• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاملہ حل نہ کیا تو جانور وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے لاکر کھول دینگے

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کے صدر الطاف گجر نے کہا ہے کہ واٹر ٹینکرز کی ہڑتال کے باعث دو روز سے ہمارے جانور پیاسے ہیں ، حکومت نے معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہ کیا تو اپنے جانوروں کو وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے لاکر کھول دیں گے ۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو بلوچستان واٹر ٹینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے کوئٹہ میں واٹر ٹینکرز اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر ہیں اس سے براہ راست ڈیری فارم والے متاثر ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومتی بے حسی کے باعث کوئٹہ میں آئے روز لوگ احتجاج کرتے ہیں ، ضلعی انتظامیہ اور حکومت کو چاہیے تھا کہ کم از کم ان کے جائز مطالبات پر ان سے مذاکرات کرتی ، انتظامیہ کے روئیے کی وجہ سے پہلے ہی ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے اگر جانوروں کو پانی فراہم نہیں کیا گیا تو یہ بھی مرجائیں گے حکومت اور انتظامیہ کو کم از کم جانوروں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے واٹر ٹینکرز کو مزدا میں تبدیل کرنے کیلئے دو ماہ کا وقت دیا ہے مگر ضلعی انتظامیہ اور پولیس پہلے ہی واٹر ٹینکر مالکان کو 20 سے 25 ہزار روپے تک جرمانے کررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ محکمہ واسا اور پی ایچ ای نے عدالت میں ذمہ داری لی تھی کہ وہ کوئٹہ شہر میں پانی کا بحران پیدا نہیں ہونے دیں گے یہ دونوں محکمے اب کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو صوبائی وزیر لائیواسٹاک رہ چکے ہیں انہیں لائیواسٹاک کے شعبے سے منسلک افراد کے مسائل کا بخوبی ادراک ہے ۔ اس موقع پر واٹر ٹینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ انہوں نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کے رویہ سے مجبور ہوکر کوئٹہ شہرمیں پانی کی سپلائی بند کردی ہے، کوئٹہ شہر کے تھانوں کو ٹریکٹرز ڈرائیور اور ٹریکٹروں سے بھر دیا گیا ہے ،فی ٹینکر 40 ہزار روپے تک جرمانے عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر ٹینکرز کو کئے جانے والے اضافی جرمانے کا سلسلہ بندکیا جائے،ڈرائیوروں کو لائسنس واٹر ٹینکرز کو این او سی جاری کئے جائیں۔
کوئٹہ سے مزید