• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم سیٹھی نے لائیو ٹی وی پر بھارتی صحافی کی بولتی بند کردی

---اسکرین گریب
---اسکرین گریب

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے لائیو ٹی وی پر معروف بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی کی بولتی بند کردی۔

 نجم سیٹھی نے راجدیپ سردیسائی کے ساتھ لائیو پروگرام میں گفتگو کے دوران پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا۔

نجم سیٹھی نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کا 15 روزہ بائیکاٹ نوٹس کوئی جذباتی قدم نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی، جس کا مقصد آئی سی سی اور بنگلہ دیش کے ساتھ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور ملکی و غیر ملکی ماہر وکلا سے مشاورت کی۔ 

ان کے مطابق پاکستان کو یقین تھا کہ اس اقدام پر کوئی سخت پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اور زیادہ سے زیادہ ایک پوائنٹ کا نقصان ہو سکتا تھا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اب پاکستان مالی طور پر آئی سی سی پر انحصار نہیں کرتا کیونکہ پی ایس ایل نمایاں حد تک ترقی کرچکی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن آئی سی سی سے زیادہ ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز کا دباؤ بھی آئی سی سی پر اثرانداز ہوا، جس کے باعث پس پردہ مذاکرات شروع ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے بھی اس معاملے میں کردار ادا کیا اور بالآخر پاکستان کو میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے بات چیت ہوئی۔

گفتگو کے دوران راجدیپ سردیسائی نے مؤقف اپنایا کہ بھارت کرکٹ کی سپر پاور ہے اور دنیا بھارتی لیگ کھیلنا چاہتی ہے، پاکستان کرکٹ کو سیاست سے جوڑ رہا ہے۔

اس پر نجم سیٹھی نے تسلیم کیا کہ بھارت آئی سی سی ریونیو میں بڑا حصہ ڈالتا ہے اور بی سی سی آئی مالی طور پر مضبوط ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ آئی سی سی کو ایک آزاد اور منصفانہ ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے بگ تھری ریونیو فارمولے کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں ابتدا ہی سے اس نظام کے خلاف تھا کیونکہ وہ غیر منصفانہ تھا اور بعد میں اسے ختم کرنا پڑا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کو بیرون ملک لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی لیگز میں شرکت کرتے ہیں، انہوں نے بھارت پر دوطرفہ سیریز سے گریز کا الزام بھی عائد کیا۔

راجدیپ سردیسائی نے سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خدشات کا ذکر کیا، جس پر نجم سیٹھی نے جوابی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ الزامات یکطرفہ نہیں ہونے چاہئیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

جب سردیسائی نے سوال کیا کہ آیا یہ فیصلہ واقعی بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے لیے تھا یا سیاسی حکمت عملی، تو نجم سیٹھی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کی حکومت بھارت کے قریب رہی، جبکہ اب حالات بدل چکے ہیں۔

پروگرام کے اختتام پر سردیسائی نے نجم سیٹھی کی صاف گوئی کو سراہا، تاہم یہ سوال برقرار رکھا کہ آیا کرکٹ کے میدان کو سیاست سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید