• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر ٹرمپ کی اچانک بھارت نواز حکمت عملی؟

نیویارک (تجزیہ : عظیم ایم میاں) صدر ٹرمپ کی اچانک بھارت نواز حکمت عملی؟ بیک ڈوربھارت- امریکا طویل مذاکرات، اسرائیل کی حمایت اور مشرق وسطی کے مستقبل کا جغرافیہ؟ نایاب معدنیات پر واشنگٹن میں کانفرنس ، بھارت موجود - پاکستان کی عدم شرکت ۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک بھارت سے کشیدہ تعلقات، ا مریکی ٹیرف کی بھارتی مصنوعات پر بھاری شرح ٹیرف اور پاکستان کی جانب واضح جھکائو اور تعریفی بیانات کے بعد بظاہر اچانک بھارت کو پاکستان پر عائد 19؍ فیصد امریکی ٹیرف سے بھی کم شرح ٹیرف 18 ؍ فیصد کی رعایت کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیراعظم کو ’’گریٹ مین‘‘ قرار دینے کا صد ر ٹرمپ کا رویہ محض بیانات کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کو بیش قیمت معدنیات کے بارے میں 4؍ فروری کو ہونے والی واشنگٹن کانفرنس میں بھی شریک نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کی جانب سے نایاب معدنیات کے تحفے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو دیئے گئے اور 5؍سو ملین ڈالرز کا ایک پاک امریکی سمجھوتہ بھی طے پاچکا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر واشنگٹن میں امریکی وزیر خا رجہ اور امریکی وزیر مالیات سمیت متعدد اعلی عہدیداروں سے ملاقاتوں اور مذاکرات میں مصروف ہیں اور نایاب معدنیات کے بارے میں ہونے والے اجتماع بھی شریک ہیں۔ بعض باخبر امریکی حلقوں کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کی صورتحال کے تناظر میں بھارت، امریکا خاموش اور بیک ڈورمذاکرات میں کافی کچھ انڈر اسٹینڈنگ طے پانے کے بعد بھارت کے لئے ٹیرف میں مثالی کمی اور بھارت کےبارے میں مثبت امریکی رویہ کی راہ اپنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کواسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تعاون کا بھی شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ ایران اور مشرق وسطی کی صورتحال سے اسرائیلی انداز میں نمٹنے کے لئے اسرائیل کو بھارت کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ کو امریکا کے داخلی محاذپر بھی سیاسی، معاشی اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے گو کہ ابھی صدر ٹرمپ کی میعاد صدارت ختم ہونے میں تین سال باقی ہیں لیکن امریکی کانگریس کے لئے مڈٹرم انتخابات اس سال کے آخر میں ہوں گے مڈٹرم انتخابات میں اگر سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں پر ڈیموکریٹ امیدواروں نے صرف چند اضافی نشستیں حاصل کرلیں اور امریکی ایوان نمائندگان میں بھی محض چند نشستوں کا اضافہ کرلیا تو صدر ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ دو سالوں میں ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے لئے بہت سے چیلنجز پیدا کرسکے گی۔ لیکن جس قدر تیز رفتاری کے ساتھ امریکی ری پبلکن صدر ٹرمپ عالمی سطح اور امریکا کے داخلی محاذ پر اپنی پالیسیوں اور اقدامات سے ایک طوفان اٹھائے ہوئے ہیں وہ ہر لمحہ دنیا اور امریکی عوام پر اپنے اثرات مرتب کررہا ہے۔ پاکستان کی پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور عملی فیصلے کرنے والوں کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ماضی قریب میں پاکستان اور اس کے فیصلہ سازوں کے بارے میں تعریفی کلمات کو ماضی کا حضہ قرار دیکر صدر ٹرمپ کی بھارت نو از حکمت عملی کے بارے میں تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ فکر کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں جغرافیہ اور مستقبل تبدیل کرنے کی کوششوں کیلئے جو نئی حکمت عملی اور نئے اتحاد کو وجود میں لایا جارہا ہے وہ پاکستان سمیت خطے کے مسلم ممالک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت کو بظاہر اچانک مخالفت سے ہٹا کر دوستی، تعاون اور مراعات سے سرفراز کرنے کی حکمت عملی طویل المیعاد سوچ اور فیصلوں کا نتیجہ ہے جسے محب وطن پاکستانی فیصلہ سازوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں سے مزید