• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر:عالیہ کاشف عظیمی

ماڈل : قدر ریاض

ملبوسات: کلیم کلیکشن

آرایش:دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی:عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

نصیر الد ّین نصیرکی ایک معروف غزل کا شعر ہے ؎ ’’آپ اِس طرح تو ہوش اُڑایا نہ کیجیے…یُوں بن سنور کے سامنے آیا نہ کیجیے‘‘، واقعی جب چہرے پر غازے، لالی کی آرایش ہو، کاجل کے حاشیے سے آنکھیں سنواری ، پیکرِ وجود کو دِل کش پیراہن اورہلکی پھلکی جیولری سے آراستہ کیا گیا ہو، تو حُسن گلوسوز سا لگنے لگتا ہے اورپھرجب کسی تقریب میںیہ سولہ سنگھار کیے کوئی من موہنی، پیاری سی صُورت سامنے آجائے، تو اپنا، پرایا کوئی بھی تعریف کیے بنا رہ نہیں پاتا ۔ تو لیجیے، ایسی ہی ہلکی پُھلکی تقریبات کے لیے، کچھ خُوش رنگ و خُوش نُماپیراہنوں سے مزّین ایک مَن موہنا سا انتخاب حاضرِ خدمت ہے۔

ذرا دیکھیے، سفید بیل باٹم اورسیاہ نیٹ کی پرنٹڈ گھیر دارفراک کا دِل رُبا سا انداز کیا خُوب لگ رہا ہے۔ پھر آتشی گلابی رنگ پیراہن کے بھی کیا ہی کہنے۔ ٹراؤزر کے باٹم اور قمیص کے فرنٹ پرایمبرائڈری خوش گوار تاثر دے رہی ہے، تو ساتھ شیفون کاپرنٹڈ دوپٹّا بھی جچ رہا ہے۔ اسی طرح سفید بیل باٹم کے ساتھ مسٹرڈ رنگ سیلف پرنٹڈ کُرتی بھی،جس کی ایک جانب تھریڈ ورک نمایاںہے ، جاذبِ نظرہے ،توگلابی رنگ ٹراؤزر، قمیص بھی ایک لاجواب انتخاب ہے کہ پلین ٹرائوزر کے باٹم پر پینٹکس جچ رہے ہیں، جب کہ میسوری فیبرک میں زَری اور دھاگے کے کام سے آراستہ قمیص کی دِل کشی و رعنائی بھی جوبن پرہے۔پھراسٹیل بلیو رنگ لباس بھی کچھ کم حسین نہیں کہ پلین ٹراؤزر پردھاگا ورک اورپرنٹڈ قمیص کے گلے پر نفیس ایمبرائڈری بہت ہی بھلی لگ رہی ہے ۔

اب آپ ان میں سے کوئی بھی رنگ و انداز منتخب کرلیں، کچھ زیادہ ہی بَھلی معلوم ہوں گی۔