• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کی تجویز، اگلے سال انتخابات کا مطالبہ، ثاقب نثار آڈیو معاملہ ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا، PDM

ثاقب نثار آڈیو معاملہ ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا، PDM


اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کے معاملے کو ملک گیر سطح پر اٹھانے کا فیصلہ جبکہ 2022ء میں عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے

پی ڈی ایم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے غیر حاضر اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ گھر کی گواہی کے بعد عدلیہ پر سوالات اٹھ گئے، عدلیہ کویہ اعتماد انہیں اپنے کردارکی بنیاد پر بحال کرناہوگا، ماضی کے منتخب وزیراعظم کے خلاف سازشیں آشکار ہوئیں، سازش نوازشریف کیخلاف ہو یاکسی اور کے

یہ ملک کیخلاف سازش ہے، چند منٹو ں میں 33بل پاس کرنا عوام کے ساتھ مذاق تھا، مشترکہ اجلاس میں قانون سازی مسترد کرتے ہیں،یہ جعلی قسم کی قانون سازی ہے

حکومت کیخلاف 6دسمبر کے اجلاس میں انتہائی اہم فیصلے ہونگے، اوورسیز پاکستانی دھوکے میں نہ آئیں،انکی پارلیمنٹ میں نمائندگی کیلئے خود راہ ہموار کرینگے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں ہوا، اجلاس کے دوران گزشتہ روز اسٹیرنگ کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز و سفارشات پیش کی گئی جس پر غور کیا گیا۔

اجلاس 4 گھنٹے تک جاری رہا۔ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اپنی حاضری،تجاویز اور مشاورت کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا۔

اجلاس میں حکومت مخالف اتحاد کی جماعتوں کے ممبران نے شرکت کی۔میاں نواز شریف،شہبازشریف،مریم نواز نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال اور مریم اورنگزیب اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بالمشافہ موجود تھے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس کے بعد دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ دھوکے میں نہ آئیں ان کیلئے پارلیمنٹ میں نمائندگی کیلئے راہ ہم خود ہموار کرینگے

۔اس موقع پرمولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کیخلاف 6 دسمبر کو انتہائی اہم فیصلے کرنے کا اعلان کیا ۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی زعما، پارٹی قیادت بالخصوص نواز شریف اور انکی جماعت کے اہم شخصیات ماضی میں جو عدالتی فیصلے آئے اور جنکے ذریعے ان کو نااہل قرار دیا گیا، خود عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ ہوں، انکے محترم جج صاحبان کے ماضی کے وہ بیانات اور حال ہی میں گلگت بلتستان سے رانا شمیم کا بیان حلفی اور اب جو ثاقب نثار کا آڈیو آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کا احترام بھی کریں، ہم جج صاحبان کو اپنی آنکھوں پر بھی بٹھائیں لیکن اپنے گھر کی گواہیاں، اس حوالے سے جو عدالت پر سوالات اٹھے ہیں، انکی آزادی اور خود مختاری پر جو سوالات اٹھےہیں، ہم بڑے دکھی دل کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اپنے اس مقام کو انہوں نے اپنے کردار سے دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔

اب بہت مشکل ہوگیا ہے کہ جو سازشیں ماضی میں ایک منتخب وزیراعظم کیخلاف آشکارا ہوئی ہیں، چاہے اسکا تعلق نواز شریف یا انکی جماعت کے دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوئے ہوں یا دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کے حوالے سے ہوں وہ ملک کیخلاف سازش ہے۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ قانون سازی آئین سے متصادم ہے۔

دنیا ای وی ایم کو مسترد کر رہی ہے اور ہم اسکے ذریعے ووٹ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم اس پری پول دھاندلی کو مسترد کرتے ہیں۔

نواز شریف سمیت پارٹی لیڈران کیخلاف فیصلے آئے اور نااہل کیا گیا جبکہ رانا شمیم کے بیان کے بعد ثاقب نثار کی آڈیو آ چکی ہے تاہم ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن نواز شریف کیخلاف ہونے والی سازشیں آشکار ہو گئی ہیں اور یہ سازشیں کسی فرد کیخلاف نہیں بلکہ ملک کیخلاف ہیں جسکا خمیازہ آج ہم معاشی تباہی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ آج اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی برانچ بنا دیا گیا ہے اور کوئی پاکستانی شہری اسٹیٹ بینک کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ فضل الرحمٰن نے بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر کہا کہ ابھی کیس عدالت میں چل رہا ہے

اس حکومت کا خاتمہ کرنا ہو گا اس حوالے سے ہم ایک حکمت عملی کی طرف آگے بڑھا رہے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کے حق کی بات بھونڈے انداز میں کی گئی ،حکومت نے نوجوانوں سے ایک کروڑنوکریوں کا وعدہ کرکے فراڈ کیا، تجازات کے نام پر 50 لاکھ گھر گرا دیےگئے ۔

تازہ ترین