22 کروڑ کٹھ پتلیاں

January 22, 2021

ایک انگریزی روزنامہ کے ادارتی صفحہ پر پرانی خبروں کا سلسلہ خاصا دلچسپ ہوتا ہے۔ ’’75سال پہلے‘‘ کے عنوان سے "FASCISTS" CONGRESS کی سرخی کے ساتھ خبر کچھ یوں ہے۔

"THE MUSLIM LEAGUE HAS GOT TO FIGHT THE BUREAUCRACY OF THE PUNJAB UNDER THE PUPPET LEADERSHIP OF MALIK KHIZR HYAT KHAN, AND HIS ASSOCIATES."

عقل مندوں کے لئے خبر کی مندرجہ بالا چند سطروں میں ہی بہت سے اشارے ہیں۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ پنجاب کھسکتا کھسکتا خضر حیات خان سے نواز شریف، شہبا زشریف اور پھر سردار عثمان بزدار تک آ پہنچا لیکن اس 75سالہ دائرے کے سفر میں کلچر جوں کا توں ہے۔ آج مسلم لیگ (ن) وزیر اعظم عمران خان کو PUPPET یعنی ’’کٹھ پتلی‘‘ اور PTIکو ’’فاشسٹ‘‘ جماعت قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف غور فرمائیں کہ ایسا کہنے والے خود کہیں جنرل جیلانی و جنرل ضیاء الحق کی کٹھ پتلیاں تو نہیں رہے جن میں سے ایک کو اربوں ڈالر ڈکارنے کے بعد آج کل ’’انقلابی و نظریاتی‘‘ بننے کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ آج کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں بھی کٹھ پتلی کی کٹھ پتلی جیسی اصطلاح زبان زد عام ہے۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یاد کریں کہ تب جسے برا بھلا کہہ رہے تھے، اس کے پینترا بدلتے ہی ’’تازہ خبر آئی اے، خضر ساڈا بھائی اے‘‘ کے نعرے کن لوگوں نے لگائے تھے؟سو آج اگر بلاول اور مریم پہلو بہ پہلو ’’جمہوریت کی بحالی‘‘ کی ’’جدوجہد‘‘ میں مصروف ہیں تو یہ سوچنا حرام ہوگا کہ بلاول ان زرداری صاحب کا فرزند ہے جن کی زبان نواز شریف کے حکم پر تراشی گئی تھی اور بلاول ان محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کا فرزند بھی ہے جن کے حکم پر مریم نواز کے بوڑھے بیمار دادا کو ڈنڈا ڈولی کرکے پولیس وین میں پٹخ کر تھانے لے جایا گیا تھا اور گھنٹوں دوائوں سے بھی محروم رکھا گیا۔

میرے بہت سے قارئین کو آج بھی وہ دن یاد ہیں جب میں مسلسل لکھ رہا تھا کہ ملکی وسائل کے کیک پر لڑنے والے ’’بابو‘‘ اور ’’بی بی‘‘ نے یہ کام اسی طرح جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں جب یہ دونوں بری طرح خوار ہونے کے بعد ایک ٹرک پر سوار ’’بحالی ٔ جمہوریت‘‘ کی تحریک چلا رہے ہوں گے اور پھر وہ وقت آگیا کہ ایک جدہ دوسری یو اے ای میں جلا وطن اور یہ سب اس لئے تھا، ہے اور رہے گا کہ ہماری سیاسی قیادتوں کا سیاسی دین ایمان ہے ہی نہیں۔ اقتدار ان کے لئے ’’توا پرات‘‘ ہے اور یہ محاورہ انہی جیسوں کو دیکھ کر معرض وجود میں آیا ہوگا:

جتھے ویکھاں توا پرات

اوتھے نچاں ساری رات

بی بی بابو لڑتے لڑتے چونچ اور دم گنوا بیٹھے تو ’’زمینی حقائق‘‘ کی روشنی یا اندھیرے میں دیدہ دلیری سے بہن بھائی بن گئے۔ آج بلاول، مریم کیس میں حالات نے سب کچھ ریورس کردیا۔ سو ان کے تعلقات کی شروعات تو بہن بھائی کے طور پر ہوئی ہیں لیکن کل کلاں اس اسلامی جمہوریہ جادو نگری میں اگر ان میں سے خدانخواستہ کوئی ایک بھی اقتدار میں آگیا تو ہفتوں کے اندر اندر دونوں سوکنوں کی طرح لڑنے نہ لگیں تو جو کسی منی لانڈرر کی سزا وہ میری ہوئی اور یہ بات میں اس بھروسہ پر لکھ رہا ہوں کہ اول تو مجھے منی لانڈرنگ کا اعزاز نصیب ہی نہ ہوا اور ہوا بھی ہوتا تو کیا ہے، بالآخر منی لانڈرر کی اپنی لانڈرنگ بھی ہو ہی جاتی ہے تاکہ وہ تازہ دم ہو کر پھر پانچ دس سال کی جمہوری دیہاڑی لگا سکے۔ یہ نظام دراصل ان لوگوں کے ’’نظام ہاضمہ‘‘ کے لئے چورن ہے۔ مگر مچھ جب خوب اچھی طرح پیٹ بھر کے کھا چکتا ہے تو اس کے لئے کافی دیر تک بے سدھ ہو کر لیٹنا، سونا اور آرام کرنا لازمی ہوتا ہے۔ مجھ جیسے بے وقوف جسے جیل سمجھتے ہیں وہ ان کا ڈرائی کلیننگ پلانٹ ہوتا ہے یا جمہوری خواب گاہ۔ عمران خان فیم پناہ گاہوں میں دھکے کھانے والے عوام اگر ان کی جیلوں کی فوٹیج دیکھ لیں تو جیلوں پر یلغار کر دیں۔

قارئین!

بات کہاں سے کہاں جا نکلی حالانکہ جس 75سالہ پرانی خبر اور اس کی سرخی سے اس کالم کا آغاز کیا تھا، مقصد اس کا صرف یہ بتانا تھا کہ اس ملک میں جو نوٹنکی چل رہی ہے، جو تقریریں ہورہی ہیں، جو الزام لگ رہے ہیں.... ان میں سے کچھ بھی نیا نہیں۔ یہی مدتوں سے ہمارا سیاسی اثاثہ، ورثہ اور شجرۂ نسب ہے۔ یہی ہمارا کلچر کہ یہاں تو باپوں نے بیٹے، بھائیوں نے بھائی اور سگے دامادوں بھانجوں نے ماموں سسر نہ چھوڑے اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک سائنسی انداز میں اس کی چیرپھاڑ نہیں ہوتی لیکن یہاں تو ہمیں ایک دوسرے کی کوڑھ زدہ کمریں کھجلانے اور آپس میں ہی جھوٹ بولنے سے فرصت نہیں۔

75 سال پہلے ملک خضر حیات خان ’’کٹھ پتلی‘‘ تھا۔

75سال بعد آج عمران خان ’’کٹھ پتلی‘‘ ہے۔

ہائے یہ 22 کروڑ قابل رحم کٹھ پتلیاں

جناں تیری مرضی نچا بیلیا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)