• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرنسی کے نئے ڈیزائن تیار، کابینہ کو ارسال، 5 ہزار کانوٹ ختم کرنے کی تجویز زیرغور نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

اسلام آباد (مہتاب حیدر/کامرس رپورٹر) وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر انتظام کے بغیر پاکستان موجودہ معاشی ماڈل کے تحت آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نہیں نکل سکے گا‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اب تک ٹیکس نیٹ کو نمایاں طور پر بڑھانے میں ناکام رہا ہے‘نظام میں کرپشن اور لیکیجز موجود ہیں‘ بیرونی محاذ پر کوئی مالیاتی خلاموجود نہیں ہے‘تین ارب ڈالرکے رول اوورپر متحدہ عرب امارات سے بات چیت جاری ہے اور وزارت خارجہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے‘آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام کے تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات اسی ماہ ہوں گے ‘عالمی مالیاتی فنڈکا وفدفروری کے آخر تک پاکستان آئے گا‘ ورکنگ گروپس کی میٹنگزکے بعد این ایف سی کا اجلاس بلایا جائے گاجبکہ گورنر اسٹیٹ بینک محمد جمیل نے کہاہے کہ 5ہزار روپے مالیت کا نوٹ ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ‘10روپے سے لیکر 5ہزار روپے مالیت کے نئے کرنسی نوٹ ڈیزائن تیار کرکے منظوری کےلیے وفاقی کابینہ کو بھیج دیئے گئے ہیں‘نئے نوٹوں میں 15جدیدترین سکیورٹی فیچرز شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ نے کمرشل بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹ چارجزاور دیگر خدمات پر اضافی فیس وصول کرنے کے عمل پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی کہ ایسی فیسیں ختم کی جائیں‘چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے گورنرا سٹیٹ بینک کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینے اور آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔اس موقع پر وزیرخزانہ نے امارات سے تین ارب ڈالرقرض رول اوور کی ذمہ داری وزارت خارجہ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو وہی دیکھ رہے ہیں ‘جب سینیٹرز نے عرب امارات سے تین ارب ڈالر رول اوور کے بارے میں سوال کیا تو سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے اور اس معاملے کو دفتر خارجہ کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے تاہم وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ بیرونی فنانسنگ کا واضح منصوبہ شیئر کر چکا ہے اور حکومت اس پر کاربند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اماراتی حکام سے بات چیت جاری ہے اور دوطرفہ انتظامات درست سمت میں ہیں‘اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ معاملہ اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں نہیں اور اس پر وزارتِ خزانہ بہتر طور پر تبصرہ کر سکتی ہے۔ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن رواں ماہ کے آخر میں پاکستان پہنچے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت تیسرا جائزہ مکمل کیا جا سکے‘انہوں نے مزید کہا کہ چین میں چھٹیاں ختم ہونے کے بعدپانڈا بانڈ جاری کیا جائیگا‘وزیر خزانہ سینٹر اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ ایس ایم ایس پیغامات صرف رجسٹرڈ بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو بھیجے گئے تھے جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئی‘ انہوں نے مالی رازداری کی کسی بھی خلاف ورزی کی سختی سے تردید کی۔وزیر خزانہ نےکہا کہ انہیں اور سیکرٹری خزانہ کو بھی ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے ایسے ہی پیغامات موصول ہوئے ہیں ۔ اجلاس کے بعد ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ سپر ٹیکس کے تحت اب تک 70 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں جبکہ کل 217 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے لیے 1,028 ارب روپے کا ریونیو ہدف حاصل کر لیا جائے گا‘ایک علیحدہ بریفنگ میں گورنرمحمد جمیل نے بتایا کہ10روپے سے لیکر 5ہزار روپے تک کے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن مکمل کر لیے گئے ہیں جن میں 15 جدید ترین سکیورٹی فیچرز شامل ہیں‘ ان ڈیزائنز کی منظوری مرکزی بینک کے بورڈ نے دے دی ہے اور اب یہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے منتظر ہیں‘انہوں نے واضح کیا کہ 5,000 روپے کا نوٹ بند کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ کرنسی کے تمام نئے ڈیزائن اگلی میٹنگ میں جائزے کے لیے پیش کیے جائیں۔ کمیٹی نے کمرشل بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹ سروسز پر چارجز وصول کرنے پر سخت اعتراض کیا ۔

اہم خبریں سے مزید