کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید اور سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دوستوں میں اضافہ کرے نہ کہ دشمنوں میں اور افغانستان اور بھارت کی قربتیں بڑھ رہی ہیں جو پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کر رہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان سے قرارداد منظور ہوئی ہے اور اس میں بھارت اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے متعلق بات ہے اور خاص طور پر اس قرارداد میں ذکر کیا گیا ہے نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ہم شیعہ ایکسز اور سنی ایکسز کے خلاف ایک ریجنل الائنس بنانے جارہے ہیں اس کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا کہ انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ شروع سے ہے اور یہ آپس میں فرسٹ کزنز ہیں اور دونوں کے مشترکہ دشمن مسلمان ہیں۔ مودی نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کی تو انیل امبانی کو جیفری ایپسٹین کے پاس بھیجا کہ اسرائیل اور امریکہ کو بتادیں کہ سب سے بڑا دشمن انڈیا کا چین ہے اور پاکستان اس کی پراکسی ہے آپ جو کہیں گے ہم کریں گے ۔انڈیا اسرائیل کا گٹھ جوڑ ابھی تک ہے۔ بورڈ آف پیس میں ایران کے علاوہ تمام مسلم ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں میں سمجھتا ہوں ہمیں وہاں کشمیر کے مسئلہ کو بھی سامنے لانا چاہئے تھا۔