• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راجہ مہدی علی خاں

ننھی شیلا ایک دن اپنی گڑیوں کے لئے چائے بنا رہی تھی کہ یکایک اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ شیلا نے خیال کیا کہ اس کی کوئی سہیلی اس سے ملنے آئی ہوگی۔ لیکن جب اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے تین بچوں کو گود میں لئے کھڑی ہے۔

اس عورت کے بازؤوں کے ساتھ، سات رنگ کے خوبصورت پر بھی لگے تھے اور ماتھے پر ایک ستارہ جگمگا رہا تھا اور لباس تو ایسا تھا، جیسے تتلی کے پروں کا بنا ہو۔

شیلا اسے مسکراتا دیکھ کر کہنے لگی۔ ’’ آپ کون ہیں‘‘؟

عورت بولی ۔ ’’میں ستارہ پری ہوں‘‘

شیلا نے پوچھا:’’آپ کو کیا کام ہے؟‘‘

ستارہ پری بولی۔ ’’ذرا مجھے اپنے گھر میں آنے کی اجازت دے دو۔‘‘

شیلا کہنے لگی۔ ’’گھر میں آ کر کیا کریں گی؟‘‘

ستارہ پری بولی ’’اپنے بچوں کو تمہارے غسل خانے میں نہلائوں گی۔‘‘

شیلا نے جواب دیا۔ ’’اچھا آجائیں اور اپنے بچوں کو نہلالیں۔‘‘

اب پری اپنے بچوں کو غسل خانے میں نہلانے لگی اور شیلا اپنی خوبصورت مہمان کو تواضع کے لئے دوڑ کر بازار سے بسکٹ لینے چلی گئی۔ واپس آئی تو دیکھا کہ اس کی خوبصورت مہمان غائب ہے۔ لیکن غسل خانہ خوشبوؤں سے مہک رہا ہے۔

شیلا نے حیرت سے غسل خانے میں ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ پری اپنا ایک خوبصورت دستانہ الگنی پر بھول گئی ہے دستانہ بہت پیارا تھا۔ اسے دیکھتے ہی شیلا کے منہ سے مارے خوشی کے ایک چیخ نکل گئی۔ اس نے دوڑ کر اسے پہن لیا۔ دستانہ پہنتے ہی وہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچ گئی۔

اس نے دیکھا کہ وہ بالائی کے ایک پہاڑ پر کھڑی ہے، جس سے دودھ کی ندیاں نیچے کی طرف بہہ رہی ہیں۔ پہاڑ پر چاندی کے چھوٹے چھوٹے چمچے بھی بکھرے تھے۔ شیلا نے ایک چمچہ اٹھا لیا اور بالائی کے پہاڑوں کی مزہ دار چوٹیاں کھانے لگی۔ بالائی کھانے کے بعد اسے پیاس محسوس ہوئی تو وہ نیچے اتر آئی۔ دودھ کی ندیوں کے کنارے مصری کے کٹورے رکھے تھے ایک کٹورا ندی کے دودھ سے بھر کر اس نے پیا اور پھر آگے بڑھی۔ ہر طرف باغ ہی باغ نظر آرہے تھے۔ جن میں رنگ برنگی شربت کے فوارے تھے۔ 

فواروں کے حوض کے کناروں پر زمرد کے چھوٹے چھوٹے گلاس رکھے تھے۔ اس نے ایک فوارے سے شربت کا ایک گلاس پیا۔ پھر دوسرے فوارے سے پھر تیسرے فوارے سے کیونکہ ہر فوارے کے شربت کا مزہ نیا تھا۔ اس کے بعد شیلا نے باغ کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ اس میں چہکنے والے پنچھی بھی مٹھائی کے ہیں۔ ایک کوئل اور ایک بلبل شیلا نے پکڑ کر کھاکر آگے بڑھی۔ آگے ایک بڑا خوبصورت بازار آگیا۔ جس میں ہر طرف پریاں ہی پریاں نظر آ رہی تھیں۔ شیلا ان میں جاگھسی اور بازار کا تماشا دیکھنے لگی۔

دکانوں پر بڑی عجیب چیزیں بک رہی تھیں۔ رنگ برنگ پھول تتلیاں، ستارے، موتی، اڑنے والے پنچھی، گلدان، مربے،چاکلیٹ اور طرح طرح کے کھلونے۔

یکایک شیلا کو ستارہ پری اپنے بچوں کے ساتھ ایک دکان پر کھڑی نظر آئی۔ وہ ایک دکان سے اپنے بچوں کے لئے نرگس کے پھول چرا رہی تھی۔

شیلا چلا کر بولی ’’ستارہ پری دکان دار کے پھول کیوں چرارہی ہو۔‘‘

ستارہ بری نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولی ’’شیلا میرے قریب آؤ۔‘‘

جب شیلا اس کے پاس آئی تو ستارہ پری نے اس کی آنکھوں پر اپنے نرم نرم ہاتھ رکھ دیئے۔ اور بولی ’’شیلا جو کچھ دیکھ رہی ہو نہ دیکھو۔ جو کچھ سوچ رہی ہو نہ سوچو۔ جو کچھ دیکھ چکی ہو بھول جاؤ۔‘‘

اس کے بعد ستارہ پری نے زور سے ایک خوبصورت قہقہہ لگایا اور اپنے نرم نرم ہاتھ شیلا کی آنکھوں سے ہٹالئے۔

شیلا ڈر گئی۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنا شروع کیا۔ اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اپنے بستر پر لیٹی تھی۔ اس کے بھیا کا سفید مرغا ککڑوں کوں ککڑوں کوں کر رہا تھا۔ آسمان پر صبح کا ستارہ اس کی طرف دیکھ کر شرارت سے مسکرا رہا تھا۔