• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک بار پھر آئی ایم ایف کی ’’بالادستی ‘‘ کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ نئی شرائط کے تحت مذکورہ بین الاقوامی ادارے کی طرف سے ’’کلیدی عہدوں‘‘ پر تعینات کئے جانے والے عہدیداروں کو ’’منصوبہ بندی‘‘ کے مکمل اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ مشیر خزانہ نے آتے ہی جو بلند بانگ دعوے کئے تھے اور انقلابی اصلاحات لانے کے وعدوں کے سبز باغ دکھائے تھے وہ ان کے آئی ایم ایف سے ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے دوران ہی ’’کافور‘‘ ہو گئےتھے۔ گورنر اسٹیٹ بنک کی ’’ڈائریکشن‘‘ کو قبول کرنے کا بھی ان کو پابند بنا دیا گیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ’’ٹیکس اور سبسڈی‘‘ جیسے معاملات میں بھی حکومت کو بے بس کر دیا گیا ہے، اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ہی مشیر خزانہ کو سنیٹر بنا کر وفاقی وزیر خزانہ کا عہدہ دیا جا رہا ہے؟

وفاقی مشیر کے خصوصی اختیارات؟

دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ’’شاہ‘‘ سے قربت رکھنے والے ایک وفاقی مشیر کے ’’خصوصی اختیارات‘‘ کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی وفاقی وزراء بھی مذکورہ مشیر کو حاصل ہونے والے مذکورہ اختیارات سے ’’نالاں‘‘ دکھائی دے رہے ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں ’’رسائی ‘‘ رکھنے والے ایک اعلیٰ بیوروکریٹ سے رشتہ داری نے بھی ان کے کئی معاملات کو آسان بنا رکھا ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے سیاسی خاندان کے داماد حکومتی رکن اسمبلی بھی مذکورہ مشیر کی وجہ سے حکومت سے ’’ناراض‘‘ ہیں ۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پارٹی میں متحرک کردار رکھنے والی خاتون وفاقی وزیر سے زیادہ ’’کنٹرول‘‘ محکمہ میں اس وفاقی مشیر کو حاصل ہے؟

نیا انتخابی اتحاد؟

صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں جماعت اسلامی کا پس منظر رکھنے والے ایک حکومتی پارٹی کے سنیٹر کی سرگرمیوں کے حوالہ سے کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔یارلوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ سنیٹر طلباء کی سیاست سے لیکر اب تک ایک متحرک کردار کی صورت میں نمایاں رہے ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک کالعدم مذہبی جماعت کی بحالی اور ان کے رہنما کی رہائی کے بعد مذکورہ سنیٹر کی ان سے ہونے والی ’’ملاقات‘‘نے حکومتی پارٹی کے سیاسی منصوبوں کے بارے میں کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ’’منصورہ‘‘ والوں سے بھی پرانی رشتہ دار ی کی وجہ سے روابط بڑھانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت مذہبی کارڈ کے ذریعے ایک نیا ’’انتخابی اتحاد‘‘ بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید