آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں سے ملنے بات کرنے کا دن۔
مبارک ہو ہم مزید تین ارب ڈالر کے مقروض ہوگئے۔
لیکن ہم نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی اڑان روک دی۔
سمندر پار پاکستانی آج کتنے غریب ہوگئے ہیں کہ ڈالر چار پانچ روپے کم ہوگیا ہے۔ ہمیں گورنر اسٹیٹ بینک سے پوری ہمدردی ہے ۔
ہم بھی کیسی قوم ہیں۔ ایک دشمن ملک جو سالہا سال سے ہم سے غیر مطمئن ہے۔ ہمیشہ مزید کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیبیا۔ عراق۔ افغانستان اور بہت سے دوسرے مسلمان ملکوں میں مسلم رہنمائوں اور لاکھوں عام مسلمانوں کو قتل کرنے والے افریقہ ایشیا لاطینی امریکہ میں لیڈروں اور عام انسانوں کو ہلاک کرنے والے جمہوریت کے نام پر قوموں کو غلام بنانے والے سامراجی ملک کی کرنسی کو اپنا محور و مرکز مانتے ہیں۔ اس کے اتار چڑھائو سے ہماری معیشتیں بھی تہ و بالا ہوجاتی ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں جو بڑی شان سے بہتے دریا دیے ہیں۔ میلوں میل لمبا سمندر دیا ہے۔ سونا اگلتی زمینیں دی ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں قیمتی پتھر۔ خشک پہاڑوں میں سونا تانبا اور دوسری دھاتیں دی ہیں۔ اس طرف ہمارے کسی رہبر۔ کسی سیاسی جماعت کی نظر نہیں جاتی۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جمہوریت کے علمبردار۔ وطن کی محبت کے دعویدار ۔ آئین کے پرستار۔ عوام کے درد سے آشنا کسی خاتون یا مرد سربراہ پارٹی۔ یا پارٹی کے صف اوّل کے رہنمائوں میں سے کسی نے گزشتہ 3سال میں اپنے کسی بیان میں معدنی یا زرعی وسائل کا حوالہ دیا ہو۔ کسی نے خود انحصاری یا خود کفالت کی بات کی ہو۔ زندہ قومیں سب سے پہلے اپنے وسائل کو دیکھتی ہیں ان پر بھروسہ کرتی ہیں۔ ان پر اکتفا کرتی ہیں۔ ساری حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ اپنے امکانات۔ اپنے وسائل پر جتنا انحصار ممکن ہو۔ وہ کیا جائے ۔ جب ان سے ضرورت پوری نہ ہو تو اپنی سرحد سے آگے دیکھا جائے۔ ہم تو دس ہزار میل دور واشنگٹن میں ہی اپنے مسیحا کو ڈھونڈتے ہیں۔ہمارا ہدف اپنے عظیم وطن کا خود کفیل ہونا یا اپنے وسائل پر انحصار کرنا نہیں ہے نہ اس کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ ہمارے رہنمائوں کا ہمارے میڈیا کا ہدف حکمران ہوتے ہیں یا ہمارے اپنے ادارے۔ ایسی ایسی تنقید اور ایسے الزامات کہ شرم آنے لگتی ہے۔ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ ہمارے دبائو۔ بیانیوں اور مہم سے تنگ آکر وہ اپنی اپنی حدود میںسمٹ جائیں گے۔ اور اگلے الیکشن میں وہ کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ وہ معاشرےکےافراد کو اپنی اپنی صلاحیت اور ذہانت استعمال کرنے دیں گے۔
ہماری یونیورسٹیوں میں کہیں سے آواز نہیں آتی۔
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
کوئی ایسی تحقیقی رپورٹ نہیں آتی کہ ہمارے وسائل اتنے فراواں ہیں کہ ہم اگر ان پر قناعت کریں تو ہمیں کہیں باہر سے قرض لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ کوئی یہ عزم نہیں کرتا کہ ہم اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیں گے ۔ پچھلے قرضے اتاریں گے۔ کوئی نیا قرضہ نہیں لیں گے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے کوئی موٹر وے کوئی سرکاری املاک یا پکی فصلیں گروی نہیں رکھیں گے۔ اپنے خرچ کم کریں گے۔ غیر ترقیاتی اخراجات صفر پر لے جائیں گے۔
قرضوں پر ندامت ہونے کی بجائے یہ مقابلہ ہوتا ہے ہم نے تو صرف اتنا قرضہ لیا تھا۔ موجودہ حکمرانوں نے تو قرضوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ آپ جب ایک سود خور کے قرض کے چنگل میں پھنس جائیں تو آپ کی نسلیں رہن ہوجاتی ہیں۔ ایک کا لیا ہوا قرض مع سود کے اگلی نسل کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس قرض کو اتارنے کے لیے آئی ایم ایف جیسے ادارے مزید قرض دینے کے لیے پیشکش کرتے ہیں۔ ایسی ایسی شرائط عائد کرتے ہیں کہ آپ کی نسلیں گروی ہوجاتی ہیں۔
ملک آزاد ہیں قومیں ہیں غلام
سسٹم ایسا ہے کہ نسلیں ہیں غلام
کوئی رہبر۔ دانشور۔ محقق اللہ کی اس عنایت پر فخر کرکے کوئی پروگرام نہیں بتاتا کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ جس کی 60 فی صد سے زیادہ آبادی 15 سے 25 کے درمیان ہے۔ اتنی بڑی نعمت۔ اتنی بڑی طاقت۔ لیکن ہم سب حکمران۔ رہنما ۔ دانشور۔ میڈیا۔ اساتذہ۔ اسکالرز ایسے نا اہل ہیں کہ ڈالر سے کہیں زیادہ قیمتی اس دولت سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ نوجوانوں کے دکھ درد معلوم کرکے ان کی توانائیوں کو ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے استعمال نہیں کرتے ۔وہ ملک کے کام نہیں آتے۔ جتنے ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ وہ بڑھتی عمر کے مسائل سے دوچار ہیں۔ نوجوان ان کے پاس نہیں ہیں۔ مگر انہیں تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان وہاں مصروفِ عمل ہوسکتے ہیں۔ تربیت یافتہ نوجوان پاکستان کو بھی ترقی کی راہ پر لے جاسکتے ہیں۔
چین ہمارا دوست ہے۔ ہر مشکل میں کام آنے والا۔ کیا ہم نے کبھی زحمت کی ہے کہ جاننے کی کوشش کریں اس نے کتنے سال بیرونی دنیا سے الگ رہ کر گزارے ۔ اپنے دست و بازو پر انحصار کیا۔ اپنی زمینوں پہاڑوں نوجوانوں سے فائدہ اٹھایا۔ پھر وہ اس قابل ہوگیا کہ آج دنیا کے سینکڑوں ممالک کو امداد دے رہا ہے۔ دنیا کی پہلی معیشت بن رہا ہے۔ بیجنگ کی طرف دیکھنے کی بجائے واشنگٹن ہی ہمارا محور و مرکز کیوں رہتا ہے۔ کیا ہم چین کی طرح اپنی معیشت کو طاقت نہیں بناسکتے۔ اب ہمارے پاس ایٹمی طاقت ہے ہمیں کسی دشمن سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہماری اکثریت تو وہ ہے جن کے پاس اپنی انتہائی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے۔ جس کے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ دولت ہے۔ ان کو آمادہ کریں کہ وہ اپنی ضرورت سے زائد دولت ان کو دیں۔ جن کی ضروریات بھی پوری نہیں ہورہی ہیں۔چین کی طرح ان علاقوں میں زیادہ ترقیاتی کام کریں۔ جو بہت پسماندہ ہیں۔ انہیں اپنے ترقی یافتہ شہروں کے برابر لائیں۔ سیالکوٹ ایک عظیم اور روشن مثال ہے۔ اپنے ایئرپورٹ اپنی ایئر لائن۔ کراچی لاہور ملتان پشاور فیصل آباد کو کیا سیالکوٹ سے سبق نہیں سیکھنا چاہئے۔حکمرانوں کی طرف نہ دیکھیں۔ اپنے ایم این اے۔ ایم پی اے ۔ سینیٹر پر دبائو ڈالیں کہ وہ اپنے علاقے کی تقدیر بدلے۔ اسلام آباد۔ لاہور۔ کراچی۔ کوئٹہ۔ پشاور میں وقت نہ گزارے۔ اپنے علاقے کے گلی کوچوں۔ صحرائوں میدانوں میں گھومے ، پھرے۔یہاں بہت کچھ ہے۔ ہم اپنے وسائل سے خود کفیل ہوسکتے ہیں۔ بات نہ مانیں تو اگلی بار انہیں ووٹ نہ دیں۔