• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلادیش انتخابات میں بی این پی و اتحادی جماعتوں کو برتری حاصل

بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آگئی، بنگلا دیشی میڈیا کا دعویٰ، رپورٹس کے مطابق دو سو نناوے میں سے بی این پی کو ایک سو اٹھانوے نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی ایک سو اکاون نشستیں جیت چکی، غیرسرکاری نتائج کے مطابق بی این پی چیئرمین طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب، جماعت اسلامی 34 نشستیں جیت چکی۔مجموعی طور پر تنتالیس نشستیں جیت کر جماعت کے مرکزی اپوزیشن پارٹی بننے کا امکان ہے۔

جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی کو اس وقت تک صرف دو نشستوں پر برتری حاصل، طارق رحمان نے کہا کہ منتخب ہوا تو جن کے ساتھ مل کر تحریک چلائی ان کےساتھ مل کر ملک چلاوں گا۔

پارلیمانی انتخابات میں 299 نشستوں میں سے 194 نشستوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اتحادی نے 149 جبکہ جماعت اسلامی اور اتحادی نے 39 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔

حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پہلے الیکشن میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی میں کڑا مقابلہ چل رہا ہے، نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کی اتحادی ہے، پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔

سربراہ بی این پی طارق رحمان نے کہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کومحفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔

امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان نے الیکشن کو ملک کے لیے اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی خواہشات بدل رہی ہیں، ووٹنگ آزادانہ اور منصفانہ ہوئی تو ہم نتائج قبول کریں گے۔ 

نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام نے کہا کہ انھوں نے زندگی میں پہلی بار بغیر کسی پریشانی کے ووٹ ڈالا ہے۔

خیال رہے کہ بنگلادیش میں قومی انتخابات کیلئے 299  نشستوں اور ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی، ریٹرننگ افسران کو 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوگئے۔

 پوسٹل ووٹز ایپ کے ذریعے لیے گئے، بیرون ملک موجود 4 لاکھ 95ہزار 551 اور بنگلادیش میں موجود 6 لاکھ 48 ہزار 294 ووٹرز کے ووٹ موصول ہوئے،، پوسٹل ووٹنگ کیلئے بنگلادیش میں اور بیرون ملک موجود ووٹرز کی رجسٹرڈ تعداد 15 لاکھ سے زائد ہے۔

بنگلادیشی عوام کی اکثریت اصلاحات کی حامی

بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 66 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق 34 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے خلاف ووٹ کاسٹ کیا۔

ڈھاکا سے بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کا انتخاب کرنا تھا۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا، ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجاویز مانگی گئی ہیں۔

تجاویز میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد اور مستقبل کے انتخابات کے لیے غیر جانبدار نگراں حکومت کی بحالی شامل ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق تجاویز میں پارلیمنٹ کے لیے ایوانِ بالا کا قیام شامل ہے، جس میں 100 نامزد اراکین شامل ہوں گے، موجودہ منتخب ارکان کی تعداد 350 رہے گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید