی کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں یہ نہ صرف دوسرے مچھروں میں منتقل ہونے سے بچ جائے گا جبکہ کم اثر والے ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے ڈینگی بخار کا خطرہ بھی کم ہوجائے گا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے مادہ مچھروں میں ڈینگی مدافعتی پروٹینز کو داخل کیا جسے انہیں اینٹی باڈیز کا نام دیا۔

اینٹی باڈیز انسانی جسم میں قدرتی طور پر تیار ہوجاتا ہے جو ایک مدافعتی نظام ترتیب دیتے ہیں جو جسم میں موجود وائرسز اور جراثیموں کو دواؤں کی مدد کے بغیر ہی ختم کر دیتے ہیں۔

تاہم جب یہ وائرسز یا جراثیم انسانی جسم میں موجود مدافعتی نظام سے بھی قابو نہیں آتے تو انسان بیمار پڑنے لگتا ہے اور اسے دواؤں کی ضرورت پڑنے لگتی ہے۔

سائنسدانوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ڈینگی کے نہ پھیلنے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈینگی جیسا مرض ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوجاتا ہے۔

اس مرض کی وجہ سے گرم علاقوں میں رہنے والے اربوں لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔

ڈینگی کی وجہ سے بخار، قہہ آنا اور کبھی کبھی خون کا جان لیوا اخراج بھی شروع ہوجاتا ہے۔