• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بشار حکومت کے ساتھ تعلقات بحال نہیں ہوسکتے ، امریکہ

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ انتھونی نے ایک بار پھر سے امریکہ کی جانب سے بشار الاسد کی موجودگی میں شام سے سفارتی تعلقات کی بحالی کو مسترد کردیا ہے۔ اسرائیلی اور اماراتی ہم منصبوں سے ملاقات کے دوران بلینکن کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت شام میں صرف انسانی ریلیف کے کاموں پر توجہ دے رہی ہے۔ بلنکن نے مشترکہ نیوز کانفرنس کے موقع پر کہا کہ ہم بشار الاسد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔بلنکن کا کہنا تھا کہ ہم نے شام پر عاید پابندیاں ختم نہیں کی اور نہ ہی شام میں اپنا موقف تبدیل کیا ہے کہ شام میں سیاسی تبدیلی لائی جائے۔ ہمارے نزدیک یہی اہم اور ضروری ہے۔امریکی حکومت نے سیزر ایکٹ نامی قانون کے ذریعے سے گزشتہ سال بشار الاسدکے ساتھ کام کرنے والی ہرکمپنی پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ عرب ریاستوں خصوصا اردن نے شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی شروع کر دی ہے اور رواں ماہ کے دوران اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم نے بشار الاسد سے فون پر بات کی تھی ، جو کہ خانہ جنگی کے بعد سے پہلا ایسا رابطہ ہے۔ اس کے علاوہ مصر اور اردن کی مدد سے شام نے لبنان کو تیل کی فراہمی کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ شام میں جنگ کی وجہ سے تقریبا 5 لاکھ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ اسی دوران انتہا پسند گروپ داعش نے بھی سر اٹھایا اور دہشت اور خوف کا ایک وقت گزرا۔بشار الاسد نے روس اور ایران کی مدد سے اپنی حزب اختلاف کو کچل ڈالا ہے ،تاہم شام کے شمالی علاقوں میں اب تک اس کااثر ورسوخ قائم نہیں ہوسکا۔
یورپ سے سے مزید