• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فیض احمد فیض طویل خزاں سے نجات پانے اور بہار کے انتظار میں تھک جانے والوں کو تسلی دیتے ہیں کہ
آتے آتے یونہی پل بھر کو رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یونہی دم بھر کو خزاں ٹھہری ہے
اس ”پل بھر“ اور ”دم بھر“ کے عرصے میں ہم نے اپنی زندگی گذار دی ہے مگر نہ خزاں گئی ہے نہ بہار آئی ہے۔ بہار مستقل طور پر رکی ہوئی ہے اور خزاں دائمی طور پر کھڑی ہے قصور اس میں ہمارے رجائیت پسند شاعرکا بھی نہیں کہ دنیا امید پر قائم ہے اور مایوسی گناہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی تو فیض نے ہی کہا تھا #
دل نہ امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کچھ ایسے ہی حالات میں جاوید شاہین نے بھی شکایت کی تھی کہ
میرے بیش و کم کے پیچھے تیرا ہات ہے زیادہ
میرے دن بنانے والے میری رات ہے زیادہ
معاملات کی جو صورت اس وقت ہو چکی ہے اس میں ”وینٹی لیٹر“ پر سانس لینے والے بھی زندہ ہی کہلاتے ہیں۔ زندگی بچانے والی دوائیوں پر زندہ بھی زندہ ہی ہوتے ہیں اور جب سے میرا یو پی ایس (U.P.S) کام کررہا ہے میں اپنے حکمرانوں سے ناراض نہیں ہوں کہ داغ داغ اجالے اور شب گزیدہ سحر میں زندگی گذر رہی ہے مگر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل سے بلوچستان کے علاقہ مچھ تک اور وہاں سے چلاس تک پھیلی ہوئی اور جنازے کی صفوں میں در آنے والی دہشت گردی حدود سے تجاوز کرنے لگی ہے بلکہ کر چکی ہے۔ تھانے اور چھاؤنیاں بھی محفوظ نہیں ہیں اور
”کانپے “ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اگر جنگ چھڑ جانے کے اندیشے لاحق ہیں تو بہت سارے لوگوں کو امن کے چھڑ جانے کا خطرہ بھی ہے اور جنگ چھڑ جانے کے اندیشوں میں مبتلا کچھ لوگ کم ہوتے جارہے ہیں اور امن کے چھڑ جانے کے خطرے سے دوچار بہت ساروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
دمشق میں پھیلی ہوئی وہ قحط سالی بھی بہت ہی خوفناک ہوگی جس میں یار لوگ عشق تک بھول گئے تھے مگر یہ کیسا ”آشوب شہر“ ہے کہ جس میں لوگ پرامن حالات سے محفوظ رہنا چاہیں اور حالات کی کشیدگی میں اپنا مستقبل روشن دیکھیں۔ یہ لوگ امن چھڑنے کو جنگ چھڑنے سے زیادہ نقصان دہ سمجھ سکتے ہیں۔ہمارے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ ایک چھوٹے سے مچھر کی وجہ سے کیسے کیسے کاروبار چل رہے ہیں۔ مچھر دانیوں سے مچھر مار تیل، اینٹی ملیریا چھڑکاؤ اور کیسے کیسے انتظامات کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ سوچاا ور دیکھا جاسکتا ہے کہ معاشرتی تناؤ، ملکوں کے باہمی جھگڑوں، فرقوں کے خوفناک اختلافات کی وجہ سے کیسے کیسے کاروبار، روزگار، سہولیات، آسائیشات اور تعیشات کشید کئے جاتے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے اور ٹھیک کہا جاتا ہے کہ جیل کسی ملک یا معاشرے کا بہت محفوظ علاقہ ہونا چاہئے مگر سرکاری خزانے پر لگایا گیا حفاظتی تالہ تو جیل کے تالے سے بھی زیادہ حفاظت کا طالب ہوگا مگر سیاست کے ہر دور میں سرکاری خزانے پر لوٹ مار کی سب سے زیادہ یلغار بتائی جاتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ لوگ دونوں ہاتھوں سے سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ ابھی کل ہی میرے ایک عزیز جو کہ پولیس کے ملازم ہیں بتا رہے تھے کہ کسی صوبے کے چیف منسٹر کے اسلام آباد کے دورے کے سفری انتظامات پر کس قدر سرکاری خرچ اٹھتا ہے اور یہ سرکاری خرچ قومی خزانے پر ناجائز بوجھ قرار نہیں پاتا۔ معاشرے میں اور ملک میں اگر امن و امان کے حالات ہوں گے تو اس نوعیت کی فضول خرچی بھی جرم قرار پائے گی۔ ملک میں امن چھڑ جانے کے نقصانات کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کا عمل تیز ہو جائے گا۔
تازہ ترین