• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3 ارب سعودی ڈالر اسی ہفتے منتقلی کیلئے معاملات طے پاگئے، سعودی عرب کیلئے براہ راست پروازیں بھی شروع ہوں گی، وزیر اطلاعات


اسلام آباد / کراچی ( نیوز ایجنسیز / نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تین اچھی خبریں دی ہیں ، سعودی عرب سے 3؍ ارب ڈالر اسی ہفتے ملیں گے ، منتقلی کے معاملات طے پا گئے ۔

سعودی عرب کیلئے براہ راست پروازیں بھی شروع ہوں گی ، پٹرولیم ڈیلرز نے ہڑتال ختم کردی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب اور مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ برآمدات پر توجہ نہ دینا ہے ۔

ڈالر کی کمی پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے ضرورت پڑتی ہے ، سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کی تو وفاق ایکشن لے گا، جنگلات اراضی واگزار کرانا اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب نمائندہ جنگ مہتاب حیدر کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان برائے امور خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ آئندہ 60؍ روز میں پاکستان کو تین ذرائع سے 7؍ ارب ڈالرز ملیں گے ، ان تمام ڈالرز کے ذریعے درآمدی اخراجات کے موجودہ دبائو کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

تفصیلات کےمطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔

جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ آج تین اچھی خبریں ہیں، پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی ہے

سعودی عرب نے پاکستان سے براہ راست فلائیٹس شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور سعودی عرب سے تین ارب ڈالر منتقل ہونے میں تمام قانونی معاملات طے پا گئے ہیں، یہ رقم اسی ہفتے پاکستان کو مل جائے گی۔

ادھر جمعرات کو سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے معاشی استحکام اور ترقی کے لئے برآمدات میں اضافہ نا گزیر ہے ، برآمدات اور درآمدات میں حائل خلیج دور کرنے کے لئے سمندر پار پاکستا نیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر بہت اہم ہیں ، سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام سمندر پار پاکستا نیوں کے لئے مراعات اور متعدد سہولیات کا حامل منصوبہ ہے ۔

سمندر پار پاکستا نیوں کے لئے ٹیکس مراعات کا منصوبہ بھی لا رہے ہیں ۔ تقریب سے مشیر خزانہ شوکت ترین ، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی خطاب کیا ۔

وزیرِ اعظم کے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے سہولتیں فراہم کرنے کے ویژن کے تحت اسٹیٹ بینک نے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کا اجرا کیا ہے ۔

پروگرام کے تحت سٹیٹ بنک کے تفویض کردہ ذرائع سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے عوض سمندر پار پاکستانیوں کو ریوارڈ پوائنٹس حاصل ہوں گے جن کے ذریعے وہ سرکاری اداروں سے دی جانے والی خدمات کا مفت استعمال کر سکیں گے۔

اس مقصد کیلئے موبائل ا یپلیکیشن کا اجرا بھی کیا جا رہا ہے جس کے تحت سمندر پار پاکستانی اپنے ریوارڈ پوائنٹس کے عوض نہ صرف سرکاری اداروں کی خدمات حاصل کر سکیں گے بلکہ اس سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے اپنے علاوہ ایک بینیفشری کی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں جس کو یہ ریوارڈ پوائنٹس منتقل ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی ، 1960کی دہائی میں پاکستان اور ہانگ کانگ کی برآمدات برابر تھی جبکہ آج پاکستان کے مقابلے میں اس کی برآمدات کئی گنا زیادہ ہیں ، سنگا پور کی برآمدات آج 300ارب ڈالر سے زائد ہیں ، ملائیشیا کی برآمدات 260ارب ڈالر سے زائد ہیں ۔

وزیراعظم نے کہاکہ اس سال ہماری برآمدات تاریخ کی بلند تر ین سطح پر ہوں گی تاہم ماضی میں برآمدات پر توجہ نہ دینے کا نقصان پاکستان اٹھا رہا ہے ، ہماری معیشت میں جونہی بڑھوتر ی ہونے لگتی ہے ایک دم کرنٹ اکائونٹ پر دبائو پڑتا ہے ، ہمارے پیسے باہر زیادہ جاتے ہیں اور ملک میں کم سرمایہ آتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب تک 20بار آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے اس بھنور سے نکلنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اپنی برآمدات میں اضافہ کریں ، موجودہ حکومت اس کے لئے کوشاں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں ، مشکل وقت میں ان کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر سے ملک کی مدد ہوئی، ہماری حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے روشن ڈیجیٹل سمیت مختلف اقدامات اٹھائے ہیں ۔

قومی رابطہ کمیٹی برائے ہائوسنگ ،تعمیرات و ترقی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا سے جنگلات کی اراضی واگزار کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے

تجاوزات والی زمینوں پرپودے لگا کر جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ پاکستان کے سرسبز علاقہ میں اضافہ ہو سکے ۔

گندم اور کھاد کے ذخیرہ کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے منافع خوری اور ذخیرہ اندوز ی میں ملوث عناصر کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ، مافیاز کے ساتھ مل کر کھاد کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈائون اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ،ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں۔

وزیراعظم نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈائون اور قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چینی کے شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو کھاد کی صنعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے

اگر سندھ حکومت نے عوام دشمن مجرموں کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔کیونکہ سندھ حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کرنے سے سندھ سمیت ملک بھر میں کھادوں کی قیمتیں اور فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی ہیں،مافیا صارفین کے مفاد کا خیال رکھنے کے بجائے منافع خوری میں مصروف ہیں۔

ادھر نمائندہ جنگ مہتاب حیدر کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان برائے امور خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ آئندہ 60؍ روز میں پاکستان کو تین ذرائع سے سات ارب ڈالرز ملیں گے جن میں سے تین ارب ڈالرز کے ذخائر سعودی عرب دے گا جبکہ سعودی عرب 1.2؍ ارب ڈالر تیل کی موخر ادائیگیوں کی صورت میں دے گا۔

800؍ ملین ڈالرز کے تیل کی سہولت اسلامی ترقیاتی بینک سے ملے گی، ایک ارب ڈالرز سکوک بانڈز سے حاصل ہوں گے، ایک ارب ڈالرز آئی ایم ایف سے ملیں گے۔ ان تمام ڈالرز کے ذریعے درآمدی اخراجات کے موجودہ دبائو کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ 

اہم خبریں سے مزید