داسو ڈیم حادثہ اور غیرعلانیہ منی بجٹ!

July 25, 2021

داسو ڈیم حادثہ ایسے حالات میں پیش آیا ہے کہ جب افغانستان میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ امریکہ افغانستان سے نکل چکا ہے اور طالبان نے وہاں 85فیصد سے زائد علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ داسو ڈیم واقعہ میں امریکہ اور بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ افغان طالبان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ امریکہ اور بھارت چونکہ سی پیک سے خائف ہیں اس لئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ داسو ڈیم بس حادثہ میں 9چینی باشندوں کے علاوہ 3پاکستانی ہلاک اور 39افراد زخمی ہوئے ۔ حکومت پاکستان کو اس واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے پیش کرنے چاہئیں اورحفاظتی اقدامات کو مزید سخت بنایا جانا چاہئے۔ چین پاکستان کا دوست ملک ہے جو پاکستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ چینی باشندوں کی ہلاکت پر پاکستانی قوم دوست ملک کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے دونوں ملکوں میں خوشحالی آئے گی اور عوام کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔ بہت سی غیرملکی قوتیں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانا چاہتی ہیں اور اس کے لئے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان شاء اللہ یہ تمام سازشیں ناکامی کا منہ دیکھیں گی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کاسہ لیسی کی پالیسیوں کو ترک کرکے آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی جائے۔ بھارت بھی پاکستان کو نقصان پہچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اب بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع چناب میں پانی چھوڑنا تشویش ناک امر ہے۔ یہ ہندوستان کی روایتی ہٹ دھرمی اور شرمناک اقدام ہے۔ پانی چھوڑنے سے نالہ ڈیک کے نواحی دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب سے فصلیں تباہ، نشیبی علاقے زیر آب اور زمینی راستے منقطع ہوئے ہیں۔ حکومت متاثرین کو فوری امداد فراہم کرے۔ سیلاب کی روک تھام کے لئے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ مون سون کے آغاز سے قبل، حکمرانوں کی جانب سے بلند بانگ دعوے تو ہر سال کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر سال بارشیں کسی نہ کسی صورت میں درجنوں افراد کو ہلاک اور کروڑوں اربوں روپے کی معاشی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ اگر حکمرانوں نے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم تعمیر کیے ہوتے تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بڑے ڈیم بنانا ہوں گے تاکہ پانی کو زیادہ سے زیادہ دنوں تک کے لئے اسٹور کیا جا سکے۔

نوجوان ملک و قوم کا سرمایہ ہیں، ان کو درپیش مسائل فوری حل ہونے چاہئیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے نوجوانوں کو متاثر کرکے ووٹ بینک تو حاصل کرلیا مگر نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ نہ نوجوانوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کا کوئی اہتمام کیا بلکہ اربابِ اقتدار جونکوں کی طرح غریبوں کا خون چوس رہے ہیں۔ ملک کی 80فیصدآبادی کے بڑے مسئلے مہنگائی، بےروزگاری اور غربت ہیں۔ مہنگائی کا جن عوام کا حشر نشر کر چکا ہے۔ تبدیلی کے نام پر بلند بانگ دعوے اور وعدے عوام سے کیے مگر المیہ یہ ہے کہ موجودہ حکمران سابقہ حکمرانوں سے بھی بدتر نکلے ہیں۔ ان کو عوام کی مشکلات کا ٹھیک طرح سے ادراک ہی نہیں ہے۔ وسائل کے مطابق ہر ضلعی سطح پر نوجوانوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد ہونا چاہئے۔ حکومت نوجوانوں کو سماجی اور تعلیمی امور اور دیگر میدانوں میں آگے لانے کے لئے مواقع فراہم کرے۔ مہنگائی کا طوفان بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے بھی آٹے کا تھیلا 150، گھی 90اور چینی 17روپے فی کلو مہنگا کرنے کی منظوری بے حسی کی انتہا ہے۔ عید قربان کے آتے ہی ٹماٹر، پیاز، آلو، لہسن، خشک دودھ اور مسالا جات عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران 23اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ بجٹ کے بعد سے اب تک تین مرتبہ غیر علانیہ منی بجٹوں کے ذریعے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔ لگتا ہے کہ حکمرانوں کو عوام کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے۔ نئے پاکستان میں مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ حکمرانوں نے عید قربان کے آتے ہی مہنگائی میں اضافہ کرتے ہوئے عوام سے خوشیاں چھین لیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرول کی قیمت 118.9روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو ریلیف نہ دینے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ عوام حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں۔ بجٹ کے بعد غیرعلانیہ منی بجٹوں کے اثرات قوم کے سامنے آرہے ہیں۔ دیگر مسائل بھی دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ملک بھر سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویدار وزراء اپنے حلقوں کے عوام سے ہی پوچھ لیں کہ لوڈشیڈنگ کتنی کم ہوئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ حکمرانوں کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے ان سے نہیں ہوتا۔ ترقیاتی منصوبے ٹھپ پڑے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا نصف خرچ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک جمود کا شکار ہے۔ عوامی فلاح وبہبود کے سارے کام بند پڑےہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لئے کوئی واضح میکانزم موجود نہیں ہے۔ نا اہل حکمران اور روایتی بیوروکریسی نے عوام کا جینا محال کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ اسمبلیاں جاگیر داروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں سے بھری پڑی ہیں۔ عوام کے حقوق کی بات کرنے والا کوئی نہیں۔ مہنگائی، بےروزگاری، لاقانونیت اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔