ڈائیٹنگ بے اثر کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

صحت
January 19, 2020


Your browser doesnt support HTML5 video.

ڈائیٹنگ بے اثر کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

ماہر غذائیت دان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزن میں کمی کے خواہشمند افراد اپنے وزن کے اینکر پوائنٹس کو پہچان لیں تو وہ دوبارہ نہ صرف موٹے ہونے سے بچ جائیں گے بلکہ اپنے وزن کو متوازن بھی رکھ سکیں گے۔

غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف لندن کے بیریاٹرک سرجن ڈاکٹر اینڈریو جینکنسن نے بتایا کہ لوگ اپنا وزن تو کم کر لیتے ہیں لیکن وہ اس کو متوازن کیوں نہیں رکھ پاتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے کھانے میں کیلوریز کی مقدار کو گننے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اس نظریے کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے آپ کو اپنے جسم میں انسولین کی لیول کو کم کرنے اور کاربوہائیڈریٹس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس دوران آپ دن میں 2 یا تین مرتبہ کھانا کھاسکتے ہیں اور اس کے لیے ڈائیٹنگ کی بھی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر اینڈریو نے بتایا کہ انہوں نے یہ نتیجہ اپنے مریضوں کی روداد سن کر اخذ کیا ہے جو ڈائیٹنگ کرنے کے باوجود وزن کم نہیں کر پاتے بلکہ ان کا وزن مزید بڑھ جاتا ہے۔

ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر انسان کا وزن اور اس کی جسمات کے مطابق اس کی پیمائش دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسی وجہ سے دیگر ایک مختص ڈائیٹ پلان کے باوجود وزن کم ہونے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہی ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹرو ایڈریو کے مطابق انسانی جسم کی ساخت کے مطابق وزن ہو تو اسے متوازی رکھا جاسکتا ہے جبکہ اگر اسے اس کی مناسبت سے کم کر دیا جائے تو وہ دوبارہ موٹاپے کی جانب جانا شروع کر دیتا ہے۔

اس کی مثال انہوں نے ایک ربر بینڈ سے دی اور کہا کہ ہم جتنا زور سے ربر بیڈ کو کھینچیں گے یہ اتنی ہی تیزی کے ساتھ اپنی اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، جبکہ اگر اسے اس کی مقرر گنجائش کے مطابق کھینچا جائے تو اس میں قوت بھی کم لگے گی جبکہ واپسی آتے ہوئے مزید سکڑنے سے بچ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنی جسامت کے مطابق اس وزن تک جانے کی کوشش کرنی چاہیے اور متوسط وزن کے پیمانے کے مطابق خود کو دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ جسامت کی مطابقت سے زائد ڈائٹ پلان کریں گے یا کوشش کریں تو یہ کوشش بیکار جائے گی۔

غذا سے متعلق ڈاکٹر اینڈریو نے کہا کہ آپ کو مختلف صحت مند غذائیں جاری رکھنی چاہیئں اور ایسے غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں مصنوعی ویجیٹیبل آئل موجود ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں معاملہ کیلوریز کا نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ کھانے اور آپ کے طرز زندگی پر انحصار کرتا ہے۔

ڈاکٹر اینڈریو کا کہنا ہے کہ کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ فیٹ کی وجہ سے آپ کے جسم کا متوسط وزن بڑھنے لگتا ہے، لیکن ویجیٹیبل آئل کی وجہ سے میٹابولزم پر فرق پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ فاسٹ فوڈ یا پروسسڈ فوڈ ایسے غذائیں ہیں جن میں مصنوعی ویجیٹیبل آئل بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔