• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آر رحمان کے دفاع میں معروف گلوکارہ انورادھا سامنے آگئیں

بھارت کے معروف موسیقار، ریکارڈ پروڈیوسر، گلوکار اور گیت نگار اے آر رحمان کے حالیہ بیان پر ہونے والی تنقید پر معروف گلوکارہ انورادھا پودوال ان کے دفاع میں سامنے آگئیں۔

یاد رہے کہ ایک انٹریو میں اے آر رحمان نے ہندی فلم انڈسٹری میں اپنے کم ہوتے کام کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلی نے ان تک پہنچنے والے کام کو متاثر کیا ہے۔

ان کے انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی بحث، جس میں بعض افراد نے ان کے تبصرے کو فرقہ وارانہ پہلو سے تعبیر کیا، پر ردِعمل دیتے ہوئے انورادھا نے تنقید کو مسترد کر دیا اور رحمان کو نہایت روحانی اور باوقار فنکار قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی موسیقی ہی ان کے کردار اور مقام کی عکاسی کرتی ہے۔

اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انورادھا نے واضح کیا کہ اگرچہ ان کی رحمان سے کبھی ذاتی ملاقات نہیں ہوئی، تاہم ان کے بارے میں ان کی رائے کئی دہائیوں تک ان کی موسیقی سننے اور ان کے کام کا مشاہدہ کرنے سے بنی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ میں اے آر رحمان کو ان کی موسیقی کے ذریعے جانتی ہوں۔ میری ان سے کبھی ذاتی ملاقات نہیں ہوئی، لیکن ان کی موسیقی بتاتی ہے کہ وہ ایک نہایت شریف انسان ہیں۔

تنازع کے وسیع تر تناظر پر بات کرتے ہوئے انورادھا نے کہا کہ میڈیا انٹرویوز میں اکثر فنکاروں کو سنسنی خیز ردِعمل دینے کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

موسیقی کی صنعت میں اپنے طویل تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرویو لینے والے اکثر سوالات کو اس انداز میں ترتیب دیتے ہیں کہ مطلوبہ ردِعمل حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس صنعت میں رہی ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی بھی فنکار، صرف اے آر رحمان نہیں، انٹرویو کے لیے بیٹھتا ہے تو انٹرویو لینے والا عموماً سوالات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ اپنی پسند کا ردِعمل حاصل کر سکے۔ 

حال ہی میں ایک انٹرویو میں اے آر رحمان سے پوچھا گیا کہ کیا بطور تامل موسیقار انہیں کبھی بالی ووڈ میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سوال کے جواب میں رحمان نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کسی امتیاز کو محسوس نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران انہوں نے انڈسٹری میں ایک تبدیلی محسوس کی ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید