• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پاور شو پیپلز پارٹی کی توقعات سے زیادہ بڑا تھا؟

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہےتاہم پی ڈی ایم ،پیپلز پاٹی اور جماعت اسلامی یہ احتجاج اپنے اپنے علیحدہ پلیٹ فارم سے کر رہی ہیں، پیٹرول ، ڈیزل آٹا ،چینی سمیت اشیا صرف کی قیمتوں میں اضافہ بڑھتی مہنگائی سے عوام سخت پریشان ہیں اور اپوزیشن اس صورت حال سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں تاہم اپوزیشن کی کسی بھی جماعت کا مقصد حکومت ہٹانا نہیں لگتا بلکہ اپوزیش جماعتوں کی یہ سرگرمیاں آئندہ انتخاب کی تیاریوں کا حصہ محسوس ہوتی ہیں اپوزیشن کے جلسوں اور احتجاج میں عوام کی تعداد بڑھتی جا رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے پی پی ہی نے سانحہ شہدائے کارساز کی 14ویں برسی، پرباغ جناح میں عوامی قوت کا مظاہرہ کیا جلسے سے اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری ،یوسف رضا گیلانی ، وزیرا علی سید مراد علی شاہ نثار کھوڑو ، سعید غنی ، ناصر حسین شاہ ، وقار مہدی ، عاجز دھامرا ، آصف خان ، شازیہ مری ، فیصل کریم کنڈی ، علی مدد جتک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین نے باغ جناح جلسے کو وفاقی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان نہ کھپے ، نہ کھپے ،نہ کھپے۔

عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکا ڈالنے والے وعدہ شکن حکومت کو سندھ کے عوام نہیں مانتے ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی حکومت کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانے دے گی ، جو آئین کے خلاف ہو ۔ ہم بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی چور اور کٹھ پتلی حکومت ملک کی تاریخ میں نہیں دیکھی ۔ حکومت تبدیلی نہیں تباہی لائی ہے ۔ حکومت کا ہر وعدہ جھوٹا دھوکہ ثابت ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں آمریت کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی کی ضرورت تھی ۔ 

آج بھی سلیکٹڈ حکومت گرانے کے لیے پیپلز پارٹی سفید پوش طبقے کی آخری امید ہے ۔ آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت عوام دوست ہو گی ۔ ہم مکان بنائیں گے ، چھت نہیں گرائیں گے ، غربت کو مٹائیں گے غریب کا خاتمہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت بھگانے تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ 

 جلسے کی کامیابی کے لیے پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، وقار مہدی، کراچی ڈویژن کے صدر سعیدغنی اور دیگر ساتھیوں نے بھرپور محنت کی تھی پی پی پی کی کارردگی پر تنقید کرنے والوں کے لیے یہ جلسہ توقع سے بڑا تھا تاہم پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پی پی پی نے پیسے دے کر سرکاری ملازمین کو سندھ کے دیگر شہروں سے جلسے میں لائے تھے تاکہ جلسہ کامیاب بنایا جا سکے ادھر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر حکمرانوں کی نااہلی، آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور ظالمانہ اضافے اوردیگر اشیاء کی قیمتوں سمیت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں بیت المکرم مسجد تا حسن اسکوائر،گلشن اقبال مین یونیورسٹی روڈ پر ”عوامی احتجاجی مارچ“ منعقد ہوا۔ 

مارچ سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سکریٹریز کراچی عبد الرزاق خان،یونس بارائی،مذہبی رہنما علامہ اطہر مشہدی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔مارچ میں شہر بھر سے مہنگائی و بے روزگاری اور حکومت کے ستائے ہوئے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مہنگائی، حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص کاکردگی پر نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تیز ہو تیز جدوجہد تیز ہو،انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب ،چینی مہنگی ہائے ہائے،آٹا مہنگا ہائے ہائے،جلنے دوجلنے دو غریب کا چولہا جلنے دو،ظالموں سے اقتدار چھین لو چھین لو کے نعرے لگائے۔شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔

دھرنے کے شرکاء نے حافظ نعیم الرحمن کے یونیورسٹی روڈ پر علامتی دھرنا بھی دیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت آٹا اور چینی مافیا قوم پر مسلط ہے،چوروں کاٹولہ ملک کو تباہ کررہا ہے جب کہ حکمران کہتے ہیں کہ ہم کرپشن ختم کررہے ہیں، حکمران عوام کو چینی اور آٹا کی مقدار کم استعمال کرنے کا کہتے ہیں، جب کہ خود اپنی عیاشوں کو بڑھانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے عوام پر مسلسل پیٹرول بم پھینکے جارہے ہیں اور اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں بارباراضافہ کیا جارہا ہے ادھر متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان) نے انٹرا پارٹی الیکشن انتہائی خاموشی سے کرا دیا جسکے نتائج کا اعلان 21اکتوبر تک متوقع ہے قائد ملت لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر جمع ہونے والے کارکنوں سے ووٹنگ کا عمل کرایا گیا ۔سندھ حکومت اور وفاق میں ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور یہ دونوں حکومتوں کی مجبوری بھی ہیں اس رسہ کشی کو انتخابی مہم بھی قرار دیا جاتا ہے تاہم اس رسہ کشی میں سندھ کے عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید