• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بڑھتی ہوئی مہنگائی پر متحدہ بھی حکومت سے نالاں

سندھ بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں پی پی پی ،پی ڈی ایم جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج کیا گیا پی ڈی ایم کی جانب سے کراچی میں مہنگائی کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ 

مظاہرے سے جے یوآئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفوری حیدری ، جے یوپی کے سیکرٹری پی ڈی ایم رہنما شاہ اویس نورانی،مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ ، جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان،مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی دیگرنےخطاب کیا۔ 

مظاہرے میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوںکے کارکنان، ورکرز،شہریوںاور تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اورمہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری کے خلاف ہفتہ احتجاج کے سلسلے میں اتوار کو ملک بھر کی طرح سندھ کے مختلف شہروں حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، بدین، گولارچی، ٹنڈو باگو، شادی لارج اور تلہار میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن سے جماعت اسلامی کے صوبائی، ضلعی اور مقامی ذمہ داران نے خطاب کیا۔ 

مظاہرین نے مہنگائی کے خلاف شدید نعرےبازی کی اور ہاتھوں میں بینر و پلے کارڈاٹھا رکھے تھے جن پر حکمرانوں مہنگائی ختم کرو، غریب عوام کو زندہ رہنے کا حق دو جیسے نعرے درج تھے، اس موقع پر مہنگائی کے خاتمے، مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی اور قیمتوں پر کنٹرول کرکے روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی دسترس تک پہنچانے کے مطالبات پر مبنی قرار دادیں بھی منظور کی گئیں، دوسری جانب کراچی کے تاجروں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا ، پٹرولیم اور ڈالر کی قیمتوں میں کمی نہیں کی تو بزنس کمیونٹی اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں شامل ہو جائے گی ۔

تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ، متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان ) کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر ، سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ اور دیگر نے عسکری لان میں سندھ تاجر اتحاد کی جانب سے نیو جوبلی مارکیٹ کی افتتاحی تقریب اور محفل میلاد کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کو درست کرے اور تاجروں کو ریلیف دے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت خود گھر جائے گی یا ہم بھیجیں ، فیصلہ وہ خود کر لے ۔ 

وسیم اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی معاشی پالیسیوں کا ملبہ اتحادیوں اور عوام پر گر رہا ہے ۔ کراچی میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شہر قائد کے عوام کے لیے ایٹم بم ہے ادھر پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عجب تماشا ہے کہ تحریک انصاف کی کرپٹ، نااہل اور ناکام حکومت کی آڑ میں سندھ کی کرپٹ حکومت پیپلز پارٹی سیاسی غازی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

ملک میں جاری حالیہ مظاہروں کی قیادت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ گو عمران گو کے نعرے لگا کر پیپلز پارٹی کی بدانتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور تعصب پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں، پاک سرزمین پارٹی پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے پیچھے چھپنے نہیں دے گی اور پیپلزپارٹی کی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔ جہاں ایک جانب سندھ کی عوام پاکستان تحریک انصاف کی نااہل اور ناکام وفاقی حکومت سے بیزار ہیں وہیں پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور تعصب زدہ صوبائی حکومت سے بھی نجات چاہتے ہیں۔ پی پی پی کی جانب سے بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ 

بعض حلقوں کے مطابق یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ احتجاج کے لیے اپوزیشن کی جماعتوں کا سوئچ آن کر دیا گیا ہو اور حکومت کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ قبل از وقت انتخاب کا اعلان کرے یہاں تک کہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے بھی مہنگائی پر پی ٹی آئی حکومت سے ناراضی کا اظہار کیا ہے ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی اور قبل از وقت انتخاب کا اشارہ دے دیا ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت کا ساتھ جمہوریت بچانے کے لیے دیا تھاہمارے بغیر اگر جمہوریت بچ سکتی ہے تو ہم علیحدہ ہو سکتے ہیں، ادھر ایم کیو ایم میں مزید دھڑے بندیوں کی اطلاعات بھی آرہی ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے اچانک انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کے خلاف شہر میں بینر لگ گئےایم کیو ایم پاکستان کے آپس کے اختلافات کے باعث کئی روز گزر جانے کے بعد بھی اب تک انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ، ایم کیو ایم کے سابق سینئر رہنما اور تنظیم بحالی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے انٹرا پارٹی الیکشن کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا ہے۔ 

ادھر ایم کیو ایم کے سابق رہنمائوں نسیم آفتاب، ڈاکٹر صغیر احمد، انیس ایڈووکیٹ اوررضا ہارون نے سندھ کے شہری علاقوں کی ترقی کے لیے ایم کیو ایم کو متحدہ کرنے کی کوشیش شروع کر دی ہیں بعض حلقوں کے مطابق انہیں سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی بھی حمایت حاصل ہے، وسیم آفتاب کے مطابق یہ سب مل کر متحدہ کے تمام دھڑوں کو متحدہ ہونے کی دعوت دینگے اور جلد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرینگے۔ وسیم آفتاب کے مطابق کراچی کی بدحالی ختم کرنے ،نفرتوں کے خاتمے او شہریوں کے حقوق کے لیے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے رابطے کئے جائینگے۔ 

واضح رہے کہ ان رہنمائوں نے ایم کیو ایم کو خیر باد کہہ کر پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم جلد ہی انہوں نے پاک سر زمین پارٹی سے کنارہ کر لیا اب انکی کوشیش کتنی کامیاب ہوتی ہیں یہ آئندہ چند روز میں واضح ہو جائے گا۔ ادھر سندھ حکومت نے صوبے میں دو سال کے لئے الیکٹرک وہیکل اور موٹر سائیکل کی رجسٹریشن اور ٹیکسز میں بڑے پیمانے پر چھوٹ دینے اور سندھ میں الیکٹرک وہیکل / موٹر سائیکل کی رجسٹریشن اسلام آباد کے برابر لانے کی تجاویز تیار کر لیں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید