• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیکریٹری جنرل ڈی 8 کی اہم ترک سیاسی و حکومتی شخصیات سے ملاقات

نائب صدر جودت یلماز اور ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود—تصویر بشکریہ رپورٹر
نائب صدر جودت یلماز اور ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود—تصویر بشکریہ رپورٹر

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں 8 ترقی پزیر ممالک کی تنظیم ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل، پاکستانی سفیر سہیل محمود نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں اہم ترک سیاسی و حکومتی شخصیات سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ان ملاقاتوں میں باہمی اقتصادی تعاون، ادارہ جاتی اصلاحات، تجارتی روابط کے فروغ اور آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔

ترک نائب صدر سے ملاقات: ڈی 8 کو مزید فعال بنانے پر زور

ترقی پزیر ممالک کی تنظیم ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے صدارتی محل میں نائب صدر جودت یلماز سے ملاقات کی، جہاں تنظیم کو زیادہ متحرک، منصوبہ جاتی اور نتائج پر مبنی ادارہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آذربائیجان کی شمولیت سے ڈی 8 کو جو نئی رفتار ملی ہے، اسے مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے مزید مستحکم کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ سیکریٹریٹ کی ادارہ جاتی اور مالی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ترکیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ بانی رکن کی حیثیت سے ڈی 8 کی عالمی سطح پر مؤثر موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

ملاقات میں آئندہ 14، 15 اپریل 2026ء کو جکارتہ میں منعقد ہونے والے ڈی 8 سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔

وزیرِ خارجہ حقان سے ملاقات: سفارتی و اقتصادی تعاون کا فروغ

وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے انقرہ میں سفیر سہیل محمود کا خیر مقدم کیا، ملاقات میں ڈی 8 کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور بدلتے ہوئے عالمی تجارتی حالات میں مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر گفتگو ہوئی۔

وزیرِ خارجہ حقان فیدان — تصویر بشکریہ رپورٹر
وزیرِ خارجہ حقان فیدان — تصویر بشکریہ رپورٹر

فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈی 8 پلیٹ فارم مسلم اکثریتی ترقی پزیر ممالک کے لیے عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، ترکیہ نے تنظیم کے اندر اپنی قائدانہ ذمے داریوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیرِ ماحولیات سے مشاورت: COP31 اور مشترکہ حکمتِ عملی

وزیرِ ماحولیات مراد کُرُم سے ملاقات کے دوران آئندہ منعقد ہونے والے COP31 اجلاس سے متعلق تیاریوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیر ماحولیات مراد کُرم  — تصویر بشکریہ رپورٹر
وزیر ماحولیات مراد کُرم  — تصویر بشکریہ رپورٹر

ترک وزیرِ ماحولیات نے ڈی 8 ممالک کے ساتھ ماحولیاتی تعاون، پائیدار ترقی اور مشترکہ ماحولیاتی ایجنڈے کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔

وزیرِ تجارت سے ملاقات: تجارتی روابط کے فروغ پر اتفاق

وزیرِ تجارت عمر بولات نے ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل کا وزارتِ تجارت میں استقبال کیا۔

ملاقات میں ترجیحی تجارتی معاہدے کے مؤثر نفاذ، رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی گئی۔

وزیر تجارت عمر بولات — تصویر بشکریہ رپورٹر
وزیر تجارت عمر بولات — تصویر بشکریہ رپورٹر

وزیرِ تجارت نے کہا کہ آذربائیجان کی شمولیت سے ڈی 8 مزید مضبوط ہوا ہے اور یہ پلیٹ فارم اسلامی دنیا میں زیادہ منصفانہ اور جامع اقتصادی تعاون کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے سفیر سہیل محمود کی سابقہ سفارتی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے نئے منصب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نائب وزیرِ خارجہ سے ملاقات: خیرسگالی اور مبارکباد

نائب وزیرِ خارجہ موسیٰ کُلاک لی قایا نے خیر سگالی ملاقات کے دوران سفیر سہیل محمود کو ڈی 8 کے سیکریٹری جنرل کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی۔

ملاقات میں تنظیمی ڈھانچے کی بہتری، باہمی روابط کے استحکام اور آئندہ اجلاسوں کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈی 8 کو عملی منصوبوں اور ٹھوس نتائج کے ذریعے رکن ممالک کے عوام کے لیے زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔

ڈی 8: تنظیمی پسِ منظر اور آئندہ لائحہ عمل

1997ء میں قائم ہونے والی ڈی 8 تنظیم بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل ہے، اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، عالمی معیشت میں ان کی پوزیشن کو مستحکم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر شرکت کو یقینی بنانا ہے۔

سفیر سہیل محمود کا یہ دورہ ترکیہ اور ڈی 8 کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ تنظیم کے اندر اصلاحات، اقتصادی انضمام اور عالمی سطح پر مؤثر کردار کے لیے پُرعزم ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ دورہ آئندہ جکارتہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گا اور ڈی 8 کو ایک زیادہ فعال اور مؤثر اقتصادی بلاک بنانے میں مددگار ہو گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید