• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ حکومت کا بلدیاتی بل: اپوزیشن نے مسترد کردیا

سندھ کی سیاست میں بلدیاتی انتخاب اہمیت اختیار کرگئے ہیں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخاب کے لیے صوبائی حکومت کوآخری مہلت دیئے جانے کے بعد سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات مارچ 2022  چاہتے ہیں۔ 

مردم شماری پر ہمارے آج بھی تحفظات ہیں ۔اس سے قبل سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شورشرابے کے باوجود سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 منظورکرلیا۔ ترامیم کے تحت صوبے میں بلدیاتی اداروں کو حاصل اختیارات میں کمی کرکے ان کے اختیارات اور ذمہ داریاں بھی حکومت سندھ نے اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ نئے قانون کے تحت ضلع کونسل ختم کرکے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن قائم کی جائیں گی۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی حدودمیں کوئی دیہی علاقہ نہیں ہوگا۔ یونین کمیٹیزکے وائس چیئرمینزٹاؤن میونسپل کونسل کے رکن ہوں گے۔

نئے بل میں میٹروپولٹین سسٹم میں اضلاع ختم کرکےٹاؤن نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ میئر، ڈپٹی میئر کا انتخاب شوآف ہینڈکے بجائے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ ٹاؤن میونسپل کونسل کے ارکان میئراور ڈپٹی میئرکا انتخاب کرسکیں گے۔ بلدیاتی اداروں کی مدت حلف اٹھانے سے لے کر چار سال تک ہوگی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کی آبادی 50 لاکھ سے زائد ہوگی۔پی ٹی آئی،ایم کیو ایم، جماعت اسلامی سمت دیگر سیاسی جماعتوں نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 کی منظوری پرشدید احتجاج اور تنقید کی ہے۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ سندھ حکومت کا بل پاس کرانے کا عمل اورطریقہ کار شرم ناک ،غیر جمہوری اور آمرانہ طرزعمل ہے۔ گورنرسندھ بل کی منظوری نا دیںاس بل کے ذریعے پی پی پی نے بلدیاتی اداروں کو اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔ اور یہ کراچی پر قبضہ کرنے کی سازش ہے جبکہ ایم کیو ایم نے سخت احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کئی ارکان نے اسمبلی کا گھیراؤ اور سندھ اسمبلی کی طرف مارچ کرنے کی تجویز دی ہے ایم کیو ایم نے اس حوالے سے کارکنوں سے رائے طلب کرلی ہے اور سندھ اسمبلی میں دیگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے پی ایس پی نے نئے بلدیاتی نظام کو جمہوری تاریخ پر بدنماداغ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام سے سندھ میں بے چینی پھیلے گی اور کراچی میں بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہے پاک سرزمین پارٹی نے بل کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کا اعلان کردیا ہے۔ 

وفاقی وزیر اسد عمر نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام کوعوام نے دھوکہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہاہے کہ سندھ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اس کیخلاف تحریک چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روایات کے برعکس آئندہ مردم شماری پانچ سال کے وقفہ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، نئی مردم شماری ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوگی، سندھ کے نئے بلدیاتی نظام میں رہے سہے اختیارات بھی چھین لیے گئے، کراچی کو اسکا حق دلائیں گے، وزیراعظم عمران خان دسمبر میں کراچی کے پہلے جدید بس منصوبے گرین لائن کا افتتاح کریں گے۔ سندھ اسمبلی سے پاس کرایا گیا مذکورہ بل آئندہ کی سیاست میں اہم کردار کا حامل ہوگا آئندہ دنوں میں یہ بل سندھ کی سیاسی جماعتوں میں تنازعے اور سیاسی کشیدگی کا سبب بھی بنے گا۔

لندن میں متحدہ کے سینئر سیاسی رہنمانے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے رابطہ بحال کرکے سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں ہلچل مچادی ہےوہ پانچ برس کے بعد کارکنوں سے رابطہ بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہو ں نے کراچی کے پانچ مقامات پر کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب بھی کیا ہے ان کاپہلا خطاب ملیر کینٹ کے قریب ایک علاقے میں تھا جبکہ پانچواں خطاب سوسائٹی سیکٹر میں کیا گیا تاہم ان کے ایک بار پھر متحرک ہونے پر سندھ کے شہری علاقوں میں سیاست تبدیل ہوتی نظرآرہی ہے اگر انہیں یہ موقع فراہم کیا جاتا رہا۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اہلیان کراچی تیار ہے تو دوڑ سے جدوجہد شروع کرنے کا وقت آگیا ہے اب فیصلہ کن صف بندی کا وقت آرہا ہے ایم کیو ایم کے کارکن سڑکوں پر نکلنے کی تیاریاں کریں، ہم صوبے کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، نئے بلدیاتی نظام کو رد کرتے ہیں غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا جس کو بھی مہاجروں کا اتحاد عزیز ہے وہ ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ہوجائیں22 اگست کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ 

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہاکہ ایم کیو ایم لندن کے بائیکاٹ کے باوجود ہم نے ساڑھے سات لاکھ ووٹ لیے کہاجارہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم لندن سندھ کی سیاست میں متحرک ہوئی تو ایم کیو ایم کے دھڑوں سمت پی ایس پی میں تصادم کا خطرہ ہے، ادھر نسلہ ٹاور کو منہدم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شہر میں کشیدگی رہی متاثرین نسلہ ٹاور سمت سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور احتجاج کرنے والے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈولپرز (آباد) کے رہنماؤں پر شیلنگ کی۔ـ"آبادـ" کی پریس کانفرنس کے دوران تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ان سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید