امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ امیر اور بہتر ہے، صرف ایک سال میں نمایاں تبدیلی لائے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے دور صدارت کا پہلا اسٹیٹ آف یونین خطاب کررہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج امریکی تاریخ میں امریکی سرحدیں محفوظ ترین ہیں، 9 ماہ میں ایک بھی غیرقانونی شخص امریکا میں داخل نہیں ہوسکا۔ ہم قانونی طور پر ہمیشہ لوگوں کو امریکا آنے کی اجازت دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر میں غیرمعمولی کمی لائی گئی، 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پہلے ہم مردہ ملک تھے اور اب سب سے زیادہ پسندیدہ ملک ہیں، وینزویلا سے 18 ملین بیرل تیل حاصل کیا جارہا ہے، میں نے تیل کی تلاش کرو اور اسے نکالو کا وعدہ پورا کردیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا میں ڈی ای آئی ختم کردیا ہے، اسٹیٹ آف یونین مضبوط ہے، امریکا اتنا کامیاب ہورہا ہے کہ لوگ کہ رہے ہیں ہم مزید کامیابیاں نہیں سمیٹ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پچھلے سال میں نے کانگریس سے کہا کہ ٹیکس کٹوتی کریں اور ری پبلکنز نے یہ ممکن بنائی، ٹیکس کٹوتی پر ہر ڈیموکریٹ نے مخالفت میں ووٹ دیا، وہ ٹیکس میں اضافہ چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹپ پر ٹیکس ہٹایا اور اوور ٹائم پر ٹیکس ختم کیا، جو ممالک ہمیں لوٹ رہے تھے، وہ اب ادائیگیاں کررہے ہیں، ٹیرف کے باوجود تمام ممالک امریکا سے ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے کئی جنگیں ٹیرف کی مدد سے ختم کیں، ٹیرف آج کے دور کے انکم ٹیکس کی جگہ لے لے گا۔ بائیڈن دور میں ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
امریکی صدر نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے حکمنامے پر تنقید کی اور کہا کہ ملک میں انڈوں کی قیمتیں 60 فیصد کم ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑی انشورنس کمپنیوں کی بجائے رقم لوگوں کو دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ہیلتھ کیئر خود لیں، ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی لارہا ہوں جس میں دیگر صدور ناکام رہے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کے دوران الہان عمر اور رشیدہ طلیب پر تنقید بھری جملے بازی کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شرم آنی چاہیے جو رکن کانگریس غیرقانونی امیگرینٹس کو نکالنے کی راہ میں حائل ہیں، سیو امریکا ایکٹ کی حمایت کی جائے، ہم غیرقانونی امیگرینٹس کو نکال رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹیک کمپنیاں اپنے پاور پلانٹ بنائیں تاکہ بجلی کی قیمتیں عوام کے لیے کم ہوں، کانگریس سے کہتا ہوں کہ سنگل فیملی کے گھروں کو تحفظ دیں، میں سوشل سیکیورٹی اور میڈی کئیر کو تحفظ دوں گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ نینسی پلوسی میری بات پر کھڑی ہوجائیں، مجھے یقین نہیں آرہا، کانگریس سے کہتا ہوں کمرشل ڈرائیونگ لائسنس غیرقانونی شہریوں کو نہ دیں۔
تقریر کے دوران امریکی رکن کانگریس آل گرین نے صدر ٹرمپ کے سامنے بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں کانگریس عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اور اراکین کانگریس عمارت میں موجود ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے اہل خانہ بھی کانگریس کی عمارت میں موجود ہیں۔