• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی میجر عثمان کے پاس اصلی پولیس کا وائرلیس کہاں سے آیا؟

کراچی میں 7 کروڑ روپے کی اسمگلنگ شدہ چھالیہ پکڑوانے والے کسٹمز انٹیلیجنس کے مخبر فضل کے قتل کے مرکزی کردار جعلی میجر عثمان شاہ اصلی پولیس کی گاڑیاں اور ایک اعلیٰ پولیس افسر کا دیا گیا وائرلیس سیٹ استعمال کرتا تھا۔

خفیہ ادارے کا میجر ظاہر کرکے عثمان شاہ پولیس افسران کا اندھا اعتماد حاصل کرچکا تھا، گرفتار ملزم نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی تفتیشی ٹیم کے سامنے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق جعلی میجر عثمان شاہ سے سندھ کے اعلیٰ پولیس افسر کا وائرلیس سیٹ بھی برآمد ہوا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس افسر نے جعلی میجر سے متاثر ہوکر اپنا سرکاری وائرلیس سیٹ ملزم کو دے رکھا تھا، ملزم عثمان عرف میجر کے مطابق وہ وائرلیس سیٹ سے پولیس کمیونیکیشن کی مدد لیا کرتا تھا، وائرلیس سیٹ سے پولیس کی موومنٹ اور پوزیشن کی تفصیلات لی جاتی تھیں، ملزم وائرلیس پر ہونے والی بات چیت اور پولیس کے تمام کال سائن کی معلومات رکھتا تھا۔

پولیس تفتیش کے مطابق کسٹمز کے مخبر مقتول فضل کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ میجر عثمان نے ہی نکلوایا تھا، تفتیش میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سابق ایس ایچ او ہارون کورائی کے ساتھ فضل کو گھر سے اغواء کرنے میں بھی میجر عثمان شاہ شریک تھا اور چھالیہ مافیا سے مل کر مخبر فضل کے قتل کی منصوبہ بندی بھی میجر عثمان نے کی۔

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق مخبر فضل کو سرجانی ٹاؤن سے پولیس موبائل میں اغوا کرکے اسٹیل ٹاؤن میں قتل کیا گیا۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق قتل اور اغواء کے مقدمات میں جعلی میجر عثمان شاہ، سابق ایس ایچ او ہارون کورائی سمیت 6 ملزمان گرفتار ہیں۔

قومی خبریں سے مزید