• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اومیکرون کے جینیاتی ڈھانچے میں 50 تبدیلیاں موجود

کراچی (نیوزڈیسک) جنوبی افریقا میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون د سمبر 2019 میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس سے کافی مختلف ہے ۔

اومیکرون کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں تقریباً 50 تبدیلیاں موجود ہیںجس میں 32تبدیلیاں اسپائیک پروٹین میں ہیں جن کے ذریعے کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔

کورونا وائرس کی نئی قسم کا تکنیکی نام بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن ہے۔ اور اس نئی قسم میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر اقسام سے زیادہ ہے۔جس کے باعث عالمی ادارہ صحت نے او می کرون کو Variant of concern یا باعث تشویش قرار دیا ہے ۔ اس سے قبل کورونا وائرس کی چار اقسام کو تشویش کا باعث قرار دیا گیا تھا ۔

ان اقسام کو دیکھا جائے تو مئی 2020 میں جنوبی افریقا سے کورونا کی نئی قسم Beta کے کیسز رپورٹ ہوئے ۔ یہ ویرینٹ یا قسم دنیا کے146 ممالک تک پھیلی اور اس کی اسپائیک پروٹین میں 10 تبدیلیاں نوٹ کی گئیں ۔

20ستمبر سے 19نومبر 2021تک اس کے پھیلاؤ کی شرح 0.1 فیصدسے کم دیکھی گئی ۔ جس کے بعد ستمبر 2020 میں برطانیہ سے ایک نئی قسم رپورٹ ہوئی جسے ایلفا کا نام دیا گیا ۔

یہ دنیا کے 197 ممالک تک پھیلی ۔ کورونا وائرس کی اس قسم کے پھیلاؤ کی شرح 20ستمبر سے 19نومبر 2021تک 0.1ایک فیصد سے کم دیکھی گئی ۔ البتہ اس کے اسپائیک پروٹین میں 11 تبدیلیاں نظر آئیں ۔

نومبر 2020 میں برازیل سے کورونا کی نئی قسم Gamma کے کیسز رپورٹ ہوئے ۔ یہ قسم دنیا کے 103 ممالک تک پھیلی اور 20ستمبر سے 19نومبر 2021کے دستیاب نمونوں میں اس وائرس کی موجودگی کی شرح 0.1 فیصد رہی ۔

گاما کے اسپائیک پروٹین میں 12 تبدیلیاں بھی نظر آئیں ۔ اکتوبر 2020میں بھارت سے کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا سامنے آئی ۔ جس نے دنیا کے 196 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اس کے اسپائیک پروٹین میں دس تبدیلیاں دیکھی گئیں ۔ مگر یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلا اور 20ستمبر سے 19نومبر 2021 تک جن سیمپلز کی جانچ کی گئی اس میں وائرس کی موجودگی کی شرح 99.8 فیصد دیکھی گئی ۔

ڈیلٹا کے برعکس نومبر 2021 میں جنوبی افریقا سے سامنے آنے والے اومیکرون کے کیسز اب تک دس یا اس سے زائد ممالک سے رپورٹ ہوچکے ہیں اور اب تک تحقیق کے دوران اس کے اسپائیک پروٹین میں 32 تبدیلیاں سامنے آچکی ہیں ۔

یاد رہے کورونا کی نئی لہر کی وجہ بننے والے ڈیلٹا میں ایسی صرف 10جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔مگر اومی کرون کے مہلک ہونے اور زیادہ پھیلاؤسے متعلق خدشات غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید